16 اکتوبر کا ضمنی الیکشن عمران کیلئے سیاسی جوا کیوں ہے؟

اتوار کو ہونے والے ضمنی الیکشن سے پہلے عوامی حلقوں میں یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر سے جولائی کے ضمنی انتخابات کی طرح پرفارم کرتے ہوئے اکثریتی نشستیں جیت لے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس سے عمران خان کو کیا فائدہ ہو گا اور حکومت کو کیا نقصان ہو گا۔ یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 9 میں سے 7 نشستوں پر عمران خان خود امیدوار ہیں حالانکہ ان کی جماعت پارلیمنٹ چھوڑ چکی ہے۔ جولائی میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں 15 سیٹیں جیت کر تحریک انصاف پنجاب حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی تھی اور حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الہٰی وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر تحریک انصاف اگر 16 اکتوبر کو تمام نو سیٹیں جیت بھی جائے تو اس سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا چونکہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر عمران خان اپنی تمام 7 نشستوں پر بھی الیکشن جیت جائیں تو بالآخر انہوں نے استعفی دینا ہے لہذا اس سے وفاقی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ عملی طور پر طے ہو چکا ہے کہ عمران کا فوری نئے الیکشن کا مطالبہ رد چکا ہے اور اگلے عام انتخابات اب موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے، لہذا تحریک انصاف یہ الیکشن جیت بھی لے تو حکومت کو فرق نہیں پڑتا۔ البتہ اگر عمران سات سیٹوں میں سے بطور امیدوار دو یا تین بھی ہار جاتے ہیں تو ان کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا لگے گا۔
16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان اتوار کو پنجاب، خیبر پختون خواہ اور سندھ سے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات جیت کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن یہ کوشش ان کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی سندھ اور خیبر پختونخواہ سے 2 ضمنی انتخابات جیت چکی ہے لیکن اس کے منتخب ایم این ایز نے حلف نہیں اٹھایا۔ لہٰذا ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے مخالف امیدوار یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ دینے کا مطلب اپنا ووٹ ضائع کرنا ہوگا تاہم خان صاحب 7 سیٹوں کے ضمنی الیکشن جیت کر شاید صرف یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کے حامی ان کے بیانیے پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں، اور اگر وہ قومی اسمبلی واپس نہ بھی جائیں تو بھی انکے ووٹرز انہیں ووٹ دیتے ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران کو زیادہ ترحلقوں میں مسلسل مہم چلانے اور اپنے کارکنوں اور حامیوں کو مکمل چارج رکھنےکی وجہ سے واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ سات میں سے کتنےحلقے جیت سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ سات لیتے ہیں تو یہ ان کےحامیوں کو مزید چارج کردے گا اور وہ لانگ مارچ کیلئے کوئی بھی لائن آف ایکشن لے سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ان سات میں سے دو یا تین سیٹیں بھی ہار گئے تو انہیں سیاسی طور پر دھچکا کا پہنچے گا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران حکومت کے خاتمے کے وقت پنجاب میں پی ٹی آئی مکمل طور پر زوال پذیر تھی اور 2021 میں زیادہ تر ضمنی انتخابات ہار گئی تھی۔ لیکن پھر امریکی سازش کے بیانیے نے اسے پذیرائی بخشی اور اس نے اپنی مخالف (ن) لیگ کو ضمنی انتخابات میں 20 میں سے 15 نشستیں جیت کر حیران کر دیا۔ لیکن اس حکمت عملی کے باوجود عمران اور پی ٹی آئی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے ہچکچا رہے ہیں، جہاں پی ٹی آئی نے 2018 کے بعد تمام منتخب اداروں کو تحلیل کر کے منتظمین کو نامزد کر دیا تھاجو کہ کراچی میں اس کی پوزیشن سے متصادم ہے۔
مظہر عباس کے بقول عمران خان کا قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ خان صاحب نے خود لیا کیونکہ وہ یہ موقع نہیں دینا چاہتے تھے کہ پی ٹی آئی نے 2018 میں جو سیٹیں جیتی تھیں، وہ مخالفین کو خاص طور پر ایسے وقت میں مل جائیں جب وہ اسلام آباد مارچ کیلئے کال دینےکے قریب ہی تھے اگر وہ اتوار کے انتخابات میں کلین سوئپ کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف پارٹی کے مومینٹم کو مارچ سے پہلے بہت زیادہ بڑھوتری ملے گی بلکہ پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں مدد ملےگی جہاں انکی پارٹی قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 25 نشستیں رکھتی ہے۔ حکمران پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ اور خاص طور مسلم لیگ (ن) کیلئے عمران کی پنجاب میں پےدر پے کامیابیاں آئندہ سال الیکشن سے پہلے ایک ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے۔
حیران کن طور پر اتحادی اور ن لیگ اتنے پرجوش اور فعال نظر نہیں آرہے جتنا وہ صوبائی حلقوں کےضمنی انتخابات میں نظر آئےجب مریم نواز نے بھی بڑے جلسے کیے تھے۔ تاہم اگر پی ڈی ایم چند سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اس کا کوئی بھی امیدوار عمران کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ حکمران اتحاد کے لیے بہت بڑا بونس ہوگا۔ لہذا اتوار کا ضمنی الیکشن ایک طرح سے عمران خان کے لیے ایک سیاسی جوا بھی ہے۔
