جسٹس فائز عیسیٰ کی بندیال کو کھری کھری سنانے کا امکان

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ میں چند دن باقی ہیں جبکہ ان کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی منصب سنبھالیں گے۔ تاہم جسٹس بندیال کی وجہ سے عدلیہ میں تقسیم، سیاسی چھاپ اور ساکھ کے بحران کے تاثر کو زائل کرنا جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے بڑا چیلنج ہو گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال اپنے آخری دنوں میں جہاں ایک طرف دھڑا دھڑ سیاسی مقدمات کے فیصلے سنا رہے ہیں وہیں دوسری طرف ان الوداع کرنے کہ تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم الوداعی تقریبات میں سب سے اہم تقریب فل کورٹ ریفرنس قرار دی جا رہی ہے جس میں نہ صرف جسٹس بندیال خطاب کرینگے بلکہ جسٹس قاضی فائز عیسی بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرینگے۔ مبصرین کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے خطاب میں نہ صرف اپنا روڈ میپ واضح کرینگے بلکہ ماضی میں جس طرح سپریم کورٹ میں مقدمات کو چلایا گیا اس پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ شاید اسی لئے سینئر صحافی حسنات ملک کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد کرنے کی ابھی منظوری نہیں دی ہے کیونکہ اس فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تقریر کرنا ہے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقریر کا بہت انتظار کیا جارہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ممکنہ طور پر اپنی تقریر میں چیف جسٹس بننے کے بعد اپنا لائحہ عمل بتاسکتے ہیں۔

جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئےمیزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جاتے جاتے ایک ہفتے میں کتنے اور کون سے سیاسی کیسوں کا فیصلہ کرجائیں گے جو پی ڈی ایم کی جماعتوں کیلئے مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔

تاہم سینئر صحافی افتخار احمد کو دعوی ہے کہ چیف جسٹس بندیال کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسے ایسے فیصلے آنے والے ہیں کہ لوگ حیران پریشان ہو جائیں گے اور تینوں ریاستی اداروں کے الگ الگ اختیاراتی دائروں کا تصور دفن ہو کر رہ جائے گا۔

دوسری جانب نمائندہ خصوصی جیو نیوز عبدالقیوم صدیقی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر ریٹائرمنٹ سے قبل کام کا خاصا بوجھ ہے، سینکڑوں ایسے مقدمات ہیں جن کے فیصلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھنے ہیں جو انہوں نے نہیں لکھے ہیں، نیب ترامیم سے متعلق ایسے فیصلے آسکتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ مقدمات جو ختم ہوچکے یا مختلف عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں ان کے اندر روح پھینک دی جائے۔اس کے علاوہ کوئی ایسا اہم مقدمہ نہیں رہ گیا جس پر چیف جسٹس پاکستان ایسا فیصلہ لکھیں جو کسی حکومت یا کسی شخص کیلئے نقصان کا باعث بن سکتا ہو۔ عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی آڈیو کا جو پس منظر تھا اس حوالے سے لگتا ہے دل پر خاصے زخم لگے ہیں، ممکن ہے آڈیو لیکس پر بننے والا اگلا بنچ ان سوالات کی طرف چل پڑے جو ایک کمیشن کے سامنے آئے تھے، اس کے بعد آڈیو لیکس کی تحقیقات جوڈیشل سائڈ پر شروع ہوسکتی ہیں۔

دوسری طرف سینئر صحافی حسنات ملک نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی اگلے ہفتے زیادہ تر مصروفیات اپنے اعزاز میں ہونے والی تقاریب میں شرکت ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد کرنے کی ابھی منظوری نہیں دی ہے، اس فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تقریر کرنا ہے۔فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقریر کا بہت انتظار کیا جارہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ممکنہ طور پر اپنی تقریر میں چیف جسٹس بننے کے بعد اپنا لائحہ عمل بتاسکتے ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے نئے عدالتی سال کی تقریب پیر کو فکس کردی ہے، بہت سے وکلاء کا کہنا ہے کہ نئے عدالتی سال کا آغاز نئے چیف جسٹس کو کرنا چاہئے تھا۔

حسنات ملک کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلے میں کافی جھول ہیں، چیف جسٹس نے اپنا سارا نزلہ سویلین حکومت پر گرایا ہے، سب جانتے ہیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اسٹیبلشمنٹ سے اس وقت تعلقات ٹھیک نہیں تھے، ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی مرضی کے ججز سپریم کورٹ میں تعینات کروانے میں ان کی مدد کی تھی۔جسٹس عمر عطا بندیال کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب ہونے کے بعد پی ڈی ایم جماعتوں نے ان کیخلاف مہم شروع کی۔

Back to top button