عفت عمر کی کس بات نے یوتھیوں کو مرچیں لگا دیں؟


قوم یوتھ سے تعلق رکھنے والے عمران خان کے حمایتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ٹرولنگ کا نشانہ بننے والی معروف ماڈل اور اداکارہ عفت عمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پر تنقید کا یہ مطلب نہیں کے وہ اپوزیشن کی حمایتی ہیں، حکومت کسی کی بھی ہیں سچ کی آواز بلند کرنی چاہیے اور میں ایسا ہی کر رہی ہوں۔
اداکار نعمان اعجاز کے ٹیلی ویژن شو میں گفتگو کرتے ہوئے عفت عمر نے کہا کہ اگر میں موجودہ حکومت کی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپوزیشن کے ساتھ ہوں۔ اگر میں وزیراعظم عمران خان کی کوتاہیوں پر تنقید کرتی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں خود کو کسی دوسری سیاسی جماعت سے جوڑتی ہوں۔ اداکارہ نے ملک کی موجودہ ابتر صورت حال اور عوام کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادارے سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے رہے اور مرضی کی حکومتیں لاتے اور گراتے رہے تو ہم کبھی کامیابی کی طرف نہیں بڑھ پائیں گے، انکا کہنا تھا کہ ہمیں امن کی ضرورت ہے، تعلیم کی ضرورت ہے، سائنس کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ عفت عمر کو سوشل میڈیا پر یوتھیوں کی بے جا تنقید کا سامنا ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عفت عمران کی حمایتی ہوا کرتی تھیں اور انکے حق میں باتیں کیا کرتی تھیں۔ تاہم کپتان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت کی نکمی پرفارمنس دیکھ کر انہوں نے توبہ کر لی۔ اب عفت کو کپتان حکومت کا کا ناقد فنکار سمجھا جاتا ہے جس کی انہیں قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا
ہے۔
عفت کے حوالے سے تازہ تنازعہ تب کھڑا ہوا جب انہوں نے یہ بیان دے دیا کہ ہماری تاریخ برصغیر کی ہے، ہمیں اس کی توثیق کرنے کی ضرورت ہے بجائے کہ ہم ترک ڈرامے دکھاتے جائیں۔ انکا۔کہنا تھا کہ ہماری تاریخ ترکی کی نہیں ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن اب تک دو بڑی ترک ڈرامہ سیریز نشر کر چکا ہے۔ نعمان اعجاز کے پروگرام میں عفت کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ترک ڈرامے پی ٹی وی پر چلا کر ہم کیسے پاکستانی ثقافت یا اسلام کو فروغ دے رہے ہیں۔ عفت عمر نے تاریخ کا حوالہ دے کر یاد دلایا کہ ترکوں نے تو ہم پر حملہ کیا تھا، اس لیے ہمیں فرضی کرداروں کی ضرورت نہیں، ہمیں کامیاب سائنس دانوں کی کہانیاں دکھانے کی ضرورت ہے۔
نعمان اعجاز نے عفت عمر سے صلاح الدین ایوبی کے حوالے سے پی ٹی وی پر اگلی آنے والی سیریز بارے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ صلاح الدین ایوبی ہمارے ہیرو نہیں ہیں۔ہماری تاریخ برصغیر کی ہے، ہمیں اس کی توثیق کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں ہماری تاریخ ترکی کی نہیں ہے۔” اب اسی انٹرویو کی بنیاد پر عفت عمر سوشل میڈیا پر یوتھیوں کی جانب سے زیر تنقید ہیں۔ انٹرویو کے بعد ترکی اور صلاح الدین ایوبی کے متعلق عفت کے بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اور یوتھیوں کی جانب سے عفت بارے تضحیک آمیز باتیں کی جارہی ہیں۔ منافقین کی جانب سے انہیں ایک ہی جملے میں گالی بھی دی جا رہی یے اور اسلامی شعار کے بارے میں بھی بتایا جارہا ہے۔

Back to top button