عدالتی فیصلے کے باوجود کرنل انعام رہا کیوں نہیں کیے گئے؟

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد اب سپریم کورٹ نے اس کیس کی ان کیمرہ سماعت کی حکومتی درخواست مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ کرنل انعام کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سابق فوجی افسر کی حراست غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا جس کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔
وفاقی حکومت کی درخواست پر عدالت عظمیٰ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے 13 جنوری کو سماعت کی جس کے دوران اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے اس لیے انِ کیمرہ سماعت کی جائے، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔ اٹارنی جنرل نے سر بمہر لفافے میں انعام الرحیم کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ اس رپورٹ میں جو لکھا ہے وہ سب شائع ہوچکا ہے چیزوں کو ڈراما ٹائز نہ کریں۔اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالت انعام رحیم کی رہائی کا مختصر فیصلہ معطل کردے۔جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا مختصر فیصلہ آیا ہے، تفصیلی فیصلہ آنے دیں اور تب تک عدالت کے مختصر فیصلے پر عملدرآمد کریں اور انعام رحیم کو ہمارے پاس پیش کریں۔
بعدازاں وقفے کے بعد ہونے والی سماعت میں عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ہمیں جواز بتایا جائے کہ قومی سلامتی کا کونسا ایشو ہے جس کی وجہ سے مقدمہ چیمبر میں سنیں؟ عدالت نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کل کرنل (ر) انعام الرحیم کو پیش کردیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے کہ عدالت ایڈووکیٹ کو پیش کرنے کے حکم کا دوبارہ جائزہ لے، ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا کہ مقدمہ چیمبر میں سنیں۔جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ مواد دکھائیں جس کی بنیاد پر ایسا کریں، آپ ہمیں دستاویزات دکھائیں انہیں پبلک نہیں کریں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہم دستاویزات سے دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس مقدمے میں کون سا قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔اس دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قلب حسن بھی روسٹروم پر آگئے ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا کیا معاملہ ہے ہمیں سب معلوم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے عدالت میں چیف جسٹس کو آرمی ایکٹ کی کاپی فراہم کی تھی جس کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ آئین اور آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ جرم کیسے بن گیا؟ قلب حسن نے کہا کہ انعام الرحیم وکیل ہیں ان کی اہل خانہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے حکومت سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 13 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ پٹیشن پر اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ وکیل کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 اور آرمی ایکٹ 1952 کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے مذکورہ الزامات کے تحت ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریز کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ تفتیش کے دوران ملزم کی رہائی کے باعث سنگین نوعیت کے الزامات کی تحقیقات متاثر ہوں گی۔ حکومت نے زور دیا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے مختصر حکم کو معطل کرے جبکہ وفاقی حکومت کی اپیل میں مزید کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حتمی فیصلہ سنانے سے قبل وجوہات ریکارڈ کیے بغیر اسے عجلت میں سنایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button