غلطیاں بچے دیتی ہیں لہٰذا مزید غلطیاں نہ کی جائیں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ غلطیاں کبھی بانجھ نہیں ہوتیں، یہ ہمیشہ بچے دیتی ہیں اور پھر یہ بچے بھی دن رات بچے پیدا کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں غلطیاں اور ان کے بچے کافی تعداد میں جمع ہو چکے ہیں چناںچہ اب ہمیں میں غور و فکر کے بعد کچھ اہم فیصلے کر لینے چاہیے ورنہ چند برس بعد اس ملک کا ہر شہری خود سے کہے گا کہ کاش ہم بنگالی ہوتے۔ ہمیں اس وقت سے ڈرنا چاہیئے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ جواہر لال نہرو جب بھارت کے وزیراعظم بنے تو وہ حلف لینے کے بعد مہاتما گاندھی کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا ’’باپو ہم نے انڈیا کو کیسے چلانا ہے؟‘‘ گاندھی نے نہرو کو مشورہ دیا کہ ’’آپ اگر انڈیا کے مقبول ترین وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو دیش میں کبھی آٹا، سائیکل اور سینما کی ٹکٹ مہنگی نہ ہونے دینا”۔ گاندھی رکے اور پھر کہا ’’آٹا غریب کا کھانا ہے، اگر یہ مہنگا ہوگا تو غریب بھوکا ہو جائے گا اور بھوکی عوام حکومت نہیں چلنے دیتی۔ سائیکل غریب کی سواری ہے۔یہ مہنگی ہو گئی تو غریب کا پہیہ رک جائے گا اور اگر غریب کا پہیہ رک گیا تو وہ حکومت کا کوئی سسٹم نہیں چلنے دے گا۔ سینما غریب کی تفریح ہے اور اگر یہ مہنگا ہو گیا تو پھر غریب سرکار کو فٹ بال بنا لے گا، لہٰذا آپ کو کچھ بھی کرنا پڑے سینما‘ سائیکل اور آٹا یہ تینوں کسی صورت مہنگے نہیں ہونے چاہییں‘‘۔ جواہر لال نہرو نے یہ بات پلے باندھ لی لہٰذا آج بھی انڈیا میں سینما، سائیکل اور آٹا سستا ہے اور لوگ کہتے ہیں کی اگر آپ انڈیا کو توڑنا چاہتے ہیں تو بالی ووڈ بند کر دیں اور آٹا مہنگا کر دیں، انڈیا ٹوٹ جائے گا۔ دوسری جانب سائیکل کی جگہ اب موٹر سائیکل نے لے لی ہے اور یہ بھی بھارت میں سستا ہے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم اگر بھارت کو دیکھیں تو ہمیں دو بڑے فیصلے نظر آئیں گے جن کی وجہ سے بھارت آج پاکستان سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ پہلا فیصلہ وہ تھا جب نہرو نے بھارت میں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ بنائے تھے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل طالب علم یونیورسٹیوں میں پروفیسر بنے اور ان لوگوں نے بعدازاں سندر پچائی‘پراگ اگروال‘ ستیانڈیلا اور اروند کرشنا جیسے آئی ٹی ٹائی کونز پیدا کر دیے۔ دوسرا فیصلہ راجیو گاندھی کی جانب سے 1984 میں بنگلور میں سلیکان ویلی کی بنیاد رکھنے کا تھا۔ بھارت نے اس سال کمپیوٹر ٹیکس فری پالیسی بھی لانچ کر دی۔ ان دو فیصلوں نے انڈیا کی معاشی بنیادیں بدل دیں اور نتیجہ یہ کہ آج بھارت میں 237 کھرب پتی موجود ہیں۔ لیکن جاویک کے خیال میں یہ فیصلے بھی اصل فیصلے نہیں تھے۔ بھارت کی اصل مدر انڈسٹری بالی ووڈ تھی لہٰذا کرکٹ ہو یا سلیکان ویلی ہو یہ تمام انڈسٹریز بالی ووڈ کی پراڈکٹ ہیں۔ انڈیا میں اگر بالی ووڈ نہ ہوتا تو آج وہاں ٹاٹا بھی نہ ہوتا۔ برلا بھی نہ ہوتا اور ریلائنس اور امبانی جیسے گروپ بھی نہ ہوتے۔ یہ تمام گروپس بالی ووڈ کی بائی پراڈکٹس ہیں۔
بالی ووڈ کتنی بڑی اور موثر انڈسٹری ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے ایک فیصلے سے لگا لیجیے۔ جنرل مشرف نے 2007 میں پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دی تھی۔ اس فیصلے نے پاکستان میں شاپنگ مالز کی انڈسٹری بھی ڈویلپ کر دی، ریستوران اور کافی شاپس کا کلچر بھی متعارف کرا دیا، فیشن انڈسٹری بھی بنا دی اور ساتھ میں پاکستان کی مری ہوئی فلم انڈسٹری میں بھی جان ڈال دی۔ لیکن پھر ہم نے فروری 2019 میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی جس کے نتیجے میں پاکستانی فلم انڈسٹری سے لے کر شاپنگ مالز تک پوری کی پوری چین بیٹھ گئی۔ ہماری معیشت اس کے بعد اٹھ نہیں سکی۔ آپ اسی طرح پاکستان کی بزنس اینڈ انڈسٹری کی تاریخ کا فلمی دور سے تقابل کر لیں۔ ہماری فلم انڈسٹری تھی تو ملک میں بزنس بھی چل رہا تھا اور انڈسٹری بھی، سوسائٹی میں برداشت، آرٹ، کلچر اور محبت بھی تھی، لیکن جوں ہی فلم انڈسٹری ختم ہوئی اس کے ساتھ ہی پورے ملک کا کلچر بھی برباد ہو گیا۔ چناں چہ آپ دیکھ لیں ایک انڈسٹری، ایک فیصلہ کس طرح پورے ملک کی معیشت اور کلچر دونوں کا مقدر طے کردیتا ہے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان میں بھی تین انڈسٹریز بنائی تھیں اور پوری دنیا ان شعبوں میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ہم نے دفاع پر وسائل لگائے، آج پاکستان دنیا کی بہترین فوج کا مالک بھی ہے اور ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ ہم نے 1980 کی دہائی میں مجاہدین کی پرورش کی اور ان لوگوں نے دنیا کی دونوں سپر پاورز کی ناک رگڑ کر رکھ دی۔ آج دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح 1980 کی افغان روس جنگ سے جا ملتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے جنرل ضیا کے دور میں ملک میں مذہبی اور مسلکی اختلافات کی انڈسٹری بنائی اور آپ آج ہر طرف اسکی لہلہاتی ہوئی فصلیں دیکھ سکتے ہیں۔ آج حالت یہ ہے پاکستان کی ہر مسجد اور مدرسے میں علامہ اقبال کے شعر پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں اور قائداعظم کو رحمۃ اللہ علیہ لکھا اور بولا جاتا ہے لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں علامہ اقبال اگر آج ہوتے اور یہ ’’شکوہ‘‘ جیسی ’’گستاخی‘‘ کردیتے تو یہ معاشرہ انھیں جواب شکوہ لکھنے کی مہلت نہ دیتا۔ علامہ اقبال ہجوم کی نفرت کا شکار ہو جاتے، آپ کو اگر یقین نہ آئے تو شکوہ پڑھ لیں اور اسکے بعد جواب دیں کیا یہ آج کے دور میں لکھا اور پڑھا جا سکتا تھا اور کیا کوئی پبلشر اسے شائع کرنے کی غلطی کر سکتا تھا۔
بقول جاوید چوہدری آج اگر قائداعظم محمد علی جناح ہوتے تو کیا وہ اپنے کتے کے ساتھ تصویر چھپوا سکتے تھے یا سر ظفراللہ خان اور جوگندر ناتھ منڈل کو اپنی کابینہ میں شامل کر سکتے تھے؟ جاوید چوہدری کے بقول مجھے یقین ہے آج اگر جناح حیات ہوتے تو عدالتوں میں فلیگ اسٹاف ہاؤس‘ وزیر مینشن اور مالابار ہل ہاؤس ممبئی کی رسیدیں جمع کراتے کراتے ہلکان ہو چکے ہوتے یا اپنے اثاثوں کو اپنی انکم کے برابر دکھانے کی کوشش میں انتقال کر چکے ہوتے اور قوم ان کے بعد ان کا جنازہ کس مسلک کے تحت پڑھایا جائے جیسی عظیم بحث کا شکار ہو جاتی۔ یہ سب جنرل ضیاء کے لیے ملک گیر انتخابی حلقہ پیدا کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
لہٰذا اس صورت حال میں ضروری ہے کہ ہم ایسی مزید غلطیاں کرنے سے باز آ جائیں۔ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز بیٹھیں اور آئین کو بڑا مان لیں۔ پورے ملک کو قانون کا پابند بنا دیں اور پھر تین چار بڑے فیصلے کر لیں۔ آپ ایک دو انڈسٹریز کو ہر قسم کی ٹیکس ریلیکسیشن دے دیں۔ سوشل میڈیا دنیا کی جدید ترین سائنس ہے۔ آپ اس کی پوری انڈسٹری کو تیس سال کے لیے ہر قسم کے ٹیکس سے چھوٹ دے دیں۔ آپ فلم اور میوزک کی انڈسٹری کو بھی ٹیکس فری کر دیں اور آپ کنسٹرکشن انڈسٹری کو بھی دس سال کی ٹیکس ہالی ڈے دے دیں۔ ایسا یو گیا تو پورے ملک کا معاشی پہیہ چل پڑے گا۔ یہ جو ہم ہر چھ ماہ بعد اپنی پوری پالیسی بدل دیتے ہیں، اس نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ یہ سلسلہ بند کر دیں اور دوسرا مہربانی فرما کر مذہب کو ذاتی فعل قرار دے دیں۔ ملک میں کسی فرد کو دوسرے پر اپنے عقائد تھوپنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ایسا یو گیا تو یہ ملک چل پڑے گا ورنہ دو چند بعد اس ملک کا ہر شہری اپنے منہ سے کہے گا کہ کاش ہم بنگالی ہوتے۔ ہم سب اس وقت سے ڈریں۔
