فواد کا یو ٹرن، کپتان کے پسندیدہ ترکش ڈرامے کی مخالفت

وزیراعظم عمران خان کے خصوصی احکامات پر پی ٹی وی سے نشر ہونے والے ترکش ڈرامے ارطغرل غازی کے مخالفین میں اب حکومتی رکن اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کا بھی اضافہ ہوگیا ہے، جنہوں نے ڈرامے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے سرکاری اور پرایئویٹ ٹی وی چینلز بیرون ممالک سے سستے ڈرامے خرید کر چلانے لگے تو مقامی ڈرامہ انڈسٹری تو بالکل تباہ ہوجائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ارطغرل غازی سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے کے خلاف شان اور ریما جیسی شوبز شخصیات آواز اٹھا چکی ہیں۔
تاہم اب پہلی بار خود حکومتی وزیر فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹس میں حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح ایک سرکاری ٹی وی غیر ملکی ڈرامے نشر کرنے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی ڈراموں کی بجائے غیر ملکی مواد دکھانے پر کس طرح ہمارا سرکاری ٹی وی فخر کر سکتا ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی وی انتظامیہ کو مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں مقامی پروڈکشن ہاؤسز کے تیار کردہ ڈرامے نشر کرنے چاہئیں ورنہ مقامی پروڈکشن ہاؤسز بھی غیر ملکی ڈرامے بنانے لگیں گے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر ملکی ڈرامے خریدنے میں ہمیں سستے پڑتے ہیں مگر ایسے ڈرامے ہمارے لیے طویل المدتی نقصان کا باعث ہیں اور اس سے ہماری میں ڈرامہ انڈسٹری تباہ ہوجائے گی۔
لیکن فواد کی جانب سے کی جانے والی ان ٹوئٹس پر کئی لوگوں نے ان کی تعریف بھی کی۔ گلوکار و اداکار فخر عالم نے بھی ان سے اتفاق کیا اور ان کے بیان کو ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو غیر ملکی ڈرامے نشر نہیں کرنے چاہیے۔ تاہم وفاقی وزیر کی اس ٹوئٹ پر بعض لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور کہا کہ ماضی قریب میں انہوں نے ترکش ڈرامے دکھائے جانے کی تعریف کی تھی اور اب مخالفت کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں ان کا کونسا والا موقع درست ہے۔
لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد فواد حسین نے ایک اور ٹوئیٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ارطغرل غازی زبردست ڈرامہ ہے، ان کی پوزیشن ہمیشہ یہی رہی ہے کہ آپ غیر ملکی ڈرامے چلائیں لیکن اس پر اتنا ٹیکس ضرور ہو کہ ہمارا مقامی ڈرامہ متاثر نہ ہو۔ اگر تمام ٹی وی باہر سے سستے ڈرامے خرید لیں گے تو ہماری تو پوری انڈسٹری بیٹھ جائے گی۔ تاہم فواد چوہدری کی اس ٹوئیٹ پر بھی بعض لوگوں نے ان پر تنقید کی اور انہیں ایک کنفیوزڈ شخص قرار دے دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ارطغرل غازی کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کے خلاف کی جانے والی ٹوئیٹس سے محض چند دن قبل ہی 25 مئی کو فواد چوہدری نے ڈرامے کی تعریف کرتے ہوئے اس کی کہانی سے متعلق ایک ٹوئیٹ کی تھی اور لکھا تھا کہ ارطغرل غازی کے تیسرے سیزن سے نئی ترک ریاست کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے، ارطغرل نے پہلا اصول جو اپنے ساتھیوں کو بیان کیا وہ ابن العربی کی یہ نصیحت تھی کہ کامیاب ریاستوں کو سائنسدان، آرٹسٹ اور تاجر چاہئیں جو مضبوط ریاست کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ فواد کی جانب سے ترک ڈرامے کی تعریف کرنے کے بعد اسے سرکاری ٹی وی پر چلانے کی مخالفت کرنے پر لوگوں نے حیرانی کا اظہار بھی کیا اور فواد چوہدری پر منافقت کا الزام بھی لگایا۔
خیال رہے کہ ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر 24 اپریل سے نشر کیا جا رہا ہے، اس ڈرامے نے پاکستان میں مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے ہیں، ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے۔ ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button