کپتان کا وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے پر بھی یو ٹرن

یو ٹرن لینے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والے وزیراعظم عمران خان بالآخر اپنے پہلے انتخابی وعدے سے بھی پھر گے۔ وزیراعظم ہاؤس کو اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے اعلان سے پھرتے ہوئے اب تمام سرکاری کام کاج وزیراعظم ہاؤس منتقل کر دیے گئے ہیں اور شاہراہ دستور پر واقع وزیراعظم آفس کی بجائے اب وزیراعظم ہاؤس سرکاری مصروفیات اور میٹنگز کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
اس سے قبل کپتان کی جانب سے پی ایم ہاؤس کو بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا۔ برسر اقتدار آنے سے قبل اور بعد میں کپتان کی جانب سے ملک بھر کے گورنر ہاؤسز کو میوزیم اور پارکس میں تبدیل کرنے اور وزیر اعظم ہاؤس کو عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کے بلندوبانگ دعوے کئے گئے تھے جو اب زمینی حقائق کے مطابق ہوا ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی اوراب تازہ خبریں یہ ہیں کہ تبدیلی سرکار نے اپنی ماضی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے اس نعرے سے بھی یوٹرن لے لیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی وعدوں میں عمران خان کے وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نہ رکھنے، اسے یونیورسٹی میں تبدیل کرنے اور صوبوں میں گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے کے دعوے کیے تھےلیکن کبھی ’سکیورٹی خدشات‘ اس منصوبے کے آڑے آ گئے تو کبھی ’قانونی پیچیدگیوں‘ کے باعث یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
اقتدار میں آنے کے بعد دسمبر 2018ء کے تیسرے ہفتے میں حکام نے اعلان کیا تھا کہ محل نما پی ایم ہاؤس کو انٹرنیشنل یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا جس کا نام اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی رکھا جائے۔ تبدیلی سرکار نے وزیر اعظم ہاؤس میں مجوزہ اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی کے منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری وفاقی وزارت تعلیم کو سونپی گئی، پھر یونیورسٹی کی جگہ سٹیٹ آف دی آرٹ ریسرچ سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ منصوبہ وفاقی وزارت تعلیم سے لے کر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو سونپ دیا گیا ۔
حکومت کی طرف سے وزیر اعظم ہاؤس کو تحقیقاتی مرکز بنانے کے حوالے سے پیشرف کی بجائے پہلے پہل تو یہاں سرکاری تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا استقبال بھی یہیں کیا گیا جسے اپوزیشن نے حکومت کا یُو ٹرن قرار دیا۔ تاہم اب تازہ اطلاعات کے مطابق سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے شاہراہِ دستور پر واقع وزیراعظم آفس کی بجائے اب وزیراعظم ہاؤس کو ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کی تمام اہم ملاقاتیں اور اجلاس اِن دنوں وزیراعظم ہاؤس میں ہی منعقد ہو رہےہیں۔ وزیراعظم کے اسٹاف میں شامل اہم ارکان بشمول سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر اور ملٹری سیکریٹری بھی پہلے کی طرح وزیراعظم ہاؤس میں ہی قیام پذیر ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے قبل اپنی تقاریر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع وسیع و عریض وزیراعظم ہاؤس اور صوبائی دارالحکومتوں میں موجود عالیشان گورنر ہاؤسز کو قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا تھا۔انہوں نے عوام سے جہاں کئی اور وعدے کیے تھے وہیں یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ان کی حکومت بڑے بڑے گورنر ہاؤس ہاؤسز کی دیواریں گرا دے گی اور انہیں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ وسیع و عریض گورنر ہاؤسز اور وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کو بھی عوامی پارکس میں تبدیل کر دیا جائے گا تاکہ عوام انہیں استعمال کر سکیں۔ تاہم یہ وعدہ بھی پورا نہیں ہو سکا۔
دوسری طرف حقائق کے برعکس معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان یہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کے متعلق حکومت کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معمول کی میٹنگز اور اجلاس وزیراعظم سیکریٹریٹ میں منعقد کی جاتی ہیں تاہم اہم غیر ملکی وفود سے وزیراعظم کی ملاقاتیں وزیراعظم ہاؤس میں قائم ان کے دفتر میں ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button