عمر اکمل اظہار ندامت کر کے تاحیات پابندی سے بچ جاتے

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے کرکٹر عمراکمل پر تاحیات پابندی لگانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹر نے پیشی کے موقع پر نہ تو کوئی ندامت دکھائی، نہ ہی غلطی مانی اور نہ ہی معافی مانگنے کو تیار تھے بلکہ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ ایک معمولی معاملہ ہے۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل فائیو کے دوران عمر اکمل پر بکیوں سے رابطے کا الزام عائد ہوا تھا جس پر ان کے خلاف کرکٹ بورڈ نے انکوائری شروع کی تھی۔ عمر اکمل نے اس معاملے کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل کو بھیج دیا گیا تھا جس نے کرکٹر پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔ کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل نے 8 مئی کو عمر اکمل کے بارے میں اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق اس پر عائد تین سالہ پابندی میں معطل سزا کی مدت شامل نہیں اور انھیں اپنی سزا کے تین سال پورے ہی کرنے ہوں گے۔ عمر اکمل پر پابندی کا اطلاق 20 فروری 2020 سے ہو گا اور وہ 19 فروری 2023 کو کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے اہل ہوں گے۔ یاد رہے کہ 20 فروری کو پاکستان سپر لیگ کے آغاز کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو عبوری طور پر معطل کردیا تھا۔
عمر اکمل کے خلاف یہ کارروائی پی سی بی کے انسداد کرپشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عمل میں آئی تھی۔ عمر اکمل پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر مشکوک افراد یا ایک فرد کی طرف سے کیے گئے رابطوں کے بارے میں بورڈ یا اس کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہیں کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) فضل میراں چوہان نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ عمراکمل نے اس پورے معاملے میں نہ تو ندامت دکھائی اور نہ ہی اپنی غلطی پر معافی مانگنے کو تیار تھے بلکہ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ ماضی میں اس طرح کے رابطوں سے بورڈ کو مطلع کرتے رہے ہیں۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمراکمل نے اس پورے معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ویجیلنس اینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ اور تحقیقاتی ٹیم سے تعاون نہیں کیا۔ ان کی جانب سے ویجیلنس اینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو بروقت مشکوک رابطوں کے بارے میں آگاہ نہ کرنے کے بارے میں اعتراف ان پر عائد الزامات کو ثابت کرتا ہے۔ عمر اکمل نے اس معاملے کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈسپلنری پینل کو بھیج دیا گیا تھا اور عمر اکمل کو 27 اپریل کو پینل کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ 27 اپریل کو ہونے والی سماعت میں جسٹس (ریٹائرڈ) فضل میراں چوہان کی سربراہی میں قائم پینل نے عمر اکمل پر تین سالہ پابندی کا مختصر فیصلہ سنا دیا تھا۔ مشکوک افراد کی جانب سے کرکٹرز سے رابطے کی صورت میں بروقت اطلاع نہ کرنے کے بارے میں کرپشن سے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ضابطہ اخلاق میں چھ ماہ سے لے کر تاحیات پابندی کی سزا موجود ہے۔
تاہم عمراکمل کے بھائی کامران اکمل نے تاحیات پابندی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تو ان کے بھائی کا کرکٹ کیرئیر ہی ختم ہو جائے گا لہذا بورڈ کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے تھا کہ پاکستان ایک اچھے کرکٹ سے محروم ہونے سے بچ جائے۔
