عمران خان کے برعکس عمرانڈوز کی چیخیں کیوں نکلنے لگیں؟

 توشہ خانہ کیس میں 3 سال کی سزا سنائے جانے کے بعد سے اٹک جیل میں قید عمران خان نے بے خوابی کا شکار ہونے کے بعد نیند کی گولیاں کھانا شروع کر دی ہیں جبکہ دوسری طرف  عمران خان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل میں کیڑے مکوڑے چھوڑے گئے تھے۔ ایک ہفتہ فرش پر سلایا گیا۔ وہ انتہائی کمزور ہو گئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں مطمئن ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت وزرش کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق انہیں عربی قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انہیں جیل میں قانون کے مطابق سہولیات میسر کر دی گئی ہیں، اس کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے یہ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ انہیں جیل میں سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ جبکہ اب انہیں بیرون ملک اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات کی اور بعد میں میڈیا سے بات کر  تے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی جیل میں خوش اور فٹ لگ رہے تھے اور انہوں نے جیل انتظامیہ کے رویے کی بھی تعریف کی۔ جبکہ وہ جیل میں قرآن اور اسلامک ہسٹری کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ تا ہم جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کتب کا مطالعہ تو کرتے رہتے ہیں لیکن انہیں عربی میں قرآن کریم پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔گیا۔ ان  کا زیادہ تر زور آج کل ایکسر سائز ، چہل قدمی اور اپنے کھانےکے مینیو پر ہوتا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان مختلف کتب کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں جن میں زیادہ تر انگریزی زبان میں ہیں، انہیں جیل میں مختلف موضوعات پر کتا ہیں پیش کی گئی ہیں۔ لیکن ان کا زیادہ تر وقت چہل قدمی اور ایکسر سائز میں گزرتا ہے۔ جبکہ جیل حکام سے ملاقاتوں کے شیڈول پر بھی وہ جیل حکام سے اکثر بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق انہیں وکلا ، اہلیہ اور دیگر رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔ اور یہ ملاقاتیں ایسی جگہ کرائی جائیں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہ ہوں اور نہ ہی کوئی ان ملاقاتوں میں شریک رہے۔ ان کی دوسری شرط مان لی گئی ہے لیکن سی سی ٹی وی کیمرے جیل میں ہر طرف اور ہر سیل میں لگ ہوئے ہیں، لہذا اس سے مفر ممکن نہیں۔ اس پر وہ کافی ناراض ہیں۔ جیل حکام سے آج کل عمران خان کی کافی بات چیت ہوتی ہے، خاص طور پر ان کی سیکورٹی پر تعینات عملے اور سیکورٹی انچارج ڈی ایس پی کے ساتھ بات چیت ان کا معمول بنتا جارہا ہے۔ عمران نے اب جیل کو تسلیم کر لیا ہے، وہ عملے سے پنجاب کی جیلوں کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے رہتے ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق عمران خان نے پہلے دس روز جیل میں بڑی مشکل میں گزارے اور پوری پوری رات جاگ کر گزارتے تھے ۔ انہیں صبح پانچ کے قریب نیند آتی تھی جیس اور گرمی نے انہیں کافی پریشان کیا۔ بعد ازاں انہیں روم کولر ، الگ باتھ روم اور دیگر تمام سہولیات دے دی گئی ،جس کی وجہ سے وہ کافی پرسکون ہو گئے۔ اور اب کیفیت یہ ہے کہ اب انھوں نے ورزش کو معمول بنا لیا ہے اور خود کو جیل میں ایڈجسٹ کر لیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق پہلے عمران خان کو کھانے پر کافی تحفظات تھے، لیکن اب وہ بھی دور ہو گئے ہیں۔ انہیں ان کی من پسند خوراک گوشت مہیا کیا جارہا ہے اور وہ کھانے بنانے والے اہلکار سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں جو گوشت دیا جاتا ہے وہ بھون کر دیا جائے، چنانچہ انہیں بھنا ہوا گوشت ان کی خواہش کے مطابق بنا کر دیا جارہا ہے۔ اس سوال پر کہ آیا یہ کھانا جیل قوانین کے مطابق ہے؟ تو ذرائع کا کہنا تھا کہ جیل میں قانون صرف اس کے لیے ہوتا ہے جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو، جیل پیسے اور تعلقات کے زور پر کاٹی جاتی ہے۔ جبکہ سیاست دانوں کے لیے جیل ریسٹ کرنے کا مقام ہوتا ہے۔ پہلے کئی سیاست دان جو اٹک جیل میں آتے رہے وہ مختلف نوعیت کے کام کر کے اپنا وقت گزارتے رہتے تھے۔ کوئی پھل پھول اور پودے لگا کر دل بہلاتا رہتا تو کوئی گپیں ہانک کر وقت پاس کرتا تھا۔ جبکہ عمران خان کو صرف ایک شوق اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ وزرش کرتے رہیں اور کھانا ان کے معیار کے مطابق انہیں دیا جا تار ہے اور ہلکے پھلکے ڈریس میں چہل قدمی کریں۔ اور جیل میں یہ سب کچھ انہیں دستیاب ہے۔

Back to top button