صدر علوی نے 5 سال عمرانڈو بن کر کیسے گزارے؟

مدت صدارت ختم ہونے کے باوجود عمرانڈو صدر ڈاکٹر عارف علوی نئے صدر کے منتخب ہونے تک ایوان صدر ہی کے مکین رہیں گے اور بطور صدر اپنی فرائض سر انجام دیتے رہینگے۔
ڈاکٹر عارف علوی کی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے اور ان کا شمار سابق وزیراعظم عمران خان کے قابلِ اعتماد دوستوں میں بھی ہوتا ہے۔ اپریل 2022 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل تک صدر عارف علوی ایوان صدر کی ذمہ داریاں ہموار طریقے سے نبھاتے رہے لیکن اپنی پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔
ڈاکٹر عارف علوی کا 5 سالہ دور بطور صدر روایتی صدور کی بجائے ایک پی ٹی آئی ورکر کی طرح رہا ہے۔ انھوں نے ایوان صدر میں بیٹھ کر بھی ایک پکے عمرانڈو کی طرح عمران خان اور تحریک انصاف کے مفادات کی نگہبانی کی بھرپور کوشش کی۔
صدر علوی کے دور میں سب سے بڑا ٹاسک نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری پر دستخط کرنا تھا جس کے لیے وہ خصوصی طور پر اسلام آباد سے لاہور عمران خان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے اور ملاقات کے بعد فوری طور پر سمری پر دستخط کردیے۔صدر عارف علوی نے قانون سازی کے متعدد معاملات میں عمران خان کو اعتماد میں لیا تاہم کچھ قانون سازی ایسی بھی ہوئی جس سے عمران خان واقف نہ تھے۔
عمران خان نے مزاحمت کی سیاست کا آغاز کیا تو صدر ڈاکٹر عارف علوی نے انہیں دفاعی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے۔9 مئی کے واقعے کے بعد جب تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا تو صدر مملکت نے عمران خان کو پارٹی بچانے کا مشورہ دیا اور دفاعی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا تاہم عمران خان ان کی بات سے ناراض ہوئے اور کئی دنوں تک رابطہ منقطع رکھا بعدازاں دونوں کے درمیان رابطے بحال ہوگئے تھے۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی پر استعفیٰ کا دباؤ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا اورانہیں ہٹانے کے لیے مختلف قانونی آپشنز پر بھی غور کیا گیا لیکن مخالفین کو کامیابی نہ مل سکی۔حال ہی میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی منظوری کے معاملے پر جب صدر مملکت نے ٹویٹ کے ذریعے ایکٹ کی منظوری کے معاملہ پر تنازع کھڑا کیا تو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایک بار پھر ان پر استعفیٰ کا شدید دباؤ سامنے آیا۔
خیال رہے کہ صدر مملکت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا قانون منظور نہیں کیا بلکہ بل کو واپس بھیج دیا تھا تاہم اس کے باوجود بل منظور کرلیا گیا
اس کے علاوہ عام انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر بھی عارف علوی کا موقف اتحادی حکومت اور الیکشن کمیشن کے نقطۂ نظر کے برعکس رہا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے حکام کو ملاقات کے لیے بلایا لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے میں سردمہری کا مظاہرہ کیا گیا۔
صدر عارف علوی کو ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کئی اعتبار سے آئینی تحفظ حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر تمام صف اوّل کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور ان کی گرفتاریوں کے باوجود عارف علوی محفوظ رہے۔
اب سوال یہ ہے کہ عارف علوی کے اپنے عہدے کی مدت مکمل ہونے کے باوجود ایوان صدر کا مکین رہنے کے فیصلے کے بعد کیا اب ان کے اختیارات پہلے جیسے ہی ہوں گے یا ان کی پوزیشن میں کوئی فرق آئے گا۔ اس کے ساتھ جڑا ہوا ایک اور سوال بھی ہے، وہ یہ کہ ایوان صدر سے نکلتے ہی تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کی طرح ان کے خلاف بھی مقدمات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر عارف علوی نئے صدر کے انتخاب تک اس عہدے پر رہتے ہیں ہیں تو ان کی موجودہ اختیارات میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پہلے ہی سے بہت محدود ہیں۔
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’عارف علوی کا پانچ سالہ دور صدارت آئیڈیل نہیں تھا۔ انہوں نے ایوان صدر میں تحریک انصاف کے ایک کارکن کے طور پر وقت گزارا۔ وہ پارٹی کے قائد عمران خان کے احکامات پر بلا چوں و چراں عمل کرتے رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ایوان صدر میں ہوتے ہوئے عارف علوی نے ایک لمحے کے لیے خود کو ایسی بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا کہ وہ پارٹی کارکن سے اٹھ کر پوری قوم اور تمام پارٹیوں کا اعتماد حاصل کر سکیں۔‘ ’ہاں ان کے بعض اقدامات کی وجہ سے شاید انہیں ان کی سیاسی جماعت کے اندر سراہا جائے لیکن باہر ایسا نہیں ہو گا۔‘
احمد بلال محبوب نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ریفرنس بھیجنا اور پھر واپس لینا، یہ ان کے کیریئر پر ایک داغ رہے گا۔ اسی طرح آخر میں فوج کے اختیارات کے متعلق دو قوانین کے بارے میں یہ موقف اپنانا کہ اس پر انہوں نے دستخط نہیں کیے۔‘ ’سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے دستخط نہیں کیے تو قوم سے معافی مانگنے کی ضرورت انہیں کیوں محسوس ہوئی۔‘
اپنی آئینی مدت کی تکمیل کے بعد ایوان صدر میں عارف علوی کی پوزیشن پہلے جیسی ہی ہو گی یا اس میں فرق آ سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں احمد بلال محبوب نے کہا کہ ’نئی منتخب قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے قیام کے بعد ہی نیا صدر منتخب ہو گا۔ اس وقت تک عارف علوی بظاہر انہی اختیارات کے ساتھ ایوان صدر میں مقیم رہیں گے۔‘ کیا اس عہدے سے الگ ہونے کے بعد ان کے خلاف بھی پی ٹی آئی کی صف اول کی قیادت کی طرح انتقامی کارروائیاں ہو سکتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں احمد بلال محبوب نے کہا کہ ’ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن عارف علوی کوئی ایسی شخصیت نہیں کہ ان پر سختی کر کے کوئی سیاسی فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ ہاں، اگر وہ سیاسی طور پر سرگرم ہوتے ہیں تو اس کا امکان بھی ہے۔‘ ’لیکن اگر عہدے سے فارغ ہونے کے بعد ان کے خلاف مقدمات بنائے گئے تو یہ پاکستان کی سیاست کے لیے ایک خطرناک رجحان ہو گا۔‘
