فائز عیسیٰ کیس: صدر مملکت کے اختیار کو چیلنج کر دیا گیا

صدارتی ریفرنس کیخلاف سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور متعدد وکلاء تنظیموں کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر وکلاء تنظیموں کے وکیل افتخار گیلانی نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 209 صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے سے پہلے انکوائری کروائے ۔
سماعت کے دوران افتخار گیلانی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی کا نہیں بلکہ پوری سپریم کورٹ کا مقدمہ ہے ، کراچی سے خیبر تک تمام بار کونسلز اس مقدمے میں عدالت کے سامنے کھڑی ہیں ،سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے کیس اور اس کیس میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ اس کیس میں ملک بھر کے وکلا ء سڑکوں کی جگہ اس عدالت کے سامنے انصاف کے حصول کے لئے کھڑے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی فل کورٹ بنچ نے جمعرات کے روز کیس کی سماعت کی تو خیبر پختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار کے وکیل، افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 209 صدر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ معاملے کو سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے سے پہلے انکوائری کروائے ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ان سے استفسار کیا کہ کیا صدر نے اپنا ذہن استعمال نہیں کرنا؟ تو انہوں نے کہاکہ معاملے میں ایک صفحے کا ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا، کوئی شخص بھی اس عدالت کی عزت و وقار کے ساتھ نہیں کھیل سکتا ، 22کروڑ عوام میں سے کل 17افراد سپریم کورٹ کے جج ہیں ، کیا بغیر کسی ثبوت کے انکی عزت و وقار پر شک یا کوئی سوال اٹھا سکتا ہے ؟ اگر اس عدالت کی عزت ہی نہ ہو تو معاشرے کی عزت بھی نہیں ہوگی ، معاشرے کا وقار اس عدالت کے وقار کے ساتھ وابستہ ہے، یہ مقدمہ ہمیں برا احساس دلا رہا ہے ، اس مقدمے سے عوام کے ججوں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ، عوام بھی اس ریفرنس اور اس پر ہونے والی پریس کانفرنس پرتعجب میں ہے ،انہوںنے کہاکہ ریفرنس پر نہ حکومت اور نہ صدر کے پاس آرٹیکل 209کے تحت تحقیقات کرانے کا اختیار ہے ، صدر صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو انکوائری کا کہہ سکتا ہے ،جس پرجسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ وکلا کے نمائندے اور مختلف بار کونسلوں کے نمائندے ایک دوسرے کے خلاف دلائل دے رہے ہیں، حامد خان نے آپ سے مختلف دلائل دئیے ، جس پر فاضل وکیل نے کہاکہ میرا کام مقدمہ جیتنا نہیں بلکہ عدالت کے ساتھ مل کر معاملے کو سلجھا ناہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ کے مطابق ریفرنس وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے آیا ہے ، آپ کے مطابق ریفرنس میں وزیر اعظم کی سفارش غیر متعلقہ ہے ؟،جس پر فاضل وکیل نے کہاکہ حکومت کو انفارمیشن دینے کا اختیار نہیں ،جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ توبہت دلچسپ دلائل دے رہے ہیں ،فاضل وکیل نے کہاکہ ریفرنس میں کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی سفارش پر یہ شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جارہی ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے استفسار کیا کہ ،کیا وجہ ہے کہ انکوائری کرنے کا فنکشن صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہی دیا گیا ہے؟ تو فاضل وکیل نے کہا کہ اس میں بنیادی نکتہ ہی یہی ہے کہ کسی جج کے خلاف انکوائری صرف جج ہی کر سکتے ہیں ، آئین کسی اور شخص کو کسی جج کی انکوائری کا مجاز نہیں بناتا ، یہ صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہی کا نہیں بلکہ پوری سپریم کورٹ کا کیس ہے، جسٹس افتخار چوہدری کیس اور اس کیس میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ ملک بھر کے وکلا سڑکوں کی جگہ عدالت میں کھڑے ہیں، 2007 کی ایمرجنسی سے قبل بینچ کو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ بلا آنے والی ہے ، ا اللہ ہی رحم کرے اس ملک پر ، انہوںنے کہاکہ جج کی مدت ملازمت کو سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے ، یہی عدلیہ کی آزادی ہے ، قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس میں پہلا قدم ہی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، جج کے خلاف انکوائری صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی کرسکتی ہے نہ کہ صدر پاکستان ، اس ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل سے قبل انکوائری کروانا ایک مجرمانہ فعل ہے،ابھی فاضل وکیل کے دلائل چل ہی رہے تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہوجانے کی بنیاد پر کیس کی مزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔
