عمران خان نے جنرل قمر باجوہ کو توسیع کیوں دی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ انہیں آج دن تک ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ عمران خان نے اپنے بار بار کے دعووں کے برعکس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملازمت میں توسیع کیوں دی؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ایاز میر کہتے ہیں کہ ایک چیز سمجھ نہیں آئی۔ جب فوجی سربراہ کی مدت ملازمت پوری ہورہی تھی، تو ہم لوگ سمجھتے تھے کہ توسیع ہو ہی نہیں سکتی اور عمران ایسی توسیع کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ لیکن ہم سادہ لوگوں کی حیرانی کی انتہا نہ تھی جب توسیع دینے کی تیاریاں شروع ہونے لگین۔ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک بھی گیا اور کہا گیا کہ اس پر تو باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست بلائی گئی، ایک باقاعدہ قانون تیار کیا گیا اور پھر پی ٹی آئی کے علاوہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے بھی قومی اتفاق رائے سے قانون پاس کروا دیا اور یوں توسیع ہو گئی۔ بقول ایاز امیر، ان کی سمجھ میں جو بات نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ اس سارے ناٹک کی ضرورت کیا تھی؟ ہم جیسے جو ہمیشہ سے ہی سادہ لوح رہے ہیں سمجھ رہے تھے کہ عمران تو میرٹ کے بادشاہ ہیں اور کئی بار توسیع کی روایت کے خلاف بول چکے ہیں لہذا وہ ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا کیا اور ہمارے ذہنوں میں سوال چھوڑ گئے کہ کون سی مجبوری تھی جس کے تحت توسیع کو ضروری سمجھا گیا۔
بقول ایاز امیر، اب دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یا تو عمران سے فیصلہ کروایا گیا۔ اگر ایسا تھا تو پھر موصوف کی جوانمردی پر سوال اٹھتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فیصلہ عمران کا اپنا تھا، ایسی صورت میں موصوف کی عقل پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ بہرحال آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے یہ حرکت کی کیوں۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے تین روز پہلے صحافیوں کے ایک ٹولے کو مجھ سمیت وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا۔جب وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تو اور چیزوں کے علاوہ ایک بار پھر انہوں نے عثمان بزدار کا بھر پور دفاع کیا۔ بزدار کے بارے میں ان سے سوال ضرور کیا گیا تھا لیکن وہ ایسا موقع نہ تھا کہ بزدار کا اس گرم جوشی سے دفاع کیا جاتا۔ لیکن خان صاحب نے ایسا کیا۔ بزدار کا معمہ آج تک ہمارے ذہنوں میں حل نہیں ہوسکا۔ اس شہسوار کو اتنی اہم ذمہ داری کیلئے کیونکر چنا گیا؟ اس کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے، مجبوری کیا
تھی؟ چہ گوئیاں تو تب بھی ہوتی تھیں، مفروضے گھڑے جاتے تھے لیکن آج تک اس سوال کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مل سکا۔ گوشہ گمنامی سے ایک آدمی اٹھا تھا۔ پی ٹی آئی سے اس کا باقاعدہ تعلق بھی نہ تھا اور آپ نے اسے چیف منسٹر پنجاب بنا دیا۔ بلکہ جب ہر طرف سے اسکی نا اہلی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں اور اور کوئی ڈھنگ کا چیف منسٹر لگانے کا مطالبہ کیا جانے لگا تو بھی خان صاحب ڈٹے رہے اور ہر موقع پر بزدار کی وہ تعریفیں کیں جن سے شاید اس کے فرشتے بھی واقف نہ ہوں۔
بقول ایاز امیر اگر اس کہانی سے پردہ اٹھے تو نہایت ہی دلچسپ ہو گی کہ عمران کا ذہن بزدار کے بارے میں کیسے بنا اور پھر اس نکتے پر مضبوطی سے کیسے قائم رہا۔
ایاز میر کہتے ہیں کہ عمران کے خاص لوگوں میں شامل بزدار جیسی ایک اور مشکوک شخصیت شہزاد اکبر کی بھی تھی جو پتا نہیں کہاں سے آیا اور کہاں چلا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کو جس کا نہ آگے کا پتہ اور نہ پیچھے کا، اسے اتنی اہم پوسٹ پر کس بنا پر لگایا گیا؟ خان صاحب کے سارے دور میں یہ شخص مکے ہی لہراتا رہا، بڑے بڑے دعوے کرتے رہا لیکن آج پوچھا جائے کہ اس نے کیس تیر مارا تھا تو کوئی جواب نہ ملے گا۔ آخر کار جب خان بھی آخری دنوں میں اس کی حقیقت جان گیا تو اسے فارغ کر دیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ سوال یہ ہے کہ عمران جو میرٹ معیار کی بات کرتے تھکتا نہیں، اس نے کون سا معیار دیکھ کر شہزاد اکبر جیسے شخص کو اتنی اہم پوسٹ پر
لگایا تھا۔
بقول ایاز امیر، خان صاحب کی مصیبتیں شروع ہوئی تھیں تو معیشت کے حوالے سے ہوئی تھیں۔ جب ڈالر کی نسبت روپے کو غیر ضروری طور پر بہت ہی سستا کر دیا گیا۔ان کے وزیرخزانہ تب اسد عمر تھے۔ موصوف نہایت شریف اور بھلے انسان ہوں گے لیکن جیسے حالات نے ثابت کیا کہ معیشت کی وہ الف ب نہیں جانتے تھے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا تھا لیکن جا نہیں رہے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے بہت دیر کر دی جس کی وجہ سے کاروباری حلقوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ ہمارے کان تھک چکے ہیں یہ سن سن کے کہ پی ٹی آئی کی جد و جہد کتنی بھی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس لمبی جدوجہد کے بعد اقتدار میں آکر آپ نے پرفارم کرنے کی کیا پلاننگ کی تھی؟2018 سے پہلے تو صاف لگ رہا تھا کہ آپ کو اقتدار میں لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں اپنی ٹیم تو آپ تیار کر لیتے۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ بقول عمران خان، دنیا بھر کے نامور پاکستانی آپ کو صلاح مشورہ دیتے تھے اور آپ کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار تھے۔ ایسے میں ڈھنگ کا ایک وزیر خزانہ تو چن لیتے۔ لیکن کس کو کہاں لگانا ہے یہ فیصلہ آپ سے ہو ہی نہ سکا۔ اب اگر قسمت نے آپ کا ساتھ دیا اور آپ دوبارہ اقتدار میں آئے تو کیا ضمانت ہے کہ آپ نکموں کا ایک نیا ٹولا عوام پر نہیں ٹھونس دیں گے۔
