عمران نے جھوٹ کے پیغمبر گوئبلز کو پیچھے کیسے چھوڑا؟

جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کے فن میں کمال حاصل کرنے والے جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کے وزیرِ اطلاعات جوزف گوئبلز کو جدید پروپیگنڈے کا باوا سمجھا جاتا ہے۔ گوئبلز کا کہنا تھا کہ عوام کی نفسیات اور کمزوریاں سمجھ کے ایک ہی بات کی تکرار کے ذریعے چوکور کو دائرہ ثابت کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ اسکا کہنا تھا کہ کامیاب پروپیگنڈے کی بنیاد یہ ہے کہ آپ اپنے جھوٹے بیانیے کو مختصر سے عرصے میں کتنی مرتبہ زود ہضم طریقے سے دھرا سکتے ہو، حتیٰ کہ لوگ اسے سچ کے طور پر قبول کرنے لگیں۔ گوئبلز کا ایک قولِ زریں یہ بھی ہے کہ پروپیگنڈے میں دانشورانہ سچائی نہیں چلتی، اس کوبس مقبولِ عام ہونا چاہیے۔ اگرچہ گوئبلز نے کوئی نیا نظریہ پیش نہیں کیا مگر اتنا ضرور کیا کہ صدیوں پرانے ہتھکنڈوں کو سائنسی انداز میں سامنے رکھ دیا۔ اور یہی ہتھکنڈے آج کے پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جھوٹے سازشی بیانیے کو سچ ثابت کرنے کے لیے اپنا رکھے ہیں۔ وہ بھی گوئبلز کے فارمولے کے عین مطابق مسلسل اور اتنا زیادہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا انہیں جھوٹ کا پیغمبر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
معروف انقلابی نظم "میں باغی ہوں” لکھنے والے شاعر اور لکھاری خالد جاوید جان اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں بتاتے ہیں کہ ہٹلر کے وزیرِ اطلاعات گوئبلز نے تاریخ میں پہلی بار ’’ جھوٹ بولنے‘‘ کو ایک فن یا آرٹ کا درجہ دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جھوٹ کو بار بار بولا جائے اور اتنی بار بولا جائے کہ سننے والے سچ سمجھنے لگیں۔ اس گُر کو استعمال کرتے ہوئے ہٹلر اور اس کے ساتھیوں نے جرمن قوم کو دنیا کی بہترین قوم اور ایڈولف ہٹلر کو جرمن قوم کا نجات دہندہ قرار دے دیا۔ اور جرمنی کو پہلی جنگِ عظیم کے دوران شکست اور معاہدہ وارساکی ذلت آمیز شرائط کو قبول کرنے کی وجہ سے جو رسوائی اور ندامت ہوئی تھی، اسکے مداوے کے لیے ہٹلر کی شکل میں خدائی اوتار تک کے درجے پر پہنچا دیا۔
خالد جاوید جان بتاتے ہیں کہ جرمن شاعر وفلاسفر نطشے نے جرمن سپر ہیرو کا جو تصّور دیا تھا، ہٹلر اور اس کے ساتھیوں نے ہٹلر کو اس سپر ہیرو کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ 1933میں ہٹلر کے اقتدار میں آنے سے پہلے جرمنی معاشی طور پر تباہ حال ہوچکا تھا۔ یہ ہٹلر کی خوش قسمتی جبکہ پوری دنیا اور خصوصاًجرمن قوم کی بد قسمتی تھی کہ ہٹلر کو ڈاکٹر شمٹ کی شکل میں ایک ایسا ماہر امورِ خزانہ مل گیا جسکی پالیسیوں کی وجہ سے جرمنی نہ صرف معاشی بدحالی پر قابو پانے میں کامیاب رہا بلکہ وہ یورپ کی معاشی طور پر طاقتور ترین قوم بن گیا۔ پوری دنیا اور جرمن قوم کی بدقسمتی اس لیے کہ اس معاشی کامیابی کی وجہ سے ہٹلر کے فاشزم نے 1939میں پوری دنیا اور جرمن قوم کو جنگِ عظیم دوئم کی بھٹّی میں جھونک دیا، جس سے ایک طرف پوری دنیا کے کروڑوں انسان ہلاک ہوگئے تو دوسری طرف جرمنی راکھ کا ڈھیر بن گیا اور دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا۔ یہ تھا اس دورغ گوئی اور جھوٹے پروپیگنڈے کا انجام جس نے اُس پرانے آفاقی سچ کو ثابت کردیا کہ آپ ایک وقت میں کسی کو بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہر بار ایسا نہیں کر سکتے۔ آج جرمن قوم ہٹلر کا نام اس لیے بھی سننا پسند نہیں کرتی کیونکہ اس نے اپنے جھوٹے پروپیگنڈے سے جرمنی کو مزید رسوائی سے دوچارکیا۔
