جسٹس بندیال کن سیاستدانوں کا مستقبل گل کرنا چاہتا ہے؟

شہباز حکومت کی جانب سے کی گئی نیب ترامیم سے سب سے زیادہ فائدہ عمران خان اینڈ کمپنی کو ہو رہا ہے جو نہ صرف کیسز میں ضمانتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں بلکہ ان کا ماضی کی طرح 90 نوے دن کا جسمانی ریمانڈ بھی نہیں دیا جاتا تاہم اس کے باوجود نیب ترمیمی قانون کے مخالفین کا الزام ہے کہ اس کا واحد مقصد ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مخصوص ارکان کو فائدہ پہنچانا ہے۔ تاہم حقیقت میں اس قانون سے مستفید ہونے والوں میں دیگر سیاسی وفاداریاں رکھنے والے سیاستدان بھی شامل ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ میں نیب کے ترمیمی قانون کے خلاف زیر سماعت درخواستوں کی وجہ سے متعدد سیاستدانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس بے چینی کا سبب ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آنے کے بعد اس قانون کے مستقبل سے جڑی غیر یقینی ہے۔ اگر اس قانون کے مخالفین عدالت کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ قومی احتساب بیوروکا یہ ترمیمی قانون مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے لایا گیا ہے اور عدالت ا س موقف کو تسلیم کرتے ہوئے یہ قانون کالعدم قرار دے دیتی ہے تو خدشہ ہے کہ کئی سیاست دان اس کی زد میں آسکتے ہیں۔اس قانون کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ن لیگ، پی پی پی سمیت دیگر کئی جماعتوں سے تعلق رکھنے سیاست دانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
سپریم کورٹ اور نیب عدالتوں کی رپورٹنگ کرنے والے سینئیر رپورٹر حسنات ملک نے بتایا، ”نیب میں مقدمات تفتیش، انکوائری اور ٹرائل کے اسٹیج پر ہوتے ہیں۔ نگران وزیر اعظم کے خلاف بھی مقدمہ تفتیش کی اسیٹج پر تھا۔ اگر اس قانون کو جزوی طور پہ غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، تو بہت سارے سیاست دان بچ سکتے ہیں لیکن اگر اس کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تو پھر موجودہ نگراں وزیراعظم کاکڑ بھی زد میں آئیں گے۔‘‘ حسنات ملک کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مستفید ہونے والے سیاستدانوں کی اکثریت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے ہے تاہم دوسری جماعتوں کے ارکان کو بھی اس سے فائدہ ہوا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم مسترد کئے جانے پر مریم نواز، آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن، اسحاق ڈار، خواجہ آ اصف، خواجہ سعد رفیق، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار، عامر محمود کیانی، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی، ڈاکٹرمالک بلوچ، ثنا اللہ زہری، منظور وسان، شرجیل میمن، امیر مقام، لیاقت جتوئی، گہرام بگٹی، جعفر خان مندوخیل اور گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ بھی اس کی زد میں آئیں گے۔‘‘تاہم”90 فیصد مقدمات میں اس قانون میں ترمیم سے مختلف افراد کو فائدہ ہوگا.
سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں ترامیم کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران بعض سیاستدانوں کے بیرون ملک جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نیب قانون سے متعلق عدالتی فیصلے کے ممکنہ منفی اثرات سے بچنے کے لیے پیش بندی کر رہے ہیں۔دوسری جانب اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک پی پی پی کے رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ‘پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلافات کی وجہ سے امکان ہے کہ ایک طار پھر پیپلز پارٹی کے خلاف نیب کے قوانین کو استعمال کیا جائے گا۔ قومی امکان ہے کہ نیب ترمیمی قانون کالعدم ہوجائے اور ہمارے خلاف انتقامی کارروائی شروع ہوجائے۔ اس لئے رہنما باہر جارہے ہیں۔‘‘
تاہم دوسری جانب پی پی پی کی سابق سینیٹر سحر کامران کا دعویٰ ہے کہ پارٹی نیب ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دیے جانے سے خوفزدہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا، ”آصف علی زرداری، فریال تالپور اور خورشید سمیت کئی پارٹی رہنماوں کو جیل میں رکھا گیا۔ لیکن ان پر کوئی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ انہیں علاج ومعالجے سے محروم رکھا گیا اور نیب چیئرمین جاوید اقبال کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون کالعدم ہوجاتا ہے تو ہم عدالتوں کا سامنا کرینگے۔ تمام ظلم وستم کے باوجود فوجی تنصیبات پر حملے نہیں کرینگے اور نہ ہی سرکاری املاک یا گرین بیلٹ کو آگ لگائیں گے۔‘‘
خیال رہے کہ گزشتہ برس جب نیب کا ترمیمی قانون منظور ہوا تو اس کی بہت مخالفت ہوئی تھی۔ تاہم کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم درست تھیں۔ معروف قانون دان مسعود احمد ملک کا کہنا ہے کہ نیب قوانین میں ترامیم آئین کے مطابق ہیں کیونکہ آئین کے تحت 90 دن کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا، جو پہلے نیب قانون کا حصہ تھا۔ اتنا ریمانڈ صرف اس صورت میں دیا جا سکتا ہے جب ملزم کے خلاف ایسے شواہد ہوں جو اس کے جرم کو ثابت کرتے ہوں۔‘‘
