عمران خان کو گھر بھجوانے کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں اب اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی سے محروم ہونے کے بعد عمران خان حکومت کا گھر جانا ٹھہر چکا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کپتان اینڈ کمپنی کی چھٹی کروانے کے لئے کون سی آپشن اختیار کرتی ہے؟ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں دراڑ آنے کے بعد موجودہ سیاسی صورتحال میں ملک ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے تاہم حکومت مخالف اپوزیشن ابھی تک کپتان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقہ کار پر کوئی متفقہ حکمت عملی طے کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی جس وجہ سے حکومت کو مہلت مل رہی ہے۔
اس وقت اپوزیشن جماعتوں کے لیے بڑا سوال یہ ہے کہ عمران خان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے یا اس سے پہلے ایک بھر پور حکومت مخالف تحریک چلائی جائے۔ تاہم اگلا سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کھو دینے والے عمران اگر عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہو جاتے ہیں تو ان کے بعد کی صورت حال میں کیا ہوگا؟ بڑا سوال یہ ہے کہ اگلی حکومت کس کو ملے گی اور وزیراعظم کون ہوگا۔ اس وقت عددی اکثریت کے حساب سے قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت نواز لیگ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف حکومت لینے کی بجائے فوری طور پر نئے الیکشن چاہتے ہیں اور وہ اسمبلی کے اندر سے تبدیلی کے خواہشمند نہیں۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ملک کا جتنا برا حال کردیا ہے وہ کسی بھی نئی حکومت کے لیے سنبھالنا ممکن نہیں اور اس اقتدار لینے والی جماعت بھی اگلے الیکشن میں عوامی نفرت کا شکار ہو جائے گی اور اس اس حکومت کی ناکامی اگلی حکومت کے گلے پڑ جائے گی۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کو منانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور یہ فارمولا دیا جارہا ہے کہ عمران کی چھٹی کے بعد اگلا وزیراعظم 6 ماہ کے اندر اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کی راہ ہموار کر دے۔
تاہم بتایا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اس فارمولے کی حمایتی نہیں کیونکہ وقت سے پہلے اسمبلیاں توڑے جانے کی صورت میں سندھ حکومت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور پیپلز پارٹی کو دوبارہ الیکشن میں جانا پڑے گا۔ ان تحفظات کے پیش نظر اس وقت پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت ملاقاتوں میں مصروف ہے تاکہ باہمی اتفاق سے کوئی متفقہ حکمت عملی طے کی جا سکے۔ دوسری جانب یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں کپتان کے لیے نہ صرف حکومت کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب انکا بچنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں ایک بار پھر خاصی گرم جوشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دراصل حزب اختلاف کو لگتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے اور یہ ہی موقع ہے کہ حکومت کو بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کی سطح پر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے درمیان نیا سیاسی رومانس بھی دیکھنے کو مل رہا ہے اور معاملات سڑکوں سے زیادہ پارلیمنٹ کے اندر گرم نظر آتے ہیں جو یقینی طور پر نواز شریف اور فضل الرحمن کی سیاسی خواہش کے برعکس ہے۔
