غیر معمولی گرمی سے پاکستان میں گلیشیئرز پھٹ گے


اس برس اپریل کے مہینے میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پڑنے والی غیر معمولی گرمی کی وجہ سے کئی گلیشیئرز وقت سے پہلے پھٹ گئے ہین جس سے جھیلیں ظاہر ہوگئی ہیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ غیرمعمولی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان بھی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جس کی واضح مثال مارچ اور اپریل میں جون جولائی والی گرمی کی شدت ہے، انکا۔کہنا ہے کہ اس برس تو پاکستان میں موسم بہار آیا ہی نہیں، ماہرین ماحولیات نے پاکستان کے اوسط درجہ حرارت میں 5 ڈگری اضافے کو بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کی وجہ سے ندی، نالوں میں طغیانی اور سیلاب کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق رواں برس اپریل 1961 کے بعد سب سے گرم ترین مہینہ رہا، مارچ اور اپریل معمول سے ہٹ کر 5 ڈگری زیادہ گرم رہے، جسے ماہرین بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں، آئی سی آئی ایم او ڈی سے منسلک گلیشیئر کے ماہرین کے مطابق اپریل میں کم از کم پانچ گلیشیئرز پر جھیلیں وقت سے پہلے نمودار ہوئیں بلکہ کچھ پھٹ بھی چکی ہیں اور ان میں معمول سے زیادہ پانی چل رہا ہے۔عام طور پر اپریل کے مہینے میں گلیشیئرز جھیلیں نمودار نہیں ہوتے، ایسے واقعات جون کے مہینے یا اس کے بعد ریکارڈ کیے جاتے ہیں مگر معمول سے پانچ ڈگری زیادہ درجہ حرارت ممکنہ طور پر کئی قدرتی آفات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ سیٹلائیٹ کی مدد سے دیکھا گیا ہے کہ قراقرم کے علاقے کی نگر ویلی میں واقع بارپو گلیشیئر کی جھیل پھٹ کر سیلاب کی شکل اختیار کر چکی تھی، جبکہ دوسرے گلیشئر آرانڈو پر بھی دو جھیلیں دیکھی گئی ہیں، تیسرے گلیشئر بنارچی پر 5 اپریل کو 3 جھیلیں دیکھی گئیں، اسی طرح چوتھے گلیشئر خردوپین پر اپریل میں ایک، دو، تین نہیں بلکہ کئی چھوٹی بڑی جھیلیں نمودار ہوگئیں، جن میں سے کئی پھٹ کر سیلابی شکل اختیار کر چکی ہین جبکہ کئی اب بھی نمودار ہو رہی ہیں۔ جبکہ پانچویں گلیشئر شیشپر پر بنی جھیل بھی کافی خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں کوئی 2500 سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، قراقرم میں 19ویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک ہندو کش قراقرم کے علاقے میں 370 جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی شکل اختیار کرنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں، گلگت بلتستان کے پورے علاقے میں جھیلیں پھٹنے اور سیلابی ریلے بننے کے 170 واقعات ریکارڈ ہوئے، ان میں سے خردوپین اور کیگر گلیشیئر سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔ ایسے 16 مقامات کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کو مکمل طور پر خطرے کا شکار کہا جا سکتا ہے، بڑھتی ہوئی گرمی پوری دنیا میں ایک مسئلہ ہے اور سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس صدی کے آخر تک پوری دنیا کے اوسط درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے۔ لیکن پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تو درجہ حرارت اس سال ہی پانچ ڈگری بڑھ گیا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ نہ صرف حکومتیں بلکہ عوام بھی اس خطرے کا تدارک کرنے کے لیے آگے بڑھیں، گاڑیوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے، سیاحت کے لیے ایکو ٹورارزم کو فروغ دیا جائے، شمالی علاقہ جات کے رہائشیوں کو ماحول دوست ایندھن پر منتقل کیا جائے کیونکہ لکڑی کا ایندھن اور دھواں گلیشیئرز کیلئے زہر قاتل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خطرہ سر پر منڈلا نہیں رہا بلکہ خطرہ سامنے نظر آ رہا ہے، اور اگر دنیا اوسط درجہ حرارت کو اس صدی کے آخر تک 1.5 ڈگری تک روکنے میں کامیاب نہ ہوئی تو اوسط درجہ حرارت پانچ ڈگری تک بڑھ جائے گا، جس سے دو تہائی گلیشیئرز کا خاتمہ ہو جائے گا۔

Back to top button