فاطمہ سہیل اور محسن عباس کی آپسی جنگ میں تیزی آ گئی

ڈی جے محسن عباس کی اپنی سابقہ اہلیہ اداکارہ فاطمہ سہیل سے علیحدگی کے بعد بھی مخاصمت جاری ہے۔ ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں فاطمہ سہیل نے محسن اور اس کی مبینہ گرل فرینڈ کے بارے میں یہ افواہ پھیلا دی کہ دونوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تاہم محسن نے فوری طور پر اپنی تازہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرکے اس تاثر کو زائل کیا اور ساتھ ہی سابق اہلیہ کی اس حرکت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
گلوکارواداکار محسن عباس حیدر نے سابق اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے شیئر کی جانے والی اس خبر کی تردید کی ہے کہ فاطمہ کی ایک پولیس درخواست کے نتیجے میں انہیں اور ماڈل نازش جہانگیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ فاطمہ سہیل نے اپنے تازہ ترین سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے کراچی میں کی جانے والی کارروائی کے دوران محسن عباس حیدراورنازش جہانگیر کو گرفتار کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق محسن عباس کی سابقہ اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی گئی تھی کہ ان کے سابقہ شوہر محسن عباس اور ان کی میبینہ گرل فرینڈ نازش جہانگیر دونوں انہیں سوشل میڈیا پر بلیک میل کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ فاطمہ سہیل نے چند ماہ قبل محسن عباس پر الزامات عائد کیے تھے کہ وہ انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، جس کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی۔ اس سے قبل فاطمہ سہیل کی شکایت پر محسن عباس کو لاہور میں بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت مل گئی تھی۔ فاطمہ سہیل کا کہنا ہے کہ علیحدگی کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے سے محسن عباس اور ان کی دوست ماڈل نازش جہانگیر انہیں آن لائن ہراساں کر رہے ہیں۔ فاطمہ سہیل کی پوسٹ کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے باقاعدہ تحریری درخواست دی جس کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے تفتیش کی اور شواہد حاصل کرنے کے بعد محسن عباس اور نازش جہانگیر کی گرفتاری عمل میں آئی۔دونوں شوبز شخصیات کیخلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے معاملے کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔فاطمہ سہیل کی پوسٹ کے مطابق اُن کی شکایت پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے 21 اگست کو کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے محسن عباس اور ان کی دوست معروف ماڈل اور ایکٹرس نازش جہانگیر کو اُن کے اپارٹمنٹ سے گرفتار کرلیا ہے۔
دوسری جانب اس خبر کے ردعمل میں محسن عباس حیدر نے نازش جہانگیر کے ساتھ آئسکریم کھاتے ہوئے تصویریں شیئر کیں جس پر مداحوں کی بڑی تعداد نے گرفتاری سے متعلق سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ مداحوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے محسن عباس نے کہا کہ وہ جیل میں نہیں جِم میں ہیں،صدف نامی صارف کا جواب دیتے ہوئے محسن نے لکھا کہ اُن کی سابقہ اہلیہ یہ سب محض سستی شہرت کے لیے کررہی ہیں۔ سحرش نے اپنے کمنٹ میں فاطمہ سہیل کی جگہ غلطی سے عائشہ سہیل لکھا تھا جس کی نشاندہی کرتے ہوئے محسن عباس نے لکھا کہ سحرش آپ کو اُن کا نام تک یاد نہیں، کتنی غط بات ہے یہ۔ بعد ازاں محسن نے جِم میں ورک آؤٹ کرتے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں بتایا کہ وہ ورک آؤٹ کررہے ہیں۔
