عثمان بزدار نے قابل اعتراض کتب پر پابندی عائد کرنے والے افسر کو ہٹا دیا

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قابل اعتراض کتب پر پابندی عائد کرنے والے افسر کو ہٹا دیا۔ پنجاب حکومت نے پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مینجمنٹ ڈائریکٹر منظور ناصر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ منظور ناصر نے حال ہی میں 100 ایسی نصابی کتب پر پابندی عائد کی تھی جن میں کئی غلطیاں تھیں اور ایسا مواد شامل کیا گیا تھا جسے ماہرین کی کمیٹی نے اسلام مخالف اور پاکستان مخالف قرار دے دیا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے منظور ناصر کے تبادلے کا حکم ان کے موقف سنے بغیر اور بااثر گروپس کے دباؤ میں آکر کیا۔ اس حوالے سے رائے منظور ناصر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی 100 نصابی کتب میں حقائق کے منافی، اسلام مخالف اور پاکستان مخالف معلومات شامل تھیں۔
کئی کتب میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا جب کہ درجنوں کتابوں میں پاکستان کے 5 صوبے لکھے گئے۔
انہوں نے عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کیا تاہم کہا جا رہا ہے کہ انہیں ذاتی مفاد رکھنے والے گروپس کے پروپیگنڈے اور دباؤ میں آ کر ہٹایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے پنجاب حکومت نے جس افسر کو عہدے سے ہٹایا ہے، بیوروکریسی اسی کی ساتھ کی معترف ہے۔
یاد رہے کہ رائے ناصر منظور ا کہ پی سی ٹی بی نے صوبہ بھر میں نجی اسکولوں کی زیر تعلیم 10،000 کتب کا تنقیدی جائزہ لیا اور پہلے مرحلے میں گستاخانہ، غیر اخلاقی اور پاکستان مخالف مواد پر آکسفورڈ اور کیمبرج سمیت 31 پبلشروں کی 100 کتابوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
پی سی ٹی بی کے ایم ڈی نے بتایا تھا کہ بورڈ نے اس مقصد کےلئے 30 کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کسی نے پہلے بھی ان کتابوں کو چیک نہیں کیا تھا اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ بھاری فیسوں کے مقابلہ میں ہمارے بچوں کو نجی اسکولوں میں کیا پڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم کتب نے پاکستان اور اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے بارے میں حقائق کو مسخ کیا ہے جب کہ ان کتابوں میں توہین آمیز مواد بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کےلئے ایک کمتر ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے جب کہ آزاد جموں و کشمیر کو بھی ان کتابوں میں نقشوں میں ہندوستان کا حصہ دکھایا گیا ۔
