نیب نے بلاول بھٹو کو 24 دسمبر کوطلب کر لیا

قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو 24 دسمبر کو طلب کر لیاہے۔ ذرائع کے مطابق بلاول کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں طلب کیا گیا ہے اور انہیں بطور ڈائریکٹر زرداری گروپ بلایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹوزرداری کو جے وی اوپل کمپنی میں ایک ارب سے زائد کی مبینہ منتقلی پر طلب کیا گیا ہے۔ زرداری گروپ میں بلاول بھٹو زرداری 25 فیصد حصص کے مالک ہیں جس پر نیب نے انہیں طلب کیا ہے۔ اس سے قبل بھی بلاول بھٹو پاک لین کمپنی کیس میں نیب کو اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے بیان میں زرداری پاک لین کمپنی کیس میں نیب کے الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
خیال رہے کہ نیب اس سے قبل بھی پی پی چیئرمین کو طلب کرچکا ہے اور وہ متعدد بار پیش ہوچکے ہیں۔
نیب طلبی کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا ردعمل میں کہنا تھا کہ بلاول کو نیب کا نوٹس موصول ہوگیا ہے اور نیب کا بلاول بھٹو کو نوٹس بھیجنا ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ترجمان کے مطابق چیف جسٹس بھری عدالت میں کہہ چکے کہ بلاول بھٹو بے قصور ہیں لیکن مخالفین کو نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جب بھی حکومت بحران کا شکار ہوتی ہے تو مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب بتائے کہ اس نے حکومتی ارکان و وزراء کو کتنے نوٹسز دئیے؟ نیب بتائے حکومتی اراکین اور وزراء کے خلاف کرپشن کیسز کیوں زیرالتواء ہیں؟
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما اور نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ بلاول بھٹو نے پرویز مشرف کے مقدے پر تبصرہ کیا تو نیب نے نوٹس جاری کرکے انہیں طلب کرلیا۔شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ عمران خان نیب کے نوٹسز کے پیچھے چھپنے کے بجائے سامنے کیوں نہیں آتے، کیونکہ جب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت کی نااہلی واضح کرتے ہیں تو نیب متحرک ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کا نوٹس اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سے ڈری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے چیئرمین نیب کا اسکینڈل سامنے آیا ہے جب سے وہ حکومت کے کرپشن کیسز بھول گئے ہیں جبکہ نیب عدالت میں ثبوت پیش نہیں کرتی مگر میڈیا پر ذرائع سے خوب خبریں چلواتا ہے۔سینیٹر شیری رحمٰن نے نیب پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ کردارکشی نیب کا وطیرہ ہے اور اب پاکستان کے عوام نیب کے کردار کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ نیب نے بلاول بھٹو زرداری کو گزشتہ برس بھی متعدد مرتبہ کراچی کی رئیل اسٹیٹ کمپنی پارک لین اسٹیٹ (پرائیوٹ) لمیٹڈ کیس میں طلب کیا تھا اور وہ پیش بھی ہوئے تھے۔رواں برس 20 مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے والد سابق صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب راولپنڈی میں پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرادیے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد سے تفتیش کے لیے مجموعی طور پر 16 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تھیں اور دونوں سے علیحدہ علیحدہ ٹیموں نے نیب کی عمارت میں الگ الگ تفتیش کی جبکہ دونوں رہنماؤں کے آڈیو اور ویڈیو بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی نے دونوں ٹیموں کی قیادت کی، بلاول بھٹو اور آصف زرداری دونوں کو متعدد سوالات پر مشتمل سوالنامے دیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ بلاول بھٹو کے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری کو نیب نے رواں برس گرفتار کیا تھا اور تقریباً 6 ماہ حراست میں رکھنے کے بعد گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب طبی بنیادوں پر درخواست منظور کیے جانے کے بعد رہا ہو کر کراچی آئے تھے۔سابق صدر آصف علی زرداری ناسازی طبع کے باعث طبی بنیادوں پر رہا ہوئے ہیں اور کراچی کے نجی ہسپتال میں ان کا علاج بھی جاری ہے۔
