نیلم کی فلم ’’چکر‘‘ بالی ووڈ کی چائنا کاپی نکلی

پاکستانی فلم انڈسٹری کو بحال کرنے کیلئے معیاری فلموں کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے اور اس برس عید الفطر پر امید کی جا رہی تھی کہ اچھی فلمیں دیکھنے کو ملیں گی۔ لیکن ندا یاسر کی پروڈکشن میں بننے والی نیلم منیر کے ساتھ فلم ’’چکر‘‘ نے مداحوں کو مایوس کیا ہے، فلم کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کا خیال دل سے نکال دینا چاہئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کے پروڈکشن ڈیزائن، موسیقی، دیگر شعبوں میں ٹائٹ بجٹ کی حکمتِ عملی واضح جھلک رہی ہے، فلم کی سینماٹوگرافی روایتی انداز کی ہے، ڈرون شاٹس سے اس میں جدت کا رنگ بھرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے، موسیقی میں 2، 3 بھرتی کے گانوں سے کام چلایا گیا ہے، آئٹم سونگ کی ویڈیو، سیٹ ڈیزائن اور دھن سب بالی ووڈ کی بھونڈی نقل ہے۔ فلم ’’چکر‘‘ کے موسیقار نوید نوشاد ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ کاسٹ کے نام پر بھی چکر دیا گیا ہے، معروف کرکٹر شعیب ملک کی انٹری اور چند ایک نمایاں چہروں کا استعمال صرف آنکھوں کو دھوکا دینے کے لیے کیا گیا، فلم کی ایڈیٹنگ اتنی بُری ہے کہ کب اس میں ماضی کے سین چل رہے ہیں اور کب حال کو دکھایا جا رہا ہے، آپ اس کو سمجھنے کے چکر میں ہی چکرا جائیں گے۔
فلم کی پروڈیوسر ندا یاسر ہیں، 2020ء میں یہ پوری فلم کراچی میں عکس بند کی گئی جبکہ ایک گیت بلوچستان کے معروف سیاحتی مقام ’ہنگول پارک‘ میں بھی شوٹ کیا گیا ہے، فرید نواز پروڈکشن کے تحت بنائی گئی اس فلم کو پاکستان کے معروف تقسیم کار ادارے ’ایوریڈی پکچرز‘ نے ریلیز کیا، فلم ’چکر‘ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے ادارے کے تحت تقسیم ہونے والی فلموں کو دیکھنے کے چکر میں نہیں پڑتے اور بغیر دیکھے ہی نمائش کے لیے فلموں کو ڈسٹری بیوٹ کردیتے ہیں۔ فلم ‘’چکر‘‘ کی کہانی معروف کہانی نویس اور ڈراما نگار ظفر عمران کی ہے جبکہ یاسر نواز نے اس کا سکرین پلے لکھا ہے، فلم دیکھ کر اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سکرین پلے یاسر نواز نے ہی لکھا ہوگا کیونکہ ظفر عمران کی فنی نفسیات اور ادبی تخلیقات کو مدِنظر رکھا جائے تو یہ کہانی ان کی لکھی ہوئی محسوس نہیں ہوتی۔ فلم کی کہانی میں سب سے مثبت بات کہانی کا مسلسل آگے بڑھنا ہے، ہر تھوڑے مناظر کے بعد کلائمکس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فلم میں کرداروں کے مکالمے انتہائی بچکانہ اور سطحی ہیں، کوئی ایک جملہ، ایک ڈائیلاگ ایسا نہیں ہے جو فلم دیکھ لینے کے بعد دماغ میں رہ جائے، کچھ یاد کرنے کی کوشش کی جائے تو صرف چکر آئیں گے۔
فلم ’’چکر‘‘ کے ہدایت کار یاسر نواز ہیں جن کی ذاتی پروڈکشن میں یہ پہلی فلم ہے، سینماٹوگرافی میں منجھے ہوئے سینماٹوگرافر سلیم داد کی خدمات حاصل کی ہیں، اس کے باوجود فلم کا مجموعی ٹریٹمنٹ ناقص ہے، ڈرون شاٹ قدرے مناسب لگے لیکن باقی پوری فلم روایتی انداز کے فریمز میں رکھ کر شوٹ کر دی گئی، بلکہ ماڈل کے قتل کی واردات اس قدر مضحکہ خیز انداز میں فلمائی گئی کہ اس کو دیکھتے ہوئے تو آپ کو چکر بھی نہیں آتے۔
2 جڑواں بہنوں کے فرق، مرکزی کرداروں کے لباس، بول چال تک درست نہیں ہیں، مثال کے طور پر ایک معاون کردار پنجابی زبان کا لہجہ لیے ہوئے فلم میں کامیڈی کرتا دکھائی دیتا ہے، پھر آدھی فلم میں پہنچ کر اس کا لہجہ اہلِ زبان جیسا ہوجاتا ہے اور وہ بہت عمدہ اُردو بولنے لگتا ہے، ایسی بے شمار غلطیوں سے بھرپور فلم چکر کے نام پر فلم بینوں کو صرف چکر ہی دیا گیا ہے، پھر ایک اور پرانا مسئلہ جو ہماری فلموں کو درپیش ہے کہ فلم ٹی وی ڈرامے کے فریم سے باہر نہیں نکل پا رہی ہے۔
فلم کے نمایاں فنکاروں میں احسن خان، نیلم منیر، جاوید شیخ، محمود اسلم اور خود یاسر نواز شامل ہیں۔ ذیلی کرداروں میں بھی کافی اداکاروں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، نوید رضا اور احمد حسن نے کامیڈی کرداروں کو نبھایا ہے اور ٹھنڈی جگتوں کے ساتھ کام چلانے کی کوشش کی گئی۔ڈراما صنعت کے ان اداکاروں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس میڈیم کے لیے اداکاری کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے، فلم کی جمالیات کے تقاضے پورے کرنا تو دُور کی بات، بنیادی کرداروں سے انصاف بھی نہیں کیا گیا، مایوس کن اداکاری سے بھرپور فلم میں سب اداکار گھن چکر بنے دکھائی دیئے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ ایسی فلمیں بناکر بھی ان فلمسازوں اور فنکاروں کے نخرے آسمانوں پر ہیں۔ اگر یہ واقعی اچھی فلمیں بنانے لگے تو ان کے اسٹارڈم کا کیا حال ہوگا۔ ہماری فلمی صنعت آخری ہچکیاں لے رہی ہے، اگر یقین نہیں آتا، تو یہ فلم سینما میں جاکر دیکھیے، بشرطیکہ یہ فلم آپ کے جانے تک نمائش سے اتر نہ گئی ہو کیونکہ لگتا ہے کہ یہ فلم ایک ہفتے سے زیادہ اسکرین پر نہیں ٹک سکے گی۔
