عمران نے آرمی چیف کی دوڑ میں اپنا گھوڑا کیوں بدل لیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے اور اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانے کی کوششوں کی بنیادی وجہ پچھلے 74 برسوں میں حکومتیں بنانے اور گرانے کے حوالے سے فوج کا سیاسی کردار ہے۔ چنانچہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت نے اپنی مرضی کا آرمی چیف لگا لیا تو وہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی منزل سے اور بھی ذیادہ دور ہو جائیں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران پچھلے چار برسوں سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنوانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تاکہ الیکشن 2023 میں موصوف ایک مرتبہ پھر انہیں وزیراعظم بنوا دیں اور وہ اگلے پانچ برس بھی اقتدار کے مزے لیتے رہیں۔ تاہم شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد اب فیض حمید کے نیا فوجی سربراہ بننے کا امکان تقریبا ختم ہو چکا ہے اور انہوں نے اپنا گھوڑا بدلتے ہوئے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو جنرل باجوہ کا متبادل بنانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ عمران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت سینئیر موسٹ جرنیل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے جن کو انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دراصل معاملہ وہی پرانا ہے جو قیام پاکستان سے چل رہا ہے کہ اس ملک میں سب کو اپنی اپنی پسند کا اور اپنا اپنا آرمی چیف چاہئیے جس کو رام رکھ کر وہ اپنا الو سیدھا رکھ سکیں۔ ماضی میں عمران اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے کی روایت کے بڑے ناقد تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے میں اپنی اپنی پسند کی بجائے سینیارٹی کے طریقہ کار کو اپنایا جائے، مگر جب وہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے آئین میں ترمیم کرواتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف تین برس کی توسیع دے دی اور پھر اپنی حکومت کے چھن جانے کے بعد اپنی پسند کے لگائے ہوئے آرمی چیف ہی کو مورد الزام ٹھہرانے لگے۔
عمران خان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے بیانیے پر عمل کرتے ہوئے میرٹ اور سنیارٹی کے مطابق آرمی چیف کا تقرر کریں گے مگر بد قسمتی سے وہ بھی اسی بہاؤ میں بہہ گئے اور اپنی پسند کا آرمی چیف لگانے والے گرداب میں پھنس گئے۔ اب بھی مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان سینئر ترین جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی بجائے سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو خان صاحب کے سیاسی گرو لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے شاگرد خاص ہیں۔ اس کے علاوہ ساحر شمشاد کا تعلق بھی فیض حمید کی طرح چکوال سے ہے۔
لیکن عمران خان اس حوالے سے باقی وزرائے اعظم پر بھی سبقت لے گئے کہ وہ نہ صرف آرمی چیف اپنی پسند کا چاہتے تھے بلکہ آئی ایس آئی کا سربراہ بھی اپنی پسند کا چاہتے تھے۔ انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی بطور کور کمانڈر پشاور تقرری کو روک جنرل باجوہ کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کیے۔ اس معاملے پر انہیں عسکری حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہیں سے ان کے اور عسکری اداروں کے باہمی تعلقات بگڑنے شروع ہوئے جو بالآخر ان کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئے۔ حال ہی میں بنی گالہ میں دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے سینئر صحافی حامد میر کو بتایا ہے کہ وہ جنرل فیض حمید پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر بیٹھے تھے جو کہ غلط تھا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فیض حمید کے تبادلے کو روکنا ان کی غلطی تھی اور انہیں لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی فورا قبول کر لینی چاہیے تھی۔
لیکن بدقسمتی سے یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے بشمول عمران خان کے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج پھر پاکستان اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے فیصل آباد والے جلسے میں بیان دیا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں جبکہ وہ یعنی عمران خان چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری میں ذاتی پسند کی بجائے سنیارٹی اور میرٹ کا خیال رکھا جائے اور یہ بھی نیا آرمی چیف محب الوطن ہو۔
عمران خان کے اس بیان نے پاکستان کے سیاسی و عسکری حلقوں میں کھلبلی مچا دی کیونکہ ان کے بیان سے نئے آرمی چیف کی تقرری کا عمل بذاتِ خود متنازع ہو گیا ہے۔ اس کے بعد عمران خان نے کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف یہ اشارہ دیا کہ وہ موجودہ آرمی چیف کو نئی حکومت آنے تک مزید توسیع دینے پر راضی ہیں۔ عمران خان کو اس بات پر قوی یقین ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں پھر سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے لہذا وہ اگلے آرمی چیف کی تقرری اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حکومتی حلقے اسے دیوانے کا خواب قرار دیتے ہیں اور عمران کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ شہباز شریف کو اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے دیں کیونکہ آئینی طور پر یہ وزیراعظم کا حق ہے۔
