شہباز اور باجوہ کا لانگ مارچ سے سختی کیساتھ نمٹنے کا فیصلہ

14 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی 4 گھنٹے طویل ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا یے کی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام یقینی بنانے کے لیے عمران خان کے لانگ مارچ کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دو بڑوں کی ملاقات میں آرمی چیف کے علاوہ فوج کی جانب سے ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم، ڈی جی ملٹری آپریشنز اور کور کمانڈر پشاور نے شرکت کی جبکہ حکومت سائیڈ سے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، قمر زمان کائرہ، مولانا اسد محمد، امیر مقام، میاں افتخار حسین اور محسن داوڑ شامل ہوئے، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ کا ایک اور بنیادی ایجنڈا خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں تحریک تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی واپسی ہے جس کے خلاف سوات میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

سینئر صحافی نجم سیٹھی کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف کی میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا عمران خان کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنانا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے ذریعے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ملکی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اور مزید تباہی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نجم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست اس وقت جمود کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ فوری نئے الیکشن کے امکانات ختم ہوچکے ہیں اور نیا آرمی چیف بھی حکومت اپنی مرضی سے لگانے جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ان حالات میں عمران خان جہاں اس وقت کھڑے ہیں، آنے والے دنوں میں بھی یہیں کھڑے رہیں گے اور ان کو دبا کے رکھا جائے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ عمران خان کے حالات مزید دگر گوں ہوں گے اور وہ نااہلی کے بعد گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔ نجم نے کہا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور آئندہ عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔

نجم سیٹھی کا دعویٰ کیا کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی بڑھتی ہوئی زبان درازیوں کے بعد مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر موصوف ملکی معیشت اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بنتے ہیں تو انہیں فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خان صاحب لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی قسم کی سہولت نہیں ملے گی، بلکہ انہیں بڑا سخت ردعمل دیا جائے گا، اس معاملے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، ملک میں امن و امان کے قیام میں حکومت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اسی وجہ سے عمران بہت مایوس نظر آ رہے ہیں۔

آرمی چیف اور وزیراعظم کی 14 اکتوبر والی میٹنگ کے حوالے سے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کون سے فیصلے لیے گئے ہیں مگر اتنا ضرور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کون کون سے موضوعات پر بات کی گئی ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ ممکنہ موضوعات میں لانگ مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی اپنانے کے علاوہ سوات میں دہشت گردی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی ہو گی۔ نجم سیٹھی نے بتایا کہ فوج نے وفاقی حکومت کو اعتماد میں لیا ہے اور ہو سکتا ہے اگلے چند دنوں میں سوات میں چھوٹے پیمانے پر فوجی آپریشن ہوتا نظر آئے۔ اس سے قبل جنرل فیض طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے جو کہ ناکام ہو گے لیکن انکے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کی واپسی شروع ہو گئی جس کے بعد کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بہاولپور ٹرانسفر کر دیا گیا۔

Back to top button