عمرانڈو عدلیہ سے غیرمعمولی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب کیوں ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے کہا ھے کہ جب بھی تحریک انصاف کے لوگ قانون کی گرفت میں آنے لگتے ہیں، یہ لوگ اور ان کا سوشل میڈیا رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں، ظلم ظلم کی دہائی دیتے ہیں، عدلیہ کو مدد کے لیے پکارتے ہیں ،نفسیاتی دباؤ کا ماحول بناتے ہیں۔ اسی ماحول کے زیر اثر وہ غیرمعمولی ریلیف لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان سے یہ بھی پوچھاجانا چاہیے کہ جناب! آپ نے کچھ تو ایسا کارنامہ کیا ہوگا، جس کی وجہ سے ایف آئی آر درج ہوئی ، مفرور ہونے کی بھی کوئی تو وجہ ہوگی ، کسی کو بلاوجہ یا بغیر کسی قانونی جواز کے اشتہاری تو قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے رات کو عدالت کھول کر تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کی حفاظتی ضمانت لے لی۔ان کے یہ ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں کہ رات کو عدالت پختون روایات کے تحت ایک خاتون کو ضمانت دینے کے لیے کھولی گئی ہے، پختون روایات میں کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ اس عمل پر قانونی حلقوں کا کہنا ھے کہ راہداری ضمانت ہر پاکستانی شہری کا قانونی حق ہے، جیسے ضمانت قبل از گرفتاری ہر پاکستانی کا قانونی حق ہے۔ اس حق سے کسی بھی پاکستانی کو محروم نہیں کیا جا سکتا، اس قانونی حق کا پختون یا کسی اور علاقے کی روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ قانون اور آئین کی بات ہے۔ اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ آئین اور قانون کے مطابق حفاظتی ضمانت ہر شہری کا حق ہے اور معزز عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو یہ حق دینے کے لیے رات کے وقت عدالت کھولی ہے تو زیادہ بہتر اور پرمعنی ہوتا۔
مزمل سہروری کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے اس عمل سے تو کوئی یہ تاثر بھی لے سکتا ہے کہ جیسے پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پختون روایات میں خاتون کو زیادہ عزت و مرتبہ حاصل ہے ، حالانکہ یہ سراسر قانون اور آئین کا تقاضا ہے اور یہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ قانون دانوں کو تو یقیناً علم ہوگا کہ پاکستان کا نظام انصاف‘ یکساں نظام انصاف کے اصول پر قائم ہے‘ یہ علاقائی روایات پر قائم نہیں ہے۔ ججز سمیت تمام ریاستی اعلیٰ عہدیداروں نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے‘ منتخب نمائندے بھی یہی حلف اٹھاتے ہیں، ان سب نے علاقائی روایات کی پاسداری کا حلف نہیں اٹھایا ہوا۔ نظام انصاف نے کسی کو اس کے اسٹیٹس دیکھ کر دوسرے سائل کو برتری نہیں دے سکتا ہے۔ نظام انصاف اگر رات کو عدالت لگانا چاہتے ہیں تو یہ اصول پاکستان کے تمام شہریوں پر لاگو ہونا چاہیے ، ہرفریادی اور سائل قانون کی نظر میں برابر ہے۔اگر چند مخصوص لوگوں کی داد رسی کے لیے رات کو عدالت لگائی جائے گی تو عام شہری ہی نہیں بلکہ ہر باشعور یہی مطالبہ کرے گا ۔ بہت سے لوگوں کو زرتاج گل کی ضمانت منظور ہونے یا انھیں ریلیف ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ان کے مفرور اور اشتہاری ہونے پر تحفظات ضرور ہیں، انھیں بروقت قانون کے سامنے سرنڈر کرنا چاہیے تھا۔ لاکھوں سائلین کے لیے رات کے وقت عدالت کیوں نہیں کھلتی؟عام آدمی کسی چھوٹے سے جرم میں بھی پکڑا جائے تو اسے رات حوالات میں گزارنے پڑے گی کیونکہ رات کو عدالت بند ہوتی ہے۔ یوں زرتاج گل کے لیے رات کو عدالت کھلنا اور انھیں ضمانت مل جانا ایک غیر معمولی ریلیف ہی سمجھا جائے گا۔ جب عمران خان دوسری دفعہ آئین سے کھلواڑ کرنے بلکہ اسے توڑنے کی تیاری کر رہے تھے، تب ، آئین و قانون کو بچانے کے لیے رات کو عدالت کھولی گئی تھی لیکن اس ایک دفعہ کا قرض اتارنے کے لیے ہم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے لیے اور کتنی دفعہ رات کو عدالتیں کھولنی ہیں؟
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ پختون روایات میں بھی یقیناً ٹارگٹڈ انصاف کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ یہ کہا گیا کہ زرتاج گل کی گرفتاری کے لیے پولیس ہائیکورٹ کے باہر کیوں کھڑی ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ قانون کی نظر میں وہ مفرور ہیں اور قانون کو مطلوب ہیں۔ اس لیے پولیس ان کو گرفتار کرنے کے لیے کھڑی ہے، ان پر الزام ہے کہ وہ نو مئی کے واقعات میں ملوث ہیں، ان پر ایف آئی آر درج ہے۔ پولیس عدالت کے احاطہ میں کسی کو گرفتار نہیں کرسکتی۔ یہ ممانعت چیئرمین تحریک انصاف کی احاطہ عدالت سے گرفتاری کے بعد ہوئی تھی، پہلے ایسی کوئی ممانعت نہیں تھی۔
زرتاج گل نے عدالت کے احاطہ سے اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن میں وہ اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی دھائی دے رہی تھیں۔ کیا کوئی بھی شخص عدالت کے بار روم اور عدالت کے احاطہ سے اپنی مظلومیت کی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتا ہے؟ خواہ وہ مفرور اور اشتہاری کیوں نہ ہو۔ بار کے عہدیداروں سے بھی سوال ہے کہ بار روم صرف ایک مخصوص شہری کے لیے کھولا گیا ہے ، صرف انھیں وہاں رات گزارنے کی سہولت دی گئی تھی۔
کیونکہ وکلاء نے بار رومز میں سائلین اور عام شہریوں کے داخلہ پر پابندی لگائی ہوتی ہے۔ بار روم کے اندر صرف وکیل ہی جا سکتے ہیں۔ امید ہے کہ اب جو بھی سائل حفاظتی ضمانت کے لیے رات کو عدالت پہنچے گا، اسے بار روم وہی سہولیات دی جائیں گی جو زرتاج گل کو دی گئی ہیں، ایسے ہی ویڈیو بنانے کی سہولت بھی دی جائے گی، کیمرے لیجانے کی اجازت ہو گی، ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی اجازت ہو گی۔ امید ہے کہ جیسے ایمان طاہر اور زرتاج گل کے لیے پشاور کی وکلاء برادری پولیس سے لڑ ی ہے، ویسے ہی عام شہریوں کے لیے بھی لڑے گی۔

Back to top button