ایرانی عوام جنگ کے اصل ہیرو ہیں : ایرانی صدر

 

 

 

 

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کرنے پر ایرانی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قوم کے حقیقی ہیرو قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھاکہ موجودہ تنازع کا آغاز 31 جولائی 2024ء کو حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل سے ہوا، جہاں وہ میری تقریبِ حلف برداری میں شرکت کےلیے آئے تھے۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس واقعے کےبعد ایران کو مسلسل جنگ، دباؤ اور شدید دشمنی سامنا کرنا پڑا۔

صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایران کو مسلسل جنگ، سیاسی و سفارتی دباؤ اور شدید دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ایرانی عوام نے ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدم رہتے ہوئے ملکی مفادات کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی یہی استقامت اور اتحاد ایران کی اصل طاقت ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کا مستقبل کسی بیرونی طاقت یا دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ایرانی عوام کی مرضی اور فیصلوں کے مطابق طے ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی حمایت سے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کےلیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

امریکی صدر کا ایران پر بڑا حملہ منسوخ کرنے کا اعلان

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے سے رابطہ کرکے امریکا کو مزید حملوں سے خبردار کردیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کو کسی بھی مہم جوئی پر مبنی فوجی کارروائی سے باز رہنے کا انتباہ دیتے ہوئےکہاکہ ایران اپنی قومی خودمختاری،علاقائی سالمیت اور سلامتی کے دفاع کےلیے مکمل طور پر تیار ہے۔

 

Back to top button