عمران خان الیکشن کمیشن سے لڑائی کو بڑھاوا کیوں دے رہے ہیں؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر عائد کردہ الزامات نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کے خلاف الزامات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لگائے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کے خلاف پچھلے چھ برس سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی اب ہونے والا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی فرد واحد کی خوشنودی کی خاطر پاکستان کے آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور وزیر اعظم کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ 5 مارچ کو چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اجلاس کے بعد جاری ایک سخت اعلامیے میں کہا گیا کہ سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں کہ انتخابات خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ لیکن الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا، خصوصی طورر پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بالخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے جو اپنے خطاب میں فرمایا وہ قابل افسوس یے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر کسی کو اس کے کسی فیصلے پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کرے نہ کہ الزام تراشی کرے۔ ویسے بھی سیاستدانوں میں شکست تسلیم کرنے اور اسے برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعظم نے ای سی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے، پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے، یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے، سینٹ میں سید یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد شدید جھنجھلاہٹ کا شکار عمران خان نے مذید کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا، آپ نے جمہوریت کا وقار مجروح کیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر اس طرح کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں ہیں۔ عمران خان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ای سی پی نے کہا کہ ‘اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے، اس کو دیکھنا ہوتا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا معیار ہے’۔ بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر نہ تو آئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کر سکتے ہیں، اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کرے اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں، ہم کسی بھی دباؤ میں نہ تو کبھی آئے ہیں اور نہ ہی انشااللہ کبھی آئیں گے’۔
الیکشن کمیشن نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کمیشن سبکی سنتا ہے مگر صرف اور صرف آئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے’۔ انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل کالج میں ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے نتائج قبول کیے گے، لہذا سینیٹ کے جس نتیجے پر تبصرہ کیا گیا اور ناراضی کا اظہار کیا گیا، الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔
خیال رہے کہ 4 مارچ کو سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’سیکرٹ بیلٹ کروا کر الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، یہ کون سی جمہوریت ہے جہاں پیسے دے کر کوئی بھی سینیٹر بن جاتا ہے۔‘ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’صاف اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی، مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کیوں کہا کہ خفیہ بلیٹ ہونا چاہیے، کوئی آئین اجازت دیتا ہے رشوت دینے کی؟ کوئی آئین اجازت دیتا ہے چوری کرنے کی؟ عمران خان نے کہا کہ ’سارے ملک کے سامنے پیسہ چل رہا ہے، پیسے کی ویڈیو بھی چل رہی ہے، اس سے پہلے 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پیسے لینے کی ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے۔‘ انہوں نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو علم نہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنا آپ کی ذمہ داری تھی ؟ ساری ایجنسیاں آپ کے ماتحت ہیں، جب ملکی قیادت رشوت لے اور رشوت دے گی تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پٹواری اور تھانیدار ٹھیک ہو جائے گا۔‘ وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہماری اخلاقیات کو بھی نقصان پہنچایا ہے، آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے، جو شخص کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ملک کی کیا خدمت کرے گا؟ وہ یہ لگایا گیا پیسہ کہاں سے وصول کرے گا؟‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف تقریر کرکے ایک غیر ضروری پنڈورا باکس کھولا ہے اور وہ شاید یہ بھول گئے کہ یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جو پچھلے چھ برس سے تحریک انصاف کے خلاف اکبر ایس بابر کا دائرکردہ فارن فنڈنگ کیس لٹکاتا چلا جارہا ہے۔ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا اب فارن فنڈنگ کیس کا بھی جلد فیصلہ ہونے جا رہا ہے جس وجہ سے عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button