خالد جاوید جان کے بقول، یہی صورتِ حال آج کل پاکستان میں ہے۔ عمران خان اور اس کے گوئبلز بھی دن رات جھوٹ بول بول کر نہ صرف پاکستان کے تعلقات بیرونی ممالک سے خراب کر رہے ہیں بلکہ اندرونِ ملک عوام میں نفرتیں تقسیم کر کے ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جارہے ہیں، جس کے خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران کے چار سالہ دور میں ہٹلر کی طرح نہ تو پاکستان میں سیاسی استحکام آسکا اور نہ ہی معاشی خوشحالی بلکہ ہر ادارے کی طرح معیشت بھی بری طرح تباہ ہوگئی اور 1951 کے بعد پاکستانی معیشت پہلی مرتبہ منفی درجے میں چلی گئی، اس تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1992 کا کرکٹ ورلڈ کرکٹ کپ جسے ہم ہمیشہ اعزاز سمجھتے رہے ہیں، ہمسری قومی زندگی کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس ورلڈ کپ کی جیت کو ایک سیاسی شعور سے عاری، متکبّر اور ضدی عمران خان نے اپنی ہوس ِ اقتدار کے لیے استعمال کیا۔ دس سال تک ہر طرح کی بے اصولی کرنے کے بعد بھی جب وہ کامیاب نہ ہوا تواسٹیبلشمنٹ نے اسے اقتدار میں لانے اور ’’پروجیکٹ عمران ‘‘ کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ہر طرح کا غیر آئینی حربہ استعمال کیا گیا۔ اسے نہ صرف اقتدار پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا بلکہ اسکی نا اہلی اور نالائقی کے باوجود قدم قدم پر اسے تحفظ فراہم کیا گیا۔
مگر عمار مسعود کا کہنا ہے کہ عمران خان کی خود نمائی، خود پسندی اور انتقامی کارروائیوں نے ہر ادارے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اس کے تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح بکھر گئے۔ جب اس نے اپنے ہی لانے والوں سے بھی گستاخی کرتے ہوئے اپنی من مانی کرنا شروع کر دی تو انہوں نے مزید رسوائی سے بچنے کے لیے غیر جانبدار ہونے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ جب انہوں نے اپنی بیساکھیاں واپس لے لیں تو عمران خان حکومت دھڑام سے نیچے آن گری۔ عمران کے پاس عوام میں جانے کے لیے کچھ نہیں تھا چنانچہ اس نے ایک نام نہاد ’’امریکی سازش ‘‘ کا واویلا مچانا شروع کردیا اور گوئبلز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوے اتنا جھوٹ بولا کہ خدا کی پناہ۔
خالد جاوید جان بتاتے ہیں کہ پاکستانی فوجی قیادت نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں دو مرتبہ واضح طور پر اس سازش کی تردید کی ہے لیکن عمران گوئبلز کی طرح عوام کو گمراہ کرنے اور جھوٹ کو سچ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ اس کے بیانات خود اس سازشی افسانے کے حوالے سے تضادات کا مجموعہ ہیں۔ کبھی عمران کی جانب سے کہا گیا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے خلاف عدمِ اعتماد کی قرارداد پیش کی گئی ہے، کبھی کہا کہ مجھے جولائی 2021 سے ہی اس سازش کا علم تھا۔ پھر کہا گیا کہ مجھے سازشی خط 7 مارچ 2022کو ملا۔ مگر اسے 27مارچ تک مخفی رکھا گیا۔ گویا خان کی جانب سے جھوٹ پر جھوٹ بولے گئے۔ جب آئینی طریقے سے اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔ تو اسے ناکام بنانے کے لیے آئین پر حملہ کردیا اور غیر آئینی طریقے سے اسمبلیوں کو تحلیل کردیا۔جسے سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے متفقہ طور پر غیر آئینی قرار دے کر بحال کردیا۔ لیکن مرکز اور پنجاب میں جو گھنائونا غیر آئینی کھیل کھیلا گیا، وہ پاکستانی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اس نے اداروں کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔ خالد جاوید جان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اس صورتِ حال کا تدارک نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ پاکستان بھی کہیں گوئبلز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جرمنی جیسی تباہی سے دوچار نہ ہوجائے۔
