ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کی شادی کی وجہ واٹس ایپ

ڈرامہ انڈسٹری میں 50 سالہ کیرئیر رکھنے والی اداکارہ، ہدایتکارہ اور پروڈیوسر ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کی 70 برس کی عمر میں شادی پاکستانی معاشرے اور بزرگ افراد کی زندگیوں میں اس نئی سوچ کی عکاس بنی کہ انسان کسی بھی عمر کا ہو، اس کے جذبات اور احساسات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، دونوں 2020 کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے لیکن اب پتا چلا ہے کہ ان کی محبت کی شادی کی بنیادی وجہ واٹس ایپ تھا۔
پی ٹی وی کے مشہور ترین ڈراموں ’وارث‘، ’الف نون‘ اور ’فیملی فرنٹ‘ میں کام کرنے والی ثمینہ احمد پاکستانی فلم، تھیٹر اور ٹی وی ڈراما انڈسٹری سے طویل عرصہ سے منسلک ہیں، ثمینہ کو ان کی خدمات کیلئے 2011 میں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
90 کی دہائی میں اپنے پہلے شوہر فلم ساز وحیدالدین ضیاالدین احمد سے علیحدگی کے بعد ثمینہ نے 2020 میں منظر صہبائی سے دوسری شادی کی، منظر صہبائی معروف پاکستانی فلم ’بول‘ میں اپنی اداکاری کے باعث مشہور ہونے کے بعد سے فلم ’زندہ بھاگ‘ میں بھی جلوہ گر ہو چکے ہیں، ان کی یہ فلم 2013 کے دوران ہالی ووڈ کے معتبر آسکر ایوارڈز کیلئے پاکستان کی جانب سے نامزد بھی کی گئی۔ منظر صہبائی نے پاکستانی ڈرامے ’الف‘ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا اور آنے والے دنوں میں وہ عمرو عیار کی ایک ڈراما سیریز میں بھی جلوہ گر ہوں گے، منظر نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ جرمنی میں گزارا ہے البتہ ثمینہ احمد سے شادی کے بعد وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔۔
70 برس کی عمر میں شادی کرنے والے جوڑے نے ایک مشترکہ انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹنرشپ ایک بہت خوبصورت چیز ہے، اس کا اپنا جادو ہے، زندگی کے اس مرحلے میں جب عمر اتنی زیادہ ہو اور آپ ایک انسان کے قریب ہوں اور ان کے ساتھ زندگی بسر کریں تو کافی کچھ آسان ہو جاتا ہے۔
ثمینہ احمد نے کہا کہ میں نے بہت زندگی اکیلے گزاری ہے، اپنا بیشتر وقت بچوں کی پرورش میں گزارا اور ساتھ میں کام بھی کیا، میں غالباً پاکستان کی ان چند خواتین میں سے ایک ہوں جنہوں نے تب اپنا پروڈکشن ہاؤس بنایا جب خواتین کے لیے یہ عام نہیں تھا۔ البتہ کافی سالوں تک میں نے نہ صرف اداکاری بلکہ پروڈکشن اور ڈائریکشن بھی کی جوکہ اب چھوڑ دی ہے، اداکاری اب بھی جاری ہے۔
ثمینہ کے مطابق زندگی کے اس مقام پر مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں جو ایک خلا تھا وہ اب نہیں ہے، زندگی میں محبت جب ہونی ہوتی ہے ہوجاتی ہے، زندگی کا ایک لمبا عرصہ اکیلے گزارنے کے بعد ایک مضبوط اور خودمختار خاتون ہونے کے باوجود بھی اگر زندگی میں کوئی اتنا اچھا، محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا شخص ملے تو اس سے شادی کیوں نہ کی جائے؟
منظر صہبائی نے بتایا کہ ہم نے باقاعدہ طور پر ایک دوسرے سے اظہار محبت نہیں کیا، ہم جب ایک دوسرے سے ملے اور ہماری بات چیت شروع ہوئی تو ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے درمیان کچھ ہے، ثمینہ نے بتایا کہ محبت کا آغاز ہونے کے بعد منظر جرمنی چلے گئے جہاں وہ پچھلی کئی دہائیوں سے مقیم ہیں، اظہار محبت سے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنے تک واٹس ایپ نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ ہم کچھ عرصے تک باتیں کرتے رہے تب تک جب تک ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ساتھ رہنا ہے، اس میں تقریباً پانچ سے چھ مہینے تک کا عرصہ لگا، اس پر منظر نے ثمینہ کو کہا کہ اس سے زیادہ عرصہ لگا تھا انہیں منانے میں۔ اداکار نے کہا جب میں نے ثمینہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی کہ میرے بچے اور دنیا والے کیا کہیں گے؟ میرے لیے ثمینہ کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ زیادہ اہم تھا، ہمارے معاشرے میں اگر ہماری عمر کے افراد محبت، شادی یا کاروبار کرنا چاہیں تو انہیں آج بھی وہ آزادی نہیں ملتی، معاشرے میں یہ چیز تبدیل ہونی چاہئے۔
