عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ میں اپنا مضبوط دھڑا قائم کرلیا

معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک شروع ہونے سے بہت پہلے ہی وزیر اعظم عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اپنا ایک بڑا حمایتی دھڑا قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو اب تک ان کے مفادات کی جانفشانی سے نگہبانی کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ حزب مخالف کی احتجاجی تحریک سے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کہ فوجی اور انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ دو مختلف سمتوں میں گامزن ہیں اور انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ اپنے اصل ادارے کی بجائے وزیراعظم کے ساتھ زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے اور لانگ مارچ فروری کے بجائے بعد میں کرنے کے اشاروں کے بعد حکومتی ترجمانوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ ساتھ ہو ساتھ اب عوام میں بھی یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت ہٹانے کی تحریک شاید اپنے نتائج کے حصول میں ناکام ہو گئی ہے۔ تاہم اپوزیشن قیادت اس تاثر کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور اسکا اصرار ہے کہ نہ تو پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں اپنے استعفوں کے اعلان سے پیچھے ہٹی ہیں اور نہ ہی لانگ مارچ کے اعلان سے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ سخت سردی کا موسم کسی بھی سیاسی تحریک کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہوتا ہے لہذا اپوزیشن جماعتیں عوام کو بھی ایسے موسم میں کسی امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب اپوزیشن اتحاد نے استعفوں اور لانگ مارچ کے کیے جنوری اور فروری کی ڈیڈ لائینز دیں تو کیا تب انہیں سخت موسم کا اندازہ نہیں تھا۔
دراصل اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے غبارے میں سے ہوا نکلنے کا تاثر تب بنا جب یکم جنوری کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یہ کہا کہ عمران خان کی حکومت کے پاس مستعفی ہونے کے لیے ایک ماہ کا وقت باقی ہے جسکے بعد لانگ مارچ شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ابھی یہ فیصلہ ہونا ہے کہ مارچ اسلام آباد کی طرف ہو گا یا پنڈی کی طرف۔ انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کلیئر کرے کہ وہ اب بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے یا عوام کے ساتھ اور اگر وہ اب بھی عمران کے ساتھ کھڑی ہے تو پھر اپوزیشن کر لانگ مارچ کا رخ راولپنڈی کی جانب ہوگا۔ یاد رہے کے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کی قیادت نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آنے والے ضمنی الیکشن اور سینٹ الیکشن میں حصہ لیا جائے اور اس کے بعد استعفوں اور لانگ مارچ کی آپشنز استعمال کی جائیں۔ بعد ازاں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے اور سینیٹ کے الیکشن بارے فیصلہ بعد میں ہو گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے رہنما آہستہ آہستہ اب یہ تسلیم کرتے نظر آرہے ہیں کہ فروری میں لانگ مارچ کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ کہ سینیٹ انتخابات سے قبل استعفے دیے جانے کا بھی کوئی امکان نہیں کیونکہ پیپلز پارٹی نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد کی اہم جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے چند دن قبل یہ کہا کہ لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان لوگوں کی سہولت اور موسم کو دیکھتے ہوئے کریں گے۔ انہی کی جماعت کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی پر یہ انکشاف بھی کیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ پہلے ضمنی اور سینیٹ الیکشنز ہوں گے، پھر لانگ مارچ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم آنکھیں بند کر کے دریا میں چھلانگ لگا دیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن فوری استعفوں سے انکار اور اپنا لانگ مارچ موخر کر کے حکومت مخالف تحریک کی ناکامی کا اعلان کر رہی ہے؟ اس حوالے سے سینیئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ اپوزیشن کا حکومت ہٹانے کا مقصد ابھی حاصل نہیں ہو پایا تاہم سیاسی تحریکیں مکمل ناکام کبھی بھی نہیں ہوتیں کیونکہ وہ اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ اس تحریک نے بھی یقیناً اب تک ملکی سیاسی منظر نامے پر اہنے اثرات چھوڑے ہیں۔ ابھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپوزیشن تحریک کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے اور اب دوسرا مرحلہ شروع ہو گا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جو مقاصد پی ڈی ایم کی جانب سے گذشتہ سال ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں پیش کیے گئے تھے ظاہر ہے وہ حاصل نہیں ہوئے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اب بھی چُپ نہیں بیٹھے گی بلکہ دوبارہ تحریک شروع کرے گی جو احتجاج کا دوسرا مرحلہ ہو گا۔ تب تک موسم بھی تبدیل ہوچکا ہوگا اور ضمنی انتخابات بھی ہو چکے ہوں گے اس لیے لیے ابھی ہم اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی ناکامی یا کامیابی بارے کوئی پیشین گوئی نہیں کر سکتے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ حکومت کی بدترین کارکردگی کے باعث پاکستانی عوام شدید تنگ ہیں اور اگر اپوزیشن اپنی حکومت مخالف تحریک میں شدت پیدا کرلے تو پھر عوام بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ٹوٹی جوتی پہنے ہوئے غریب لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، حکومت گھر نہیں جائے گی۔ تاہم دوسری طرف کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستانی عوام سمجھ چکے ہیں کہ ملک میں سیاسی تبدیلی صرف اور صرف طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے آتی ہے اور وہ اپنا ووٹ کسی بھی جماعت کو ڈالیں وہ اس جماعت کے ڈبے سے نکلے گا جاے اسٹیبلشمنٹ جتوانا چاہے گی لہذا اب نہ وہ سڑکوں پر نکلنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کا الیکشن کے نظام پر کوئی اعتماد رہ گیا ہے۔ ہاں حکومت سے تنگ غریب آدمی کے بس میں بد دعائیں ہیں جو وہ مسلسل دے رہا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کی حکومت مخالف تحریک کے مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان میں اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں۔ ’ایک ساٹھ کے عشرے کے آخر میں صدر ایوب کے خلاف اپوزیشن کی تحریک جو ان کے استعفے پر منتج ہوئی اور دوسری سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک جو ضیا مارشل لا کا باعث بنی اور پاکستان کے گلے دس برس کھا گئی۔ ان دونوں تحریکوں کی کامیابی کی وجہ ان کی شدت، عوامی شمولیت اور قیادت کی مستقل مزاجی تھی حالانکہ ایک تحریک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف تھی اور دوسری ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف۔ جنرل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کا جھنڈا بھٹو نے تھاما ہوا تھا جبکہ بھٹو کے خلاف تحریک مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے چلائی جس کو آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے آگے بڑھ کر کامیاب بنایا کیونکہ وہ خود بھی ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اسکے والد ایک امام مسجد تھے۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تبلیغی جماعت کو فوجی یونٹس میں جا کر تبلیغ کی اجازت دی گئی۔ بعد ازاں دس برس تک پاکستانی قوم کو جنرل ضیاء الحق کی نام نہاد اسلامائزیشن برداشت کرنا پڑی۔
تاہم موجودہ حکومت مخالف تحریک کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی تینوں بڑی جماعتیں شامل ہیں جو تین مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی لیفٹ کی لبرل اور ترقی پسند پیپلز پارٹی، رائٹ کی قدامت پسند مسلم لیگ اور کٹر مذہبی رجحان رکھنے والی جمیعت علماء اسلام۔ لہذا تجزیہنکا سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے پاس اتنی صلاحیت اور عوامی حمایت ضرور ہے کہ وہ ایک لمبے عرصے تک حکومت کے خلاف تحریک جاری رکھ سکے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک فوری طور پر حکومت کو گرانے اور وزیراعظم عمران خان کو فارغ کروانے جیسے مقاصد کو حاصل کرتی نظر نہیں آتی کیوں کہ ان کے پاس اتنی سٹریٹ پاور نظر نہیں آئی کہ وہ یہ مقاصد حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں کے اندر اختلاف رائے کی وجہ سے بھی وہ کسی متفقہ حکمت عملی پر متفق نہیں ہو پا رہے۔
اپوزیشن کے لیے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک عمران خان کا ساتھ دے رہی ہے جو کہ انکو اقتدار میں بھی لائی تھی۔ اب اگر اپوزیشن اتحاد میں شامل گیارہ جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ حکومت گر جائے تو ان کو قومی اتحاد یا ایوب مخالف تحریک کی طرح موثر ہونا پڑے گا تاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ حکومت کی حمایت چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہو جائے تو عمران خان کی حکومت صرف ایک تحریک عدم اعتماد سے ہی گر جائے گی کیونکہ جن اتحادیوں کے مدد سے ان کی حکومت کھڑی ہے وہ پہلے ہی ان سے ناراض ہیں اور صرف ایک اشارے کے انتظار میں ہیں۔
لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ فوجی اور انٹیلی جینس اسٹیبلشمنٹ کے اندر اپنا ایک بڑا حمایتی دھڑا قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو کہ ان کے مفادات کی نگہبانی کر رہا ہے۔ ماضی میں ہمیشہ سے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف مل کر چلتے رہے ہیں کیونکہ ان کے ادارہ جاتی اور ذاتی مفادات مشترکہ ہوتے تھے تاہم کہا جاتا ہے کہ فوج کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کہ ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ دو مختلف سمتوں میں گامزن ہے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے سیاسی مفاہمت کے لیے جو بھی اقدام کیا جاتا ہے اس کو فوری طور پر کاونٹر کر دیا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ استعمال ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ کار کراچی میں مریم نواز شریف کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے واقعے کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا آپریشن آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کے ذریعے کیا گیا اور اسکا بڑا مقصد اس مفاہمتی ماحول کو ختم کرنا تھا جو کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کراچی واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور پھر آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر کو اسکے عہدے سے معطل کردیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے کراچی واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کرنے پر وزیراعظم برہم بھی ہوئے۔ اپوزیشن تو پہلے ہی یہ الزام عائد کر رہی تھی کہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف خفیہ ایجنسی نے کراچی آپریشن وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کیا۔ حالات میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹیلی جنس اسٹیبلشمینٹ اپنے اصل ادارے سے ذیادہ وزیر اعظم سے وفاداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے اپوزیشن کی کپتان مخالف تحریک فوری کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔
