پاکستان میں پٹرول نسبتا سستا ہونے کا دعوی جھوٹا کیوں؟
https://youtu.be/ljp0JpzydHE
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کے باوجود کپتان حکومت نہایت ڈھٹائی سے یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ یہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک سے کم ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت غلط بیانی کر رہی ہے کیونکہ پاکستانیوں کی قوتِ خرید کے تناظر میں اسکا موقف جھوٹ پر مبنی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے پچھلے ایک مہینے کے دوران دو مرتبہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا ہے جو مجموعی طور 9 روپے زائد بنتا ہے۔ حکومتی فیصلے سے اس وقت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں چنانچہ ملک میں اسی حساب سے مہنگائی کا طوفان بھی برپا ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم اکتوبر کو پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 127.30 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 122.04 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 99.31 فی لیٹر ہو چکی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل ہونے والے اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی پر جہاں عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے وہیں حکومت بار بار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ابھی بھی دنیا کے بہت سے ممالک اور خاص کر خطے کے ممالک سے کم ہے۔ اس سلسلے میں خاص کر خطے کے دو ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش کے حوالے دیے جا رہے ہیں جہاں حکومت کے ترجمانوں کے دعووں کےمطابق پاکستان سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے ملک میں پیٹرول کی قیمت دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک خاص کر خطے کے ممالک کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان کے مقابلے میں برطانیہ میں قیمتیں 31 فیصد بڑھی ہیں جب کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت یہاں کم ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی وزیر کے دعوے کے مطابق پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی کم قیمت کا خطے کے دوسرے ممالک سے موازنہ صحیح ہے تاہم یاد رہے کہ یہ موازنہ تب کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں ہے اور پاکستان میں لوگوں کی آمدنی کے ذریعے سکڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح اس وقت آٹھ فیصد ہے جب کہ اس کے مقابلے میں ہندوستان میں یہ شرح 4.6 فیصد، بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد، سری لنکا میں 4.6 فیصد اور نیپال میں 4 فیصد ہے۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ڈالر میں ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دنیا کے دوسرے خطوں میں پٹرول کی قیمت کو پاکستانی روپے میں تبدیل کر کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس کی قیمت ابھی بھی کم ہے جب کہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے۔
معاشی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کے لحاظ سے فی کس آمدن 2227 ڈالر ہے اور انڈیا میں 2191 ڈالر ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں فی کس آمدن 1279 ڈالر ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 127.30 روپے تک جا پہنچی ہے اور اگر ڈالر میں اس قیمت کا تعین کیا جائے تو یہ تقریباً 0.70 ڈالر فی لیٹر بنتی ہے۔
دوسری جانب انڈیا میں پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 105 روپے فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.34 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 230 روپے فی لیٹر بنتی ہے کیونکہ پاکستانی روپے کی قدر انڈین روپے کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 89 ٹکا فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.05 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 178 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں پٹرول کی خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم قیمت کے دعوے اسلیے غلط ہیں کہ ان ممالک میں اتنی مہنگائی نہیں جتنی کی پاکستان میں ہو چکی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت یہ موازنہ صرف پٹرول کی قیمت پر کیوں کر رہی ہے؟ اسے یہ موازنہ تمام روزمرہ استعمال کی چیزوں پر کرنا چاہیے تو پھر پتا چلے گا کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کتنی بلند ترین سطح پر ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کپتان حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس وقت چینی اور گندم کی قیمت انڈیا اور بنگلہ دیش میں کس سطح پر ہے اور پاکستانی عوام اس وقت کس قدر مہنگی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔
