فاٹا والوں سے کیے گئے وعدے کب وفا ہوں گے؟

قبائلی اضلاع میں انضمام سے پہلے اور بعد بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ قبائلی عوام سے وہ وعدے جو انضمام سے پہلے کئے گئے تھے وہ اب پورے نہیں کئے جارہے۔ جس کے باعث قبائیلوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض قبائلی عمائدین کے مطابق انہوں نے ابتدا سے انضمام کی مخالفت اس بنیاد پر کی تھی کہ حکومت تباہ حال قبائلی اضلاع کے انضمام کا راگ الاپ کر وہاں پر ہونے والی تباہی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔
قبائلی عوام سے انضمام کے وقت وعدہ کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں اضافی رقم دی جائے گی۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں قبائلی اضلاع کے طلبہ کا کوٹہ دو گنا کیا جائے گا۔ اور تو اور دہشت گردی سے قبائلی عوام کے جو مکانات اور کاروبار تباہ ہوئے تھے، ابھی تک نصف سے زیادہ کو وہ معاوضہ بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی حکومت نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔
شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ تاجران کمیٹی کے مطابق حکومت چند من پسند دکانداروں کو معاوضہ دے رہی ہے لیکن اس سلسلے میں جو متفقہ کمیٹی بنائی گئی تھی اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ایسا لگ رہا ہے جیسے اندھا راج چل رہا ہے، جس کی وجہ سے میران شاہ کے تاجروں میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تاجر آئے روز میران شاہ بازار میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں لیکن میڈیا کے اس علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کی آواز قومی دھارے تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ سب اچھا ہے دکھایا جا رہا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے محسن داوڑ نے ان اضلاع کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جسے اکثریت سے پاس کرایا گیا، تاہم اس بل کو ایوان بالا یعنی سینیٹ سے پاس کرانے کےلیے ابھی تک پیش ہی نہیں کیا گیا ہے۔ وجہ کیا ہے کوئی کھل کر اس پر موقف دینے کےلیے تیار ہی نہیں ہو رہا ہے۔
ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین تاج آفریدی کہتے ہیں کہ فاٹا انضمام سے قبل ن لیگ کی حکومت میں وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ قبائلی طلبہ کا ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کوٹہ ڈبل کیا جائے گا لیکن اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور خیبر پختونخوا کی حکومت اس حوالے سے کوئی تعاون نہیں کر رہی۔ طلبہ اور سینیٹ کی سیفران کمیٹی کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے سابق فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل کالجز میں کوٹہ ڈبل کرنے سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے لیکن عمل درآمد کا اندازہ میڈیکل کالجز کے داخلوں کے وقت ہو جائے گا۔
سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے حکومتی جماعت کے سینیٹر ہدایت اللہ بھی قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت سے نالاں ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ اور خیبرپختونخوا حکومت قبائلی اضلاع کا مذاق اڑانے پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو تین بار کہا کہ باجوڑ میں ایک اسکول ہے جہاں پچھلے کئی سالوں سے اسٹاف ڈیوٹی پر ہی نہیں آتا لیکن وزیر اعلیٰ ایک اسکول استاد تک مہیا نہیں کر پا رہے۔
حال ہی میں خیبر پختونخوا حکومت نے مائنز اینڈ منرل گورننس ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے قبائلی اضلاع کی معدنیات کو صوبائی حکومت کے ماتحت کیا جسے اکثر قبائلی رہنما اپنا معاشی قتل سمجھتے ہیں۔ ہاں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں کسی حد تک کمی ہوئی جس کا شاید انضمام سے تعلق ہی نہیں۔
میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع بالخصوص شمالی و جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔ وزیرستان کے متعدد شہری علاقوں میں طالبان کو پھر سے گھومتے دیکھا گیا ہے۔