حالیہ دنوں میں بڑی سیاسی تبدیلی کے حوالے سے بحث میں جو شدت آئی ہے، اس کی بڑی وجہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کو سمجھا جارہا ہے۔ تبدیلی کا خاکہ پیش کرنے والوں کا خیال ہے کہ موجودہ صورت حال میں حکومت اور فوجی اسٹیبلیشمنٹ کے ایک پیج پر چلنے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں اور دونوں طرف سے بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی سے دو بلوں میں حکومت کی پسپائی اور انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا موخر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں کی صفوں میں بھی مختلف امور پر کافی مسائل موجود ہیں جو قانون سازی سے روکنے کا سبب بن رہی ہے ۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اسوقت المیہ یہ ہے کہ عمران خان کو نکالنے کی حکمت عملی کے حوالے سے حزب اختلاف دو حصوں میں تقسیم ہے۔ دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کی سیاست میں بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا کردار زیادہ نظر آرہا ہے جب کہ مزاحمت یا ٹکراؤ کی سیاست کے محاذ پر نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔حزب اختلاف کی یہی سیاسی تقسیم پی ڈی ایم کی بھی سیاسی تقسیم کا سبب بنی تھی اور اب بھی پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی میں فاصلوں کا کھیل کسی حد تک نظر آتا ہے۔
اس وقت حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے اپوزیشن چار آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ پہلی آپشن کے مطابق اپوزیشن جماعتیں پنجاب اور مرکز میں تحریک عدم اعتماد کی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی یا کم از کم وزیر اعظم کی تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ ایک بڑی اجتجاجی تحریک یا لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت کو سیاسی اور انتظامی طور پر مفلوج کردیا جائے جس کا نتیجہ وزیر اعظم کے از خود استعفے کی صورت میں نکلے۔ تیسرا آپشن حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کسی طریقے سے اس کو مارچ 2022 میں نئے عام انتخابات کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردینے کا ہے۔ اسکے علاوہ تمام جماعتوں پر مشتمل ایک قومی حکومت کا قیام چوتھی آپشن سمجھا جا رہا ہے۔ البتہ جہاں تک تحریک عدم اعتماد کا تعلق ہے اس پر کھیل کافی دلچسپ ہے۔ پیپلز پارٹی مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے۔
ان کے بقول پنجاب میں یہ کھیل کھیلنے کے بعد ہم مرکز کی طرف بڑھ سکتے ہیں، جب کہ نون لیگ کا مزاحمتی دھڑا پنجاب میں تبدیلی کا حامی نہیں کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں مفاہمتی دھڑے سے تعلق رکھنے والے حمزہ شہباز شریف وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔ اس کھیل میں بڑی رکاوٹ بھی نواز شریف اورمریم نواز ہیں۔ شریف خاندان کسی بھی صورت پنجاب کی سطح پر چوہدری برادران کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جن کی مدد کے بغیر بزدار حکومت کو گرانا ممکن نہیں۔مسلم لیگ ن کے مزاحمتی دھڑے کا مزید یہ موقف ہے کہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور مرکزمیں تبدیلی کی صورت میں معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری کا سارا غصہ نئی حکومت پر پڑے گا کیونکہ آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدوں کے بعد اگلی حکومت بھی عوام کو معاشی ریلیف مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔اس لیے ان کے بقول درست حکمت عملی یا آپشن نئے الیکشن کا راستہ ہی ہوسکتا ہے۔
تاہم ایک خوف یہ بھی ہے کہ اگر حکومت یا وزیر اعظم کو محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ تحریک عدم اعتماد کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ اسمبلیوں کی تحلیل کا اختیار استعمال کر سکتے ہیں جو پیپلزپارٹی کے لیے قابل قبول نہیں، وہ سندھ میں حکومت کررہی ہے اور چاہے گی کہ یہ نظام اپنی سیاسی مدت پوری کرے۔ اسی طرح تحریک انصاف میں سے کسی اور کو وزیر اعظم بنا کر باقی مدت تک نظام کو چلانے کا فارمولا عمران خان کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں سیاست دانوں یا ٹیکنو کریٹ پر مشتمل قومی حکومت کا فارمولہ بھی نہیں چل سکے گا اور کسی ایک نام پر سب فریقین کا متفق ہونا بھی ممکن نہیں ہو گا۔ جہاں تک وزیر اعظم کے استعفیٰ کی آپشن کا تعلق ہے تو اس وقت کوئی ایسی بڑی تحریک نہیں چل رہی کہ اپوزیشن الائنس عمران کو ایسا کرنے کے لیے دباؤ میں لانے میں کامیاب ہو جائے۔ لہذا ان تمام آپشنز میں سے اگر کسی ایک آپشن میں وزن نظر آتا ہے تو وہ عمران کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے رخصت کرنے کا ہے۔
