عمران خان کو بزدار جیسے سیاسی بونے کیوں پسند ہیں؟

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے ارادوں کے باوجود ابھی تک وزیراعظم عمران خان نے اپنے نام نہاد وسیم اکرم پلس کو ہٹانے کے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ وہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ کسی ایسے شخص کے حوالے نہیں کرنا چاہتے جس کا اپنا سیاسی قد کاٹھ ہو اور جو کل کو ان کے لیے چیلنج بن سکے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے ڈھائی برس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاسی بونے عثمان بزدار کی نکمی ترین کارکردگی پر اسٹیبلشمنٹ کے بار بار کے اعتراضات کے باوجود انہیں انکے عہدے پر برقرار رکھا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ ایک تو کپتان حرف عین سے شروع ہونے والے عثمان بزدار کو پنکی پیرنی کے روحانی حساب کتاب کی بنیاد پر اپنے اقتدار کا ضامن سمجھتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بتائی جاتی یے کہ کپتان کی خواہش کے عین مطابق بزدار ایک ڈمی وزیر اعلی کا کردار ادا کرتے ہیں اور اسلام آباد سے آنے والے ہر حکم پر من و عن عمل کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے لیے عثمان بزدار جیسے سیاسی طور پر کمزور اور لو پروفائل شخص کو اس لیے منتخب کیا تھا تا کہ وہ کل کو اپنی کوئی سیاسی حیثیت اور قد کاٹھ نہ بنا سکیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خان صاحب ایسا کرتے ہوئے بھول گئے کہ جب شہباز شریف نے پنجاب میں بطور وزیراعلی ڈلیور کیا تو ان کی گڈ گورننس نے مرکز میں ان کے بڑے بھائی نواز شریف کے اقتدار کو مضبوط کیا اور عوام پہنچایا۔ دوسری جانب گزشتہ ڈھائی برس میں بزدار کی نااہل اور ناکام حکومت نے جہاں اہل پنجاب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے وہیں اس کا خمیازہ مرکز میں عمران خان کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔
سیاسی حلقوں میں جب عثمان بزدار کا موازنہ ان کے پیشرو شہباز شریف سے کیا جاتا ہے تو عثمان بزدار کی کارکردگی صفر نظر آتی ہے جس کی ذمہ داری بزدار سے ذیادہ عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح جب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے عوام تنگ پڑتے ہیں تو وہ عمران خان کو برا بھلا کہنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کو گالی دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں اقتدار میں کون لے کر آیا تھا۔
تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ اگر خان صاحب نے بزدار کی بجائے کسی اہل شخص کو وزیراعلی لگایا ہوتا تو اس کی اچھی پرفارمنس کا برای راست فائدہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کو پہنچتا اور حکومت کا امیج بہتر ہوتا، لیکن عمران خان کے اندر کے خوف نے نہ صرف انہیں پنجاب میں رسوا کروایا بلکہ قومی سطح پر بھی حکومتی مشکلات میں اضافہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خان صاحب کی کرسی خطرے میں پڑنے کے بعد اب ایک بار پھر بزدار کی تبدیلی کے حوالے سے چہ میگوئیاں شرعو6 ہو ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی بزدار کے مستقبل کے حوالے سے کپتان شش و پنج کا شکار ہیں چونکہ اس حوالے سے آخری فیصلہ بشری بی بی کو کرنا ہے۔ یاد رہے کہ عثمان بزدار بشریٰ بی بی کی سب سے پکی سہیلی فرح شہزادی کے شوہر احسن جمیل گجر کے بہترین دوست ہیں۔ احسن جمیل گجر کو پنجاب کا ڈیفیکٹو وزیر اعلی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف بشری بی بی بی کے قریب ہیں بلکہ ان کے سابقہ شوہر خاور فرید مانیکا کے بھی دوست ہیں جن کا پنجاب کی بیوروکریسی میں سکہ چلتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں اس وقت سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ جب سے بلاول بھٹو نے پنجاب حکومت بدلنے کا عندیہ دیا ہے، صوبے میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر چلا گیا ہے۔ پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ اپوزیشن اتحاد پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا امیدوار بنانا بنانا چاہتا ہے لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور نواز لیگ نے عثمان بزدار کی جگہ اپنی جماعت سے حمزہ شہباز شریف کو آگے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ٹائمنگ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن کے بعد فائنل کی جائے گی۔
