عمران کو 136 جوانوں کی سیکیورٹی مہیا کر دی گئی


پاکستانی سیاسی تاریخ میں عمران خان وہ پہلے سابق وزیراعظم بن گئے ہیں جن کو اقتدار سے نکلنے کے باوجود 136 محافظوں کی سکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کسی سے نہ ڈرنے والا کپتان آجکل عوامی جلسوں میں اپنی زندگی کو لاحق نام نہاد خطرات کا رونا رو رہا ہے۔ موصوف کبھی فرماتے ہیں کہ مجھے زہر دینے کی سازش کی جا رہی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ مجھے قتل کرنے کا پلان بنایا جا رہا ہے۔ ماضی میں جب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ایسے خطرات کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی مانگا کرتے تھے تو خان صاحب اسے ڈھکوسلہ اور جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی بنی گالہ رہائش گاہ پر بشریٰ بی بی اور ان کے جنات کی سخت ترین سکیورٹی کے باوجود بطور وزیر اعظم عمران خان کی رہائش گاہ کو سات سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکار اپنے گھیرے میں رکھا کرتے تھے۔

اقتدار سے بے دخلی کے بعد دیوانگی کے عالم میں ملک کے طول وعرض میں جلسے کرنے والے عمران خان کی جانب سے اپنے قتل کی نام نہاد سازش کے انکشاف کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے موصوف کو فول پروف سکیورٹی مہیا کر دی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں آج تک کسی بھی سابق وزیراعظم کو اتنی زیادہ سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی۔ وزارت داخلہ نے سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیل جاری کر دی ہے جس کے مطابق عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 94 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں اسلام آباد پولیس کے 22 جبکہ ایف سی کے 72 اہلکار شامل ہیں۔

عمران خان نے حالیہ جلسوں میں کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور اس حوالے سے انہوں نے ایک ویڈیو بنا کر محفوظ کر لی ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت عمران خان کی سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزارت داخلہ کی جانب سے وزیراعظم کو عمران خان کی سکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عمران خان کے لیے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر مکمل عملدرآمد کے لیے کہا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے بریفنگ میں بتایا کہ عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 94 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا پولیس کی طرف سے 36، گلگت بلتستان پولیس کے چھ اہلکاروں کو بھی سابق وزیراعظم کی سکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کو عمران خان کو ہر حوالے سے بہترین سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے عمران خان کو فوری طور پر چیف سکیورٹی آفیسر فراہم کرنے جبکہ تمام صوبائی حکومتوں کو بھی جلسوں کے دوران انہیں سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسکے علاوہ ایک پرائیویٹ عسکری سکیورٹی کمپنی کے نو اہلکار بھی بنی گالہ ہاؤس کی سکیورٹی پرمعمور ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی دارالحکومت اسلام آباد سے باہرنقل و حرکت کے دوران اسلام آباد پولیس کی چار گاڑیاں اور23 اہلکار جبکہ رینجرزکی ایک گاڑی اورپانچ اہلکار ان کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سابق وزیراعظم عمران خان امریکی سازش کی طرح اب مسلسل اپنی جان کو خطرے کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جان کو ممکنہ خطرے سے متعلق اگر کوئی ٹھوس ثبوت ان کے پاس ہے تو اسے وزارت داخلہ سے شیئرکریں۔ حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروانے کے لیے تیارہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان چاہیں تو معاملے پر ایک جوڈیشل کمیشن بھی قائم کرسکتے ہیں لیکن پہلے انہیں کوئی ٹھوس ثبوت مہیا کرنا ہوں گے۔

Back to top button