عمران کا حکومت مخالف مہم اور لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد اپنی حکومت مخالف مہم اور لانگ مارچ کو وقتی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان آج وہ راولپنڈی کی جلسہ گاہ میں کریں گے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آج کے جلسے میں عمران خان نئی فوجی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے دو ماہ کا وقت دینے کا اعلان کریں گے اور اس کے ساتھ ہی لانگ مارچ کے بھی خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ آج راولپنڈی میں عمران کی جانب سے دھرنا دیئے جانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ خان صاحب کا نئے الیکشن کرانے کا مطالبہ برقرار رہے گا اور یہ کہا جائے گا کہ اگر نئی فوجی قیادت نے اس مطالبے پر اگلے دو ماہ میں عمل نہ کیا تو پھر نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج راولپنڈی میں عمران خان کا تقریباً تین ہفتوں کے وقفے کے بعد پہلا اور آخری پاور شو ہوگا جس کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کر دیں گے اور اپنی صحت پر توجہ دیں گے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی آج راولپنڈی میں سیاسی میدان سجا رہی ہے۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد پی ٹی آئی کے جلسے کے مقاصد اور مستقبل کے لائحہ عمل کا معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ پی ٹی آئی 26 نومبر کو راولپنڈی میں اسلئے کارکنوں کو جمع کر رہی ہے تاکہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت اور اداروں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ لیکن اس سے قبل ہی نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے جلسے کی اہمیت پہلے ہی کافی کم ہو چکی ہے۔ آرمی چیف کی تقرری کے بعد ملک میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیجانی کیفیت کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے لیکن عمران اپنے پروگرام کے مطابق راولپنڈی میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری اور عمران خان کے امریکی سازش کے بیانیے سے راہ فرار اختیار کر جانے کے بعد ویسے بھی ایسا کوئی ایشو باقی نہیں بچا جس پر سیاست چمکائی جا سکے۔ چنانچہ عمران خان نے یہی بہتر سمجھا کہ عزت بچائی جائے اور لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جائے جس میں شرکاء کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہی ہوتی جا رہی ہے۔عمران خان کے اہم اتحادی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فوج کی نئی قیادت کو خوش آمدید کہا ہے لہذا سیاسی اتفاق رائے کی اس فضا کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کے بعد فوری انتخابات کا مطالبہ لے کر عمران خان کے لیے اپنی مقبولیت برقرار رکھنا اور حامیوں کو متحرک رکھنا ایک چیلنج ہے لہذا بہتر یہی ہو گا کہ لانگ مارچ ختم کرکے اپنی عزت بچائی جائے۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان کا فوری انتخابات کا بیانیہ اب زیادہ کارگر نہیں رہا کیوں کہ لانگ مارچ کے ذریعے وہ جو دباؤ حکومت پر ڈالنا چاہتے تھے اس میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان حکومت پر دباؤ کے اپنے تمام اقدامات اٹھا چکے ہیں اور ان کے پاس فوری انتخابات کے لیے صرف ایک آخری حربہ بچا ہے کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ لیکن ابھی تک کی صورتِ حال میں پی ٹی آئی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی طرف نہیں جانا چاہتی۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دوسری جانب فوج سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھنا چاہتی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فوجی قیادت بھی فوری انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتی۔ فوج پہلے ہی کہہ رہی ہے کہ سیاسی مطالبات پورے کروانے کے لیے اس کی طرف نہ دیکھا جائے کیونکہ فوج غیر سیاسی ہو چکی ہے۔ اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں رانا ثناءاللہ خان نے بھی واضح کیا ہے کہ اب وہ دن گزر گئے جب دھرنا دینے والوں کی جانب سے مطالبے پورے کروانے کے لئے پنڈی والوں سے مطالبہ کیا جاتا تھا۔ ایسے میں عمران خان نے یہی مناسب سمجھا کہ عزت کے ساتھ لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے اور دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کیا جائے۔ چنانچہ آج راولپنڈی کے جلسے میں وہ اپنی حکومت مخالف مہم اور لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کردیں گے۔ تاہم یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے عمران پارلیمنٹ واپس جانے کا فیصلہ بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
