غریدہ فاروقی کے خلاف گھٹیا مہم کون چلا رہا ہے
صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے سینئر صحافی اور اینکرپرسن غریدہ فاروقی کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی غلیظ مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی بھی صحافی کو اپنا کام کرنے کی پاداش میں ایسی بدتمیزی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘ سی پی جے ایشیا نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ غریدہ فاروقی کے خلاف ہونے والے آن لائن حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور انہیں فوری طور پر روکنے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
یاد رہے کہ غریدہ فاروقی اور ان جیسے دیگر حکومت کے ناقد صحافیوں کے خلاف پچھلے کئی ماہ سے سوشل میڈیا پر شدید بدتمیزی کا طوفان برپا کیا جا رہا ہے اور انہیں گالی گلوچ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسکے علاوہ کپتان حکومت کے ناقد صحافیوں پر بے سروپا الزام تراشی بھی کی جارہی ہے۔ اس مہم میں نہ صرف حکومت کا سوشل میڈیا سیل متحرک نظر آتا ہے بلکہ تحریک انصاف کے حمایتی بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ تاہم غریدہ فاروقی کے خلاف مہم چلانے والے اس مرتبہ اخلاقیات کی تمام حدوں کو پھلانگ گئے اور ان کا تعلق مسلم لیگی ترجمان محمد زبیر کی حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو سے جوڑ دیا۔ غریباں نے اس حرکت کو اخلاقیات کا جنازہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے الزامات لگانے سے پہلے مخالفین کو اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر غریدہ کے زیادہ تر مخالفین کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہمدردی رکھتی ہیں۔ ان کے خلاف تازہ مہم تب شروع ہوئی جب سوشل میڈیا پر لیگی رہنما محمد زبیر کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی. اس یہ ویڈیو وائرل ہونے پر غریدہ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے اس بابت دریافت کیا ہے اور انہوں نے اس ویڈیو کو ’فیک‘ اور ’ڈاکٹرڈ‘ قرار دیا ہے۔
غریدہ نے زبیر کی ویڈیو کے حوالے سے کئی سوالات بھی اٹھائے تھے جس کے بعد ان کے مخالفین نے سوشل میڈیا پر غریدہ کے خلاف ایک منظم ٹرینڈ چلا دیا اور ان پر آن لائن حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کچھ اکاؤنٹس نے یہ بھونڈا الزام بھی لگا دیا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی مبینہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی غریدہ سے مشابہت ہے۔ ان حملوں کا جواب دیتے ہوئے غریدہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ جتنے چاہیں گندے ٹرینڈز بنا لیں، جتنے چاہیے حملے کر لیں، میں اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹوں گی جو میں سمجھتی ہوں کہ درست ہے۔ انھوں نے لکھا کہ میں ایسے گندے ٹرینڈ چلانے والوں کے جھوٹوں کو بے نقاب کرتی رہوں گی۔
دوسری جانب پاکستان کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے بھی غریدہ کے خلاف چلائی جانے والی گھتیا مہم کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی صارفین اینکرپرسن کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کی کی بیٹی اور سینئر صحافی منیزے جہانگیر نے لکھا کہ خواتین صحافیوں پر حملہ کرنا ان کا کام ہے جو سچ سے ڈرتے ہیں اور اپنی نالائقی چھپانے کے لیے بے بنیاد الزامات کے پیچھے چھپتے ہیں۔ ٹی وی اینکر انیقہ نثار نے غریدہ کے خلاف چلنے والی مہم کو ان کی ’کردار کشی‘ قرار دیا اور لکھا کہ جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ خواتین کی بالکل عزت نہیں کرتے اور ان میں ان کے اپنے گھر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ صحافی و تجزیہ کار اویس توحید نے غریدہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں غریدہ کو پچھلے 15 برسوں سے جانتا ہوں، انہوں نے اپنا نام ایمانداری اور پروفیشنل ازم سے بنایا ہے۔ صحافی اجمل جامی نے اینکرپرسن پر ہونے والے آن لائن حملوں کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’کیا آپ ایسے شرمناک ٹویٹس جو غریدہ کے خلاف کیے گئے ہیں، اپنے گھر والوں بالخصوص والدین کو دکھا سکتے ہیں؟
لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پاکستان میں خواتین صحافیوں نے آن لائن حملوں کے حوالے سے شکایت کی ہو۔ پچھلے سال اگست میں 50 سے زائد خواتین صحافیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری افسران ان کے خلاف آن لائن حملوں کے لیے لوگوں کو اکساتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکمراں جماعت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف حکومت کا سوشل میڈیا سیل حکومت کے ناقد صحافیوں کے خلاف منظم مہم چلانے میں پیش پیش ہے۔
