عمران خان ایک اجتماعی نفسیاتی روگ کیسے بن گیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران خان نے جو روش اور رویہ اپنایا ہے اس سے اب عیاں ہو چکا ہے کہ موصوف ایک سیاسی فریق کی بجائے ایک اجتماعی نفسیاتی روگ بن چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بار بار سیاست میں مداخلت سے ہاتھ کھینچنے کا اعلان کر رہی ہے لیکن عمران کا شکوہ ہی یہ ہے کہ ان کے حق میں ماورائے دستور مداخلت کیوں نہیں کی جاتی۔ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا اسکے نتیجے میں اب وفاقی حکومت معاشی محاذ پر بے دست و پا دکھائی دیتی ہے اور مشکل فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ہماری موجودہ حکومت دستور کی شق 95 کی روشنی میں تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد قائم ہوئی اور پارلیمنٹ کو اگست 2023 تک دستوری میعاد دستیاب ہے۔ زمینی صورت حال مگر مختلف نظر آتی ہے۔ وفاق میں صدر عارف علوی اور شہباز شریف حکومت کے مابین خاموش کشمکش جاری ہے۔ صدر نے عدالت عظمیٰ کے نام ایک مکتوب میں وفاقی حکومت کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کی استدعا کر رکھی ہے۔ تحریک انصاف کے 125 ارکان قومی اسمبلی نے عمران خان کی ہدایت پر استعفے دے رکھے ہیں لیکن وہ اسپیکر سے ان استعفوں کی تصدیق کرانے پر آمادہ نہیں۔ تحریک انصاف نے ایوان بالا سے مستعفی ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کا منصب تادم تحریر عدالت میں زیر سماعت ہے۔ بارہ کروڑ کے صوبے میں گورنر موجود نہیں، صوبائی کابینہ کا نشان نہیں۔ سندھ میں نامزد گورنر نسرین جلیل ابھی حلف نہیں اٹھا سکیں۔ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے سو وفاق اور صوبائی اکائی میں تعاون کی صورت معلوم۔ بلوچستان میں مدت سے اسمبلی اور حکومت سمیت کل بندوبست ’ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘ کے عالم میں ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی سے ووٹ آؤٹ ہونے کے بعد سے عمران خان نے احتجاجی تحریک چلاتے ہوئے ملک کے طول و عرض میں جلسوں کی لین ڈوری باندھ دی ہے۔ اسے احتجاج کہئے یا انتخابی مہم، عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور 20 مئی کے بعد اسلام آباد میں طویل مدتی احتجاج کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ بار بار سیاست میں مداخلت سے ہاتھ کھینچنے کا اعلان کر رہی ہے لیکن عمران کا شکوہ ہی یہ ہے کہ ان کے حق میں ماورائے دستور مداخلت کیوں نہیں کی جاتی۔ نجی مجلسوں میں ان کے فرمودات نقل نہیں کئے جا سکتے لیکن ہر خاص و عام کے علم میں ہیں۔ عمران خان اب ایک سیاسی فریق کی بجائے اجتماعی نفسیاتی روگ بن چکے ہیں۔ کچھ زیر زمین معاملات ایسے حساس ہیں کہ ان کا ذکر نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ وفاقی حکومت بے دست و پا دکھائی دیتی ہے۔ یہ تو رہا سیاسی منظر۔
وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ معیشت کا بحران اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ ہماری دیرینہ معاشی تحدیدات سے قطع نظر، عمران حکومت نے 28 فروری کو عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود اور آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں دس روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا نیز یہ بھی بتا دیا کہ آئندہ بجٹ تک یہ قیمتیں بڑھائی نہیں جائیں گی۔ یہ اقتصادی طور پر ایک تباہ کن اقدام تھا اور اس کا مقصد ممکنہ عدم اعتماد کی صورت میں آئندہ حکومت کو مفلوج کرنا تھا۔ ڈھائی ماہ میں سبسڈی کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خوفناک امکان پیدا ہو گیا ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات لٹکے ہوئے ہیں۔ کوئی دوست یا دشمن ایک ٹکہ دینے کا روادار نہیں۔ غیر معاشی سوچ کے حامل تجزیہ کار اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں لیکن ایسا کرنے سے معاشی بحران رفع ہونے کی بجائے مزید خوفناک ہو جائے گا۔ معیشت کی منطق بے رحم ہوتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ عوام کو اعتماد میں لے کر سخت معاشی فیصلوں کا کڑوا گھونٹ بھر لیا جائے۔ معیشت کو سیاست سے منفک نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو معیشت سمجھاتے ہوئے یہ بھی بتانا چاہیے کہ ’برسوں کی محنت‘ سے کانچ کے جو بلوریں برتن ہمارے ایوانوں میں سجائے گئے تھے، اب پلکوں سے ان کی کرچیاں چننے کا وقت آ گیا ہے۔