یاد رہے کہ سردار عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی باتیں ان کے وزیراعلی بنتے ہی شروع ہو گئی تھی۔ تحریک انصاف میں سے بھی بہت لوگ وزیراعلی پنجاب بننا چاہتے تھے جن میں فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے لیکن عمران خان کبھی بھی اپنے سے بہتر شخصیت رکھنے والے آدمی کو وزیر اعلی نہیں لگانا چاہتے تھے تاکہ انہیں کبھی یہ نہ سننا پڑے کہ آپ سے اچھا تو آپ کا وزیر اعلی کام کر رہا ہے۔ اس لیے عمران خان نے خیبر پختونخوا پر محمود خان اور پنجاب پر عثمان بزدار کو وزیر اعلی لگایا۔ عثمان بزدار اور محمود خان کو وزیراعلی لگانے پر پارٹی کے بہت سے لوگوں کو تحفظات تھے۔
آج تحریک انصاف کے وزراء ، اراکین اسمبلی، میڈیا، عوام۔اور اپوزیشن والے سبھی اس بات پر متفق  ہیں کہ عثمان بزدار ڈھائی برس میں وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں جس کی امید ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی سے کی جاتی ہے، جسے وسیم اکرم پلس بناکر شہباز شریف کے مدمقابل کھڑا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن نتیجہ وسیم اکرم کے نام کی بدنامی کی صورت میں سامنے آیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران پنجاب میں ایک ڈمی وزیر اعلی لگانا چاہتے تھے جو ان کی منشا کے مطابق کام کرے اور خودمختاری کا خواہشمند نہ ہو۔ اگر ان کی سوچ ایسی نہ ہوتی تو انہوں نے کب کا شاہ محمود قریشی یا فواد چوہدری کو وزیر اعلی پنجاب بنا دیا ہوتا۔
صورتحال یہ یے کہ آج عثمان بزدار کی مکمل ناکامی کے باوجود عمران ان کی پشت پر کھڑے ہیں حالانکہ اپوزیشن نے بزدار کی چھٹی کروانے کے بعد قومی اسمبلی کا رخ کرنا ہے اور پہلے سپیکر اسد قیصر اور پھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہے۔
اگر پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم دیکھی جائے تو تحریک انصاف کے پاس 181 اراکین  ہیں اور اسے مسلم لیگ(ق) کے 10 ارکان کی حمایت حاصل ہے. یوں حکومتی اتحاد کی تعداد 191 ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے پاس 165 جبکہ پیپلز پارٹی کے 7 اراکین ہیں۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) دونوں میں فارورڈ بلاکس موجود ہیں۔  حالانکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ہمیشہ سے بزدار کی مخالف رہی ہے لیکن وپ کوئی انتہائی قدم اس لئے نہیں اٹھائے گی کہ کپتان اسمبلیاں نہ توڑ ڈالے۔ باخبر حلقوں کے مطابق بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ بزدار کو مستقبل قریب میں کوئی سنگین خطرہ لاحق نہیں ہے اور وہ تب ہی فارغ ہوں گے جب تان ایسا کرنے کا فیصلہ کر لے گا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو نواز شریف اس حق میں نہیں ہیں کہ پنجاب حکومت بدلی جائے، انکا مطالبہ یے کہ ملک میں نیا الیکشن کروایا جائے کیونکہ الیکشن 2018 میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کرکے ان کو اقتدار میں آنے سے روکا گیا۔ تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن عثمان بزار کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلی پنجاب لگوانے کے لیے منصوبہ بندی کر چکی ہے اور اس مشن میں پیپلز پارٹی اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ اس حوالے سے مریم نواز کا موقف ہے کہ انکی جماعت اڑھائی برس عثمان بزدار کو برداشت کرنے کے بعد پرویز الہی کی صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ کسی شخص کو وزیر اعلی کے طور پر قبول نہیں کر سکتیں لہذا بزدار کی چھٹی ہوئی تو ان کی سیٹ پر حمزہ شہباز ہی بیٹھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button