پی ٹی آئی الیکشن لڑے بغیر ہی انتخابی دنگل کیسے جیتے گی؟

پی ٹی آئی کے کاغذی انقلابیوں کی شرپسندانہ اور تخیلاتی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف تحریک انصاف سے انتخابی نشان اور اس کی شناخت چھن چکی ہے بلکہ عمران خان کی کچن کیبنٹ میں شامل اکثریتی رہنما یا تو پابند سلاسل ہیں یا بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں جبکہ عمران خان  کو ریڈ لائن قرار دینے والوں کی بڑی تعداد تحریک انصاف کی کشتی سے چھلانگ لگا چکی ہے لیکن پی ٹی آئی پر قابض نئی قیادت اب بھی آئندہ انتخابات کے بعد اپنے اقتدار کے سہانے خواب دیکھ رہی ہے۔ تاہم  اسے ابھی تک یہ یقین نہیں کہ الیکشن میں بلا اور تحریک انصاف بیلٹ پیپر پر ہوگی یا نہیں۔

دوسری جانب مبصرین کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف جو فیس کررہی ہے یہ بائی چوائس ہے۔ تاہم کسی سیاسی جماعت کو میدان سے آؤٹ نہیں کیا جانا چاہئے،الیکشن ایکٹ میں ایک ابہام ہے۔ الیکشن ایکٹ ہر پارٹی پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں۔کیا الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بے قاعدگیوں کو بنیاد بناکر یہ کہے کہ انتخابی نشان جاری نہیں کریں گے۔ اس ابہام کو واضح کرنے کی ضرورت ہے یہ سپریم کورٹ کے سطح پر ہی ہونا چاہئے۔اب پی ٹی آئی بالکل صحیح کررہی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے پاس جارہی ہے اور ہمیں ان سوالات کے جواب مل جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو عدالت کے ذریعے یا عسکری طاقت کے ذریعے میدان سے آؤٹ نہیں کیا جانا چاہئے۔جب آپ اخلاقی اور تکنیکی حوالے سے دیکھتے ہیں تو پھر پی ٹی آئی کا بچ جانا مشکل نظر آتا ہے۔انہوں نے جس طریقے سے انٹرا پارٹی الیکشن کیا اسے الیکشن قرار نہیں دیا جاسکتا۔قانون میں کسی پارٹی کے لئے انٹرا پارٹی الیکشن ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہوگا۔

دوسری جانب وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 13 جنوری کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان الاٹ کرنے ہیں۔ اس کے بعد الیکشن کی سمت واضح ہو جائے گی۔ کس پارٹی سے کسے ٹکٹ ملا۔ کون رہ گیا، الیکشن مہم چل پڑے گی۔ پی ٹی آئی ابھی الیکشن کے نشان کے لیے ہی مقدمے بازی میں الجھی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن وقت پر نہیں کروائے۔ جب الیکشن کمیشن کے کہنے پر کروائے تو اپنے آئین کے مطابق نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن نے نشان واپس لیا اور پارٹی الیکشن ماننے سے انکار کر دیا۔بیرسٹر گوہر خان پی ٹی آئی کے چیئرمین لگے یا بنے ہوئے ہیں۔ ان کا تازہ بیان ہے کہ ہم 90 فیصد سیٹیں جیتیں گے۔ بندہ پوچھے کہ سرکار آپ کے امیدوار کدھر ہیں؟ آپ کی پارٹی کا نشان کیا ہے؟ الیکشن مہم کس نے چلانی ہے؟ ۔ کیسی تھکی ہاری پارٹیوں کا یہ مسئلہ نہیں بنا اور پی ٹی آئی نے یہ مسئلہ بننے دیا۔ پارٹی لیڈر کی الیکشن لڑنے میں دلچسپی ہی نہیں تھی نہ ہے۔ وہ بس رولا ڈالے رکھنا چاہتے ہیں۔

ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ہمارا اسپورٹس سپر اسٹار لیڈر جب وزیراعظم بنا تو عدم اعتماد سے ہٹائے جانے کا سامنا اسپورٹس مین سپرٹ سے کرنے میں ناکام رہا۔ وہی لوگ جو 3 سال ساتھ تھے دوڑ گئے۔ جو 3 وزیراعلیٰ بنائے تھے وہ پارٹی ہی چھوڑ گئے۔ اس سب کے ساتھ سائفر والی سازش فٹ کی۔ اس کے بعد اللہ واسطے اپنا کارکن سپوٹر اتنا دوڑایا اتنا تھکایا۔ دے مار جلسے، دھرنے، لانگ مارچ، جلوس نکالے۔ اپنے ساتھ چاہت، عقیدت اور تعلق کا وہ امتحان لیا کہ بس کرا دی۔ اس کے بعد 9 مئی ہوا۔ سیاسی لیڈر گرفتار ہوں تو ایک وی کا نشان بناتے ہیں ۔ اپنے سپوٹروں کی غیرت جگاتے ہیں کہ تمہارے لیے جیل گیا۔ الیکشن کا خرچہ آدھے سے کم رہ جاتا ہے۔

کپتان نے ورکر کو کٹوانے کی ٹھان لی۔ اس کے لیے پہلے سے تیاری کی۔ اب نتیجہ سامنے ہے کہ مقبولیت ہے، اس کو کیش کرانے والا نہ امیدوار بچا ہے، نہ پارٹی کے پاس الیکشن کا نشان ہے۔ نہ الیکشن لڑنے والی مشینری ہے۔ کپتان کے جس ورکر کو چھیڑ لو وہ کپتانیاں مارنے لگ جاتا ہے۔ مقبولیت کے گرم انڈے جن کو خود بھی ہاتھ لگاتے ڈرتے ہیں بیچنے لگ جاتے ہیں۔ بھئی وہ الیکشن ڈے پرفارمنس کے لیے مکینزم کدھر ہے؟ ووٹر پٹواریوں، جیالوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر آئے گا، پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹ کدھر ہیں؟ بس مقبولیت ہی کا آسرا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماضی قریب میں پی ٹی آئی نے کوشش کر کے دوست ملکوں میں اپنے لیے حالات خراب کیے۔ اس کی بہت باتیں آ پ کو یاد ہوں گی۔ عمران خان کو جب سعودی طیارے سے اتارا گیا۔ جب یورپی یونین کے خلاف باتیں جلسے میں کی گئیں۔ جب سائفر کو سازش بنایا گیا۔ ایک لمبی لسٹ ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیکھ لیں، آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، سیاسی ضرورت اور شرارت کے تحت تیل کی قیمت بڑھانی تھی الٹا کم کر دی گئی۔ یہ نظر انداز ہو سکتی ہے بات۔ جب پی ڈی ایم حکومت آئی تو شوکت ترین کا صوبائی وزرائے خزانہ سے کہنا کہ آئی ایم ایف کو صوبائی وزرائے خزانہ سپورٹنگ لیٹر نہ فراہم کریں تاکہ ڈیل نہ ہو۔ عمران خان کی ان حماقتوں اور سازشوں کو کون بھولے گا۔ ان حالات میں پی ٹی آئی نے کیا الیکشن لڑنا ہے۔ البتہ وہ لڑے بغیر الیکشن جیتنے کا تاثر ضرور بنانا چاہتی ہے۔

Back to top button