قندیل بلوچ کے غریب ماں باپ کا خرچہ بند، فاقوں کی نوبت

کپتان حکومت نے بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سے غیر مستحقین کے نام نکالنے کے عمل کے دوران کئی مستحق اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کو بھی امدادی پروگرام سے نکال باہر کیا ہے جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا اور اب وہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
مقتولہ ماڈل قندیل بلوچ کے والد اور والدہ بھی ایسے ہی خاندانوں میں سے ایک ہیں۔ دو کمروں کے گھر میں ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کا کل اثاثہ دو چارپائیاں ہیں لیکن احساس پروگرام چلانے والوں نے قندیل بلوچ کے اس غریب خاندان کو بھی غیر مستحق قرار دے کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال باہر کیا ہے۔ بے نطیر انکم سپورٹ یا احساس پروگرام کے تحت مالی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اب غربت کے شکار قندیل بلوچ کے والدین فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کی حکومت نے پہلے پہل غریبوں کیلئے سہارا سمجھے جانے والے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیا۔ بعد ازاں اس امدادی پروگرام کے تحت اپنے کارکنان کو نوازنے کیلئے غیر مستحق افراد کے نام نکالنے کے نام پر کئی مستحق افراد کی بھی مالی امداد بند کر دی۔ اس مالی امداد کی بندش کی وجہ سے خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے گھروں میں فاقہ کشی نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ دیگر کئی خاندانوں کی طرح کچھ سال قبل غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی ماڈل قندیل بلوچ کے والدین کا نام بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خارج کر دیا گیا ہے جس کے بعد یہ غریب بوڑھے والدین دووقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں۔
قندیل بلوچ کے 2016 میں غیرت کے نام پر اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل کے بعد اس کے گھر والوں کا خرچ بینظیر انکم سپورٹ کے تحت ہی پورا ہوتا تھا کیونکہ قندیل بلوچ کا ایک بھائی بہن کے قتل کے جرم میں جیل میں سزائے موت کا منتظر ہے جبکہ سعودیہ میں مقیم دوسرے بھائی نے والدین سے قطع تعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ قتل ہونے سے قبل گھر کے تمام اخراجات قندیل بلوچ ہی پورے کرتی تھی تاہم بعد از قتل قندیل کے والدین کا تمام تر انحصار بے انظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی مالی امداد پرہی تھا۔
واضح رہے کہ ڈیرہ غازی خان کے دو کمروں کے گھر میں مقیم مقتول قندیل بلوچ کے والد نابینا ہیں جس وجہ سے وہ کوئی کام بھی نہیں کر سکتے اور ان کا علاج بھی سرکاری رقم سے ہوتا تھا جوکہ اب بند کر دی گئی ہے۔ قندیل بلوچ کو 2014 میں اُس وقت شہرت ملی جب ان کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی۔ اس کے بعد یہ عام سی لڑکی سوشل میڈیا پر اسٹار بن گئی۔تاہم اپنی متنازعہ ویڈیوز کے باعث سوشل میڈیا پر تنازعات کا شکار رہنے والی ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا۔
26 سالہ پہلی پاکستانی سوشل میڈیا سٹار اور ماڈل فوزیہ عظیم العروف قندیل بلوچ 16 جولائی 2016 کی صبح جب ملتان میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں تو پاکستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا نے بھی ان کی قتل کی خبر نمایاں طور پر شائع اور نشر کی، جس کی بنیادی وجہ ان کے والد محمد عظیم کا پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لیے دیا جانے والا یہ بیان تھا کہ ان کی بیٹی کو ان کے چھوٹے بیٹے محمد وسیم نے بڑے بیٹے اسلم شاہین کی جانب سے غیرت کے نام پر اکسائے جانے کے بعد قتل کر دیا ہے۔
پولیس نے 16 جولائی کو ایف آئی آر کا اندراج کیا اور اسی دن مدعی کی درخواست پر ایک ضمیمے کے ذریعے پانچ دیگر لوگوں کو جن میں مفتی عبدالقوی، قندیل کا چچازاد بھائی حق نواز، محمد ظفر، ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط اور قندیل کے سعودی عرب میں مقیم بھائی محمد عارف شامل ہیں، کو ملزم نامزد کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ27 ستمبر2019 کو ماڈل کورٹ ملتان کے جج عمران شفیع نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم محمد وسیم کو عمرقید کی سزا سنائی۔ عدالت نے مفتی قوی سمیت کیس کے دیگر پانچوں ملزمان کو شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جبکہ قندیل کے تیسرے بھائی محمد عارف کو اشتہاری قراردے دیا گیا۔
