عثمان بزدار نے نیب سوالات کے جواب جمع کروا دیے

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شراب لائسنس کیس میں اپنے نمائندے کے ذریعے نیب لاہور میں 28 اگست کے روز اپنا جواب جمع کروا دیا ۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی جانب سے نیب میں پیش ہو کر جواب جمع کرایا ۔
یاد رہے کہ نیب پنجاب نے شراب فروخت کے لائسنس کے اجراء میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر انکوائری شروع کر رکھی ہے۔ گزشتہ پیشی پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو 12 سوالات پر مشتمل پرفارمہ دیا گیا تھا۔ ان سوالات کے جواب اب نیب میں جمع کروا دیے گئے ہیں۔ نیب کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے شراب فروخت کے لائسنس کے اجراء میں کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، شراب لائسنس دینے کا اختیار ڈی جی ایکسائز کے پاس ہے، جن کی طرف سے بھجوائی گئی پہلی سمری میں نے اس حوالے سے کوئی اختیار نہ ہونے کی وجہ سے واپس بھجوائی لیکن ڈی جی ایکسائز نے سمری دوبارہ وزیر اعلی سیکریٹریٹ بھجوا دی۔
عثمان بزدار نے نیب کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مزید بتایا کہ اب تک پنجاب میں جاری کردہ 11 شراب فروخت کے لائسنسز میں سے 9 عدد ڈی جی ایکسائز نے جاری کیے اور میں نے مذکورہ کیس میں بھی شراب لائسنس کے اجراء میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ بزدار نے کہا کہ کسی بھی ہوٹل کو شراب کی فروخت کا لائسنس دینے کا اختیار ڈی جی ایکسائز کے پاس ہے اور مذکورہ کیس میں ڈی جی اکرم اشرف نے لائسنس جاری کرکے دوبارہ سمری سیکریٹریٹ بھجوائی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے مزیدبتایا کہ ایکسائز کے وزیر نے متعلقہ ہوٹل کو دیا گیا شراب کا لائسنس معطل کر دیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے 2019 میں متعلقہ ہوٹل کا لائسنس بحال کرنے کا حکم دیا جبکہ ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ ابھی بھی زیر التوا ہے۔وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے جعع کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا کہ نجی ہوٹل کے لائسنس پر آج تک ایک بھی شراب کی بوتل فروخت نہیں ہوئی جبکہ نجی ہوٹل نے لائسنس کو ری نیو کروانے کے لیے بھی اپلائی کر رکھا ہے۔
واضح رہے وزیراعلیٰ عثمان بزدار 12اگست کو نیب میں پیش ہوئے تھے، تاہم نیب نے غیرتسلی بخش جوابات پر وزیراعلیٰ کو سوالنامہ دیا تھا۔ سوالنامے میں وزیراعلیٰ پنجاب سے تنخواہ، آمدن کے ذرائع اور کاروباری آمدن کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ سوالنامے میں وزیراعلیٰ سے یوٹیلٹی بلز اور ملازمین کی تعداد کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ اسی طرح عثمان بزدار کی وراثتی جائیداد سمیت منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔ اثاثوں کی خریداری لیز، تحفے یا بذریعہ نیلامی وصول شدہ جائیداد سے متعلق بھی سوال کیا گیا تھا۔
ایسے اثاثے جو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ملکیت نہیں ہیں، ان کی فروخت سے متعلق بھی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰ سے بیرون ملک دوروں سے متعلق تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔عثمان بزدار سے بینک اکاؤنٹس، اہلخانہ کے کریڈٹ کارڈز، اور قرضوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔وزیراعلیٰ سے بچوں کے تعلیمی اخراجات، دیگر تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔وزیراعلیٰ پنجاب سے الیکشن میں انتخابی مہم کے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰ سے تمام تر تفصیلات نیب آرڈیننس کے سیکشن 19اور 27 کے تحت طلب کی گئی تھیں۔ اس لئےتفصیلات کی غلط معلومات کی فراہمی پر نیب آرڈیننس کے 4 کے تحت 5 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button