فواد چوہدری کے خلاف مبشر لقمان کا الزام جھوٹا ثابت

فواد چوہدری کے خلاف مبشر لقمان کے پروگرام میں ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے حوالے سے وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی کی نازیبا ویڈیوز ہونے کا دعوی کرنے والا نام نہاد صحافی رائے ثاقب کھرل اپنے دعوے سے مکر گیا اور فواد چوہدری سے معافی مانگ لی۔
مبشر لقمان کو تھپڑ اور گھونسے پڑنے کے اگلے ہی روز رائے ثاقب کھرل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے فواد چودھری کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیوز ہونے اور انہیں خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے دعوے کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے فواد چودھری سے معذرت کر لی۔ ٹویٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی ذاتی اور فیملی لائف کو میڈیا پر ڈسکس نہیں کیا جانا چاہیے اور وہ اپنے غلط طرز عمل پر فواد چودھری اور دیگر احباب سے معافی کے طلبگار ہیں۔
دوسری طرف دو زناٹے دار تھپڑ کھانے کے بعد اینکر مبشر لقمان نے وفاقی وزیر فواد چودھری پر 10 سے 12غنڈوں کے ہمراہ حملہ کرنے اور تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن لاہور کے پولیس اسٹیشن میں فواد چودھری کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے درخواست جمع کروا دی ہے۔
ماڈل ٹاؤن تھانے میں دائر اپنی درخواست میں مبشر لقمان نے وقوعہ کے حوالے سے حقائق کو چھپاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں شریک تھے اور اپنے دوستوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ دریں اثنا فواد چوہدری نے 10 سے 12 مسلح غنڈوں کے ساتھ ان پر حملہ کیا۔ مبشر لقمان نے اندراج مقدمہ کیلئے دی گئی درخواست میں الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کے علاوہ قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس واقعے سے قبل فواد چوہدری نے انہیں کال کرکے دھمکیاں دیں کہ اگر انہوں نے الزامات لگانا بند نہ کیے تو وہ انہیں جان سے مار دیں گے۔
اپنی درخواست میں اینکر پرسن نے مطالبہ کیا کہ فواد چوہدری اور اس معاملے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ قانونی کاروائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاون عمران ملک کا کہنا تھا کہ ابھی تک وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ تاہم پولیس فریقین کا موقف سننے کے بعد قانونی دفعات کا تعین کرتے ہوئے اس واقعے کا مقدمہ درج کرے گی۔ دوسری طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مبشر لقمان ہمیشہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں اور انہیں بے عزت کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن کیوں نہ لیا جاتا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ یوٹیوب چینلز اور ٹی وی چینلز پر غیر مصدقہ خبریں پھیلانے اور بدنام کرنے کے لیےمہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے اس بارے میں موثر حکمت عملی ضروری ہے۔ ایسے عناصرکے خلاف سائبر کرائم قوانین کے تحت ایف آئی اے کے ذریعہ کارروائی کو یقینی بنائیں گے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سو کالڈ جرنلسٹس نے اپنا یو ٹیوب چینل پر ہٹس لینے کے لیے یہ بھونڈا طریقہ اختیار کیا ہے کہ وزرا اور باعزت لوگوں پر الزامات لگائیں اور سستی شہرت حاصل کریں۔ ایسے لوگوں کی نہ اپنی کوئی عزت ہے نہ وہ دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے تمام اداروں کوشکایت کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے بعد میں نے خود ایسے عناصر سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔
فواد نے مزید کہا کہ وہ ہر طرح کی تنقید برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی کسی نے ان پر ایسے بیہودہ الزامات لگائے تو اسے میری جانب سے ایسے ہی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ 5 جنوری 2019 کے روز پی ٹی آئی رہنما محسن لغاری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ کی تقریب میں اینکر مبشرلقمان سے آمنا سامنا ہونے پر فواد چوہدری نے جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی کی موجودگی میں مبشر سے یہ سوال کیا کہ تم نے کل رات اپنے چینل پر میرے حوالے سے بے ہودہ الزامات لگائے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ میری حریم شاہ کے ساتھ ویڈیوز تمہارے پاس موجود ہیں۔ مجھے وہ ویڈیوز دکھاؤ۔ جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی ویڈیوز نہیں اور آپ پر الزام تو میرے پروگرام میں موجود مہمان صحافی نے لگائے تھا۔ اس پرفوادچوہدری آگے بڑھے اور مبشر لقمان کو یکے بعد دیگرے دائیں اور بائیں گال پر دو تھپڑ جڑ دیئے۔ زوردار تھپڑ کھاتے ہی مبشرلقمان چکراکر جہانگیر ترین کے پیروں میں گر گئے جس کے بعد فواد چوہدری نے اس کے سینے پر بیٹھ کر گھونسے جڑنے شروع کر دیئے۔ اس پر جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی نے مداخلت کی اور فواد چوہدری کے ہاتھوں مبشر لقمان کی جان چھڑوائی۔
اس سے پہلے 4 جنوری کی رات مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر پروگرام کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں دو وفاقی وزراء کی حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ نازیبا ویڈیو لیک ہونے جارہی ہیں جن میں چوہدری فواد بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب وفاقی وزیر نے کسی اینکر کو تھپڑ رسید کیا ہو، اس سے قبل فواد چوہدری جون 2019 میں بھی معروف اینکر سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button