نوجوان ملکی سیاسی مستقبل سے مایوس کیوں ہونے لگے؟

جنوبی ایشیا کے 22 کروڑ سے زائد انسانوں کا ملک پاکستان، جس کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، صرف 75سالوں کے سیاسی اور معاشی سفر میں آگے کی طرف جانے کے بجائے ناقدین کے بقول، ترقی معکوس کا باب’ کیوں بن گیا ہے؟

جب موٹر سائیکل سوار پیٹرول ڈلوانے کے لیے قطار میں کھڑے صحافی کے بے ضرر سوال پر رو پڑتے ہوں ۔ٹریفک سگنلز پر جلتی دھوپ اور دھواں اگلتی گاڑیوں کے درمیان رومال اور لکڑی یا پلاسٹک کے کھلونے فروخت کرنے والوں میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہو۔خطرناک کشتیوں میں بیٹھ کر گہرے سمندروں میں ڈوب جانے والے نوجوان اسی تنکے کی تلاش میں اپنی ماؤں بہنوں کا زیور بیچنے پر مجبور ہوئےہوں ، جس کا سہارا انہیں اگر مل گیا تو ترقی اور مواقع حاصل کرنے کی خواہش صرف حسرت نہیں رہے گی۔

ایسے میں آئی ایم ایف کے قرضوں , بجلی کے بلوں اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں تلے دبے عوام میں پھیلی بد دلی بظاہر اتنی سنگین نظر آتی ہے کہ نئے انتخابات ، بہتر معاشی حالات کی باتیں اور نئے وزیر اعظم کا انتظار بھی انہیں کسی اچھے مستقبل کی امید نہیں دلاتا۔

ماہرین ویسے تو امید کو کوئی پالیسی نہیں سمجھتے ۔۔ لیکن ہماری اور آپ کی سوشل میڈیا فیڈز میں بجلی کے جلائے جانے والے بلوں اور انہیں ادا کرنے میں ناکام باپوں کو بے بسی کے خاموش آنسو بہاتے دیکھ کر، یہ اندازہ لگانے کے لیے کسی ماہر انہ رائے کی ضرورت نہیں کہ امید کے بغیر امکان اور ممکنات پر مبنی کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔

سیاست اور معیشت کے ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی ملک کی سیاسی اور معاشی تجربہ گاہ کو ٹھوس اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس سے بھی زیادہ، نظام کے ایک مخلصانہ اور بے غرض تسلسل کی ۔

پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد رہنے والے ڈاکٹر اقبال چاؤلہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ڈائیلاگ کرنا ہو گا ۔۔اس میں ملک کے مقتدر اداروں یا اسٹیبلشمنٹ کو بھی شامل کرنا ہو گا، کیونکہ ملک میں حکومت کے تین ستون نہیں رہ گئے، بلکہ ان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اور ان سب کو بیٹھ کر اپنی اپنی حدود کا تعین کرنا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہو گا، کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی صورت ایسی نہیں ہے کہ ملک کو آگے بڑھایا جاسکے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب نہ صرف تمام سیاسی جماعتوں میں بلکہ خود فوج میں بھی اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے ۔۔اور ان کے بقول، جو قوت کبھی نو جماعتوں کو اور کبھی تیرہ جماعتوں کو اکھٹا کرواسکتی ہے، وہ عظیم تر مقصد کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اب بھی اکھٹا کر سکتی ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ یہ دیکھنے کے لیے کچھ انتظار کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی تجربہ گاہ سے اب کون سا نظام ظہور میں آتا ہے، لیکن یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ انتظار کے لیے امید کی ضرورت ہوتی ہے۔۔اور امید گو کہ خود کوئی پالیسی نہیں ہوتی، تاہم آگے بڑھنے اور ترقی کے امکان کی جانب بڑھنے کے لیے لازمی اور ناگزیر ہوتی ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کو امید دلانے کے لیے بااختیار اداروں ، عہدیداروں اور سیاستدانوں کو صرف ملک کے بارے میں مثبت امیج کی فکر کرنی چاہئے یا سیاسی نظام میں کچھ تسلسل اور پائیدار تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟، جن سے عوام کو بجلی کے بلوں ، بچوں کی فیس اور کچن کے راشن میں ہی کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو۔۔۔ یہ ایسا  سوال ہے جس کا مقتدر حلقوں کو جواب ضرور تلاش کرنا چاہیے۔

Back to top button