عامر لیاقت کی دوسری بیوی طوبیٰ انور شوہر بارے بول پڑیں

عامر لیاقت حسین کی سابقہ اہلیہ اور ڈرامہ انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ طوبیٰ انور نے اپنے شوبز انڈسٹری میں داخلے کی کہانی سناتے ہوئے اس تاثر کو در کیا ہے کہ عامر نے اس حوالے سے انکی کسی قسم کی کوئی مدد کی تھی۔ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے طوبیٰ نے بتایا کہ وہ 18 برس کی بھی نہیں تھیں جب انہوں نے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا تھا، وہ عامر لیاقت سے شادی کرنے سے بہت پہلے سے میڈیا انڈسٹری میں آف اسکرین کام کر رہی تھیں، وہ شادی اور اداکاری سے قبل 6 سال تک پروڈکشن کے شعبے سے بھی منسلک رہی تھیں۔ طوبیٰ انور کے مطابق شادی کے دو سال گزرنے کے بعد انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ زندگی میں کچھ نیا کیا جائے، لہذا میں نے ایک بار پھر شوبز انڈسٹری کا رخ کر لیا۔
سیدہ طوبیٰ کا خود پر لگنے والے الزامات پر کہنا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں شاید بہت سارے لوگوں کو پسند نہیں کرتے مگر جب آپ اس شخص کے لیے سوشل میڈیا پر کچھ منفی لکھتے ہیں جو آپکو پسند نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود بہت ہی منفی شخصیت کے مالک ہیں اور بغض سے بھرے ہوئے ہیں۔
طوبیٰ انور کا کہنا تھا کہ پہلے مجھے خود پر ہونے والی تنقید سے بہت تکلیف ہوتی تھی، ہم انسان ہیں، بُرا تو لگتا ہے، جو لوگ آپ کے یا آپ کی زندگی سے متعلق کچھ نہیں جانتے وہ لوگ کہیں سے بھی منہ اٹھ کر آپ کے خلاف کچھ لکھ دیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے خود کو اس معاملے میں بہت مضبوط کر لیا ہے۔
طوبیٰ نے بتایا کہ میں ہر معاملے پر خاموشی اختیار کرتی ہوں، میں نے آج تک ہر مسئلے میں تحمل سے کام لیا ہے کیوں کہ تنقید اور نفرت ایک آگ ہے جس میں آپ مواد ڈالتے رہیں گے تو وہ بھڑکتی رہے گی، یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گی، اور میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے ذاتی معاملات کو ایک سرکس بناؤں۔
تقریباً تمام اداکاروں کی طرح سیدہ طوبیٰ انور بھی سوشل میڈیا پر کافی فعال رہتی ہیں اور اپنی تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔ طوبیٰ نے پاکستان کی حالیہ تاریخ میں پیش آنے والے چند اہم کیسز جیسا کہ نورمقدم کیس، موٹروے ریپ کیس اور میناِرِ پاکستان ہراسانی کیس پر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں وِکٹم بلیمنگ ہوتی ہے، میں نہیں جانتی کہ یہ آگاہی کی کمی ہے یا تعلیم کی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک پبلک فِگر ہونے کے ناطے میری ذمہ داری ہے کہ میں لوگوں کو آگاہی دوں۔ مجھ سے اگر ایک بندہ بھی سیکھ لے گا یا سمجھ لے گا تو مجھے لگے گا کہ میرا کام پورا ہو گیا۔
