ظلم کا شکار تین خواتین کی کہانی پر مبنی فلم "کملی”

سٹار کاسٹ پر مبنی لالی ووڈ فلم ’’کملی‘‘ معاشرے کے منفی رویوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ظلم کا شکار خواتین کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے، اس فلم کی کامیابی نے ثابت کر دیا کہ اگر کہانی جان دار ہو اور تمام مناظر کو ایسے فلمایا جائے کہ کہیں کوئی جھول محسوس نہ ہو تو سکرین پر ایک شاہکار دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کملی‘ بنیادی طور پر تین خواتین کی کہانی ہے جن کی زندگی اور حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، سینما میں ریلیز کے پہلے دن ہی اس فلم نے ریکارڈ بزنس کیا ہے جس سے اس کی کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔
فلم کملی کو ریلیز کے بعد تمام پلیٹ فارمز پر نمایاں کوریج دی جا رہی ہے، فلم کی ریلیز سے پہلے کراچی میں پریمیئر کے دوران کچھ جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، سوشل میڈیا پر اس پریمیئر کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں مرکزی اداکارہ صبا قمر جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے رو پڑی تھیں اور سرمد کھوسٹ ان کو گلے لگا کر ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ فلم کی کاسٹ کو سٹار کاسٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس میں ثانیہ سعید، صبا قمر، نمرہ بُچہ، عمیر رانا اور حمزہ خواجہ شامل ہیں، حمزہ خواجہ نے اس فلم سے اپنا ڈبیو کیا ہے، ثانیہ سعید نے ایک نابینا خاتون سکینہ کا کردار ادا کیا ہے جو اپنی بھابھی حنا یعنی صبا قمر سے بہت پیار کرتی ہے، حنا اور سکینہ دونوں اپنے بھائی کی منتظر ہیں جو کئی سال پہلے روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر گیا تھا لیکن پھر واپس نہیں آیا۔
حنا کا کردار معاشرے کے منفی رویوں کو بے نقاب کرتا ہے، یہ وہ کہانی ہے جو بتاتی ہے کہ اگر کسی عورت کی زندگی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زندگی کو جینا ہی چھوڑ دے۔ حنا اپنے شوہر کا آٹھ سال انتظار کرتی ہے، اکیلے بیٹھ کر گھنٹوں خود سے باتیں کرتی ہے، دیوانہ وار بھٹکتی ہے اور پھر جب اسکا شوہر اس کی زندگی میں واپس آتا ہے تو گویا اسے جینے کی ایک وجہ مل جاتی ہے۔
اس فلم میں ڈائیلاگز کم لیکن جاندار ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اداکاروں کے چہرے کے تاثرات اتنے مکمل ہیں کہ کچھ مناظر میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہی نہیں پڑی، صبا قمر اور ثانیہ سعید کا کمبینیشن اتنا شاندار ہے کہ ایک وقت پر آپ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ دونوں میں سے کس کی اداکاری زیادہ متاثر کن ہے۔
فلم کا ایک اور مضبوط کردار نمرہ بچہ نے نبھایا ہے جو اپنے شوہر کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں حتیٰ کہ اپنے شوہر کی دوسری شادی کرانے کو بھی۔ لیکن اس مشکل فیصلے کی وجہ سے انہیں کس اذیت اور تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے، نمرہ بُچہ نے اس کیفیت کو خود پر جس طرح طاری کیا ہے اس کی داد دینا پڑے گی۔ ’
فکم کے ہدایت کار سرمد کھوسٹ نے بتایا کہ ’گھر سے نکل کر سینما میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آپ کے کام سے پیار کرتے ہیں، فلم میں ڈیبیو کرنے والے حمزہ خواجہ نے بتایا کہ مجھے یہ کردار مصنفہ فاطمہ ستار کے ذریعے ملا، فاطمہ ستار نے مجھ سے رابطہ کیا اور سرمد کھوسٹ سے ملوایا جنہوں نے میرا آڈیشن لیا۔ کافی مہینوں کے بعد مجھے سرمد کھوسٹ کی کال موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ املتاس کے کردار کے لیے سلیکشن ہو گئی ہے، میں کالج کے زمانے سے تھیٹر کر رہا ہوں لہٰذا یہ کردار کرنے میں مشکل نہیں ہوئی، جو تھوڑی بہت نروسنس تھی وہ اس ٹیم کے رویہ اور مزاج دیکھ کر ختم ہو گئی تھی۔
