فرار کے بعد احسان اللہ احسان طالبان گروپس کا اتحاد کروانے لگا


اندرونی اختلافات کی وجہ سے دھڑے بندیوں کا شکار تحریک طالبان پاکستان اب احسان اللہ احسان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر یکجا ہوتی نظر آتی ہے۔ ایک تازہ ترین پیش رفت میں ٹی ٹی پی کے دو سپلنٹر گروپس جماعت الاحرار اور حزب الاحرار نے باقاعدہ طور پر کمانڈر نور ولی محسود کی زیر قیادت تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ تحریک طالبان کے دونوں ناراض دھڑوں کو اکٹھا کروانے میں اہم ترین کردار سکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے والے احسان اللہ احسان نے ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس برس جنوری میں پشاور کے ایک سیف ہاؤس سے نہایت پراسرار انداز میں فرار ہونے والا احسان اللہ احسان ماضی میں تحریک طالبان اور جماعت الحرار دونوں کا مرکزی ترجمان رہ چکا ہے لہذا خیال کیا جا رہا ہے کہ فرار ہونے کے بعد اس نے ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات ختم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہوگا۔ حال ہی میں جاری کردہ اپنے ایک آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان نے بتایا تھا کہ اس نے پشاور کے سیف ہاؤس سے فرار ہونے کے لئے اپنے موبائل فون سے ایک ٹیکسی منگوائی اور پھر اپنے بیوی بچوں سمیت پچھلے دروازے سے نکل کر فرار ہو گیا۔
یاد رہے کہ 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے وقت احسان اللہ احسان تحریک طالبان کا مرکزی ترجمان تھا جس نے اس بربریت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تحریک طالبان پاکستان کے اندرونی اختلافات کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ جماعت الاحرار اور حزب الاحرار دونوں دھڑے اپنے اپنے طور پر ریاست کے خلاف شدت پسند کارروائیاں کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن ان کے مابین اکٹھے ہونے کے لیے رابطے چند ماہ پہلے شروع ہوئے جن کا نتیجہ اب سامنے آگیا ہے۔ تحریک طالبان کے 17 اگست 2020 کو جاری ایک بیان کے مطابق ’جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی اور حزب الاحرار کے امیر عمر خراسانی نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر ابوعاصم منصور کے ساتھ ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتے ہوئے اپنی سابقہ جماعتوں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ ان کے جماعتیں تحریک طالبان پاکستان کے شرعی اصولوں کی پابند ہوں گی۔‘
تاہم یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کے امیر کمانڈر نورولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی دونوں تنظیموں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے بانی امیر امریکی ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ جماعت الاحرار کا سربراہ کمانڈر عمر خالد خراسانی افغانستان کے صوبہ پکتیا میں اکتوبر 2017 ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہے اور اس کی تنظیم کے نئے سربراہ کا نام بھی اسی کے نام پر رکھا گیا لگتا یے۔ عمر خالد خراسانی وہی شخص تھا جو وزیرستان میں پاک فوج کے کے جوانوں کو اغواء کے بعد قتل کر کے ان کے سر سے فٹبال کھیلا کرتا تھا۔ اسی طرح حزب الاحرار کا امیر کمانڈر عمر منصور نارے بھی جولائی 2016 میں افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا جا چکا ہے۔ عمر منصور نارے وہ شخص تھا جس نے دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک سکول پر ایک خونی حملہ کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے موجودہ سربراہ نور ولی محسود پچھلے کچھ عرصے سے ٹی ٹی پی کے تمام ناراض بلوچوں کو اکٹھا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور حزب الاحرار اور جماعت الاحرار کا اس کی تنظیم میں ضم ہونا ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ جولائی 2007 میں اسلام آباد میں ہونے والے لال مسجد کے فوجی آپریشن کے ردعمل میں دسمبر 2007 میں افغان طالبان کی طرز پر پاکستان میں بھی تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی۔ یہ تنظیم سینکڑوں بڑی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے جس میں ہزاروں پاکستانی اور سینکڑوں فوجی بھی مارے گئے۔ اس تنظیم کے سربراہ بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، اور مولانا فضل اللہ رہے اور اب مفتی نور ولی محسود اس کی قیادت کر رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے بانی امیر کمانڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم میں اختلافات بڑھتے گئے جس وجہ سے یہ دھڑا بندی کا شکار ہو گئی تھی۔ تحریک طالبان اور بعد میں جماعت الاحرار کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے والے احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ایک گفتگو میں بتایا کہ اگست 2015 میں تحریک کے کچھ کمانڈروں کے تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات تھے جس کے بعد جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اس کے بعد جماعت الاحرار سے بھی کچھ لوگ علیحدہ ہوئے اور نومبر 2017 میں حزب الاحرار کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ احسان اللہ احسان نے تحریری مذید بتایا تھا کہ ’جماعت الاحرار نے انتظامی اختلافات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی کیونکہ اس وقت ان کا مطالبہ تھا کہ ٹی ٹی پی کا تنظیمی ڈھانچہ افغان طالبان کے طرز پر ہونا چاہیے اور سارے کام ایک خود مختار شوریٰ کو کرنے چاہییں جس میں تمام گروپس کو ان کی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق نمائندگی حاصل ہو۔ اس معاملے پر اس وقت ٹی ٹی پی میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔‘
احسان اللہ احسان نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کا طرز تنظیم یہ ہے کہ ہر کمانڈر کو ایک کھلا محاذ میسر ہوتا ہے یعنی وہ جہاں چاہے وہاں باقاعدہ اجازت سے کارروائی اور گروپنگ کر سکتا ہے اور شدت پسندوں کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ جس گروپ میں چاہیں چلے جائیں جبکہ پاکستانی طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ قبائلی تقسیم پر ہے جہاں ہر شدت پسند صرف اپنے قبائلی لیڈر کے ساتھ ہی مربوط ہوتا ہے، جس پر اعتراض تھا۔ احسان اللہ احسان کے مطابق ٹی ٹی پی کا دوسرا بڑا مسئلہ ان کے مرکزی شوریٰ کا تھا یعنی مرکزی شوریٰ میں ہر گروپ کا ایک نمائندہ ہوتا ہے جبکہ افغان طالبان مرکزی شوریٰ میں صرف باصلاحیت افراد کو رکھا جاتا ہے۔
احسان اللہ احسان کے مطابق ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہونے کے بعد حزب الاحرار اور جماعت الاحرار جیسے گروپس کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ الگ الگ رہ کر ان کی قوت تقسیم رہے گی اس لیے وہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ اسنے کہا کہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق کو دیکھیں تو جماعت الاحرار ریاست مخالف دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے دوسرے گروپوں کے مقابلے میں زیادہ متحرک رہی ہے اور مفاہمت سے زیادہ عسکریت پسندی کی حامی رہی ہے۔
احسان اللہ احسان کے مطابق ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت مفتی نور ولی محسود نے امیر بنتے ہی اپنی تمام تر توانائی ناراض گروپس کو دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل کرنے پر لگائی اور اس میں انھیں کامیابی بھی ملی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دیگر دھڑے جو مختلف علاقوں میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں ان سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ایک تنظیم کے تحت انھیں اکٹھا کیا جا سکے۔ اس سے پہلے تحریک طالبان میں علیحدہ گروپ بنانے والے شہریار محسود کا دھڑا بھی ٹی ٹی پی کی قیادت پر متفق ہو چکا ہے۔
2014کے پشاور آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد شروع ہونے والے فوج کے آپریشن ضرب عضب کے بعد اگرچہ شدت پسندوں کی کارروائیاں بتدریج کم ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس دوران تشدد کے بڑے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ تشدد کے یہ واقعات اب بھی چیدہ چیدہ علاقوں میں پیش آ رہے ہیں جن میں زیادہ تر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔
دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی اطلاعات ضرور ہیں کہ یہ لوگ متحد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اب وقت گزر چکا ہے اور یہ لوگ بے اثر ہو چکے ہیں اور ان کی کوششیں اب پاکستان میں کامیاب نہیں ہو رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان شدت پسندوں کی طرف سے کوشش تھی کہ یہ سرنڈر کر کے واپس آ جائیں لیکن ان کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ حکومت انھیں کسی طور معاف نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپریشن ضرب عضب کے بعد تحریک کے لوگ بکھر چکے ہیں اور انھیں مزید افراد نہیں مل رہے جو ان کے ساتھ شامل ہوں اس لیے یہ لوگ اپنے طور پر کوششیں تو کر رہے ہیں لیکن انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button