فوج اور ISI پر براڈشیٹ کے الزامات میں کتنا سچ ہے؟

سیکیورٹی ذرائع نے براڈشیٹ کمپنی کے مالک کاوے موساوی کے ان الزامات کو سختی سے رد کیا گیا ہے کہ اس سے خفیہ اثاثے ڈھونڈنے کی ڈیل سائن کرنے کے بدلے کسی پاکستانی جرنیل یا آئی ایس آئی کے عہدے دار نے کمیشن یا کک بیک طلب کی تھی۔ انکا کہنا ہے کہ اس معاملے کو سویلین حکومت دیکھ رہی تھی اور عسکری حکام کا اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
سکیورٹی ذرائع نے موساوی کے الزامات کو فرضی اور گھناؤنی الزام تراشی قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی یے۔

براڈ شیٹ کیس میں پاکستان کو برطانوی عدالت کی جانب سے ساڑھے سات ارب روپے جرمانے سے شروع ہونے والا معاملہ اب پاکستانی سیاسی قیادت کے بعد فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا نظر آتا ہے۔ پہلے پہل تو پاکستانی حکام نے براڈ شیٹ کیس کو شریف خاندان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن صورتحال تب تبدیل ہو گئی جب براڈ شیٹ فرم کے مالک موساوی نے یہ انکشاف کیا کہ نواز شریف کے مبینہ دس ارب روپے کے خفیہ اثاثوں کا سراغ لگانے کا معاہدہ اسے دیے جانے کے عوض ایک فوجی افسر نے اس سے کک بیک کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس مطالبے کو انکی جانب سے تحریری صورت میں وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لانے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہوئی لہذا انہوں نے حکومت پاکستان سے یہ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ براڈ شیٹ کے مالک موساوی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان سے اس حوالے سے لندن میں میجر جنرل مالک نامی جس شخص نے ملاقاتیں کی تھیں اس کا آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید سے پاکستان میں مسلسل رابطہ میں رہنے کا دعوی تھا۔

یہ بھی معلوم ہوا یے کہ براڈ شیٹ کے ایک نمائندے نے اس کیس کے سلسلے میں پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان، مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر اسد عمر سے بھی ملاقاتیں کی تھیں جن کے بعد براڈ شیٹ کے نمائندوں کی تب کے ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید اور دیگر اعلی حکام سے بھی ملاقاتوں کا بندوبست کیا گیا تھا۔

لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ پہلے ہی ایسی دستاویزات سامنے لے آئے ہیں جن میں پاکستان کے اعلیٰ ترین حکومتی و ریاستی عہدیداروں کے  ساتھ براڈ شیٹ کے مالک موساوی اور وکلا  کے ٹیکسٹ میسجز کی تفصیل درج ہے۔ یہ دستاویزات براڈ شیٹ کمپنی نے برطانیہ کی عدالت میں جمع کروائی تھیں جن کی بنیاد پر حکومت پاکستان کے خلاف ساڑھے سات ارب روپے جرمانے کا فیصلہ آیا۔ حکومت پاکستان سے  یہ بھاری بھرکم جرمانہ اب برطانوی عدالت کے ذریعے وصول کیا جا ریا ہے لیکن اس کے باوجود براڈ شیٹ کا مالک موساوی مسلسل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ ترین اور طاقتور ترین عہدیداران پر الزام عائد کیے چلا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک تازہ ترین پیش رفت سینئر صحافی سید طلعت حسین کی ایک ویڈیو ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ افواج پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدیداران کا کہنا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے افسران کا موساوی سے ڈیل کے بدلے کمیشن مانگنے کے دعووں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ معاملہ خالصتاً سویلین حکومت دیکھ رہی ہے۔ طلعت حسین نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی لکھا ہے کہ سکیورٹی ذرائع نے کاوے موسوی کے الزامات کو فرضی اور گھناؤنی الزام تراشی قرار دیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ خود وزیراعظم عمران خان کے علاوہ شہزاد اکبر اور فردوس عاشق اعوان بھی چند روز پہلے تک موساوی کے شریف خاندان کے خلاف الزامات کو اچھالتے ہوئے کریڈیبل قرار دے رہے تھے۔ وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس میں بھی عمران خان نے شہزاد اکبر کو ہدایت کی تھی کہ براڈشیٹ کیس کو پوری طرح اچھالا جائے اور نواز شریف کے خلاف استعمال کیا جائے۔

تاہم پھر پہیہ الٹا گھومنا شروع ہوگیا اور موساوی نے حکومتی اور فوجی شخصیات پر کرپشن کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ اس سلسلے میں براڈ شیٹ کے مالک کاوے موساوی کا سماء ٹی وی پر ندیم ملک کے ساتھ انٹرویو سب سے حیرت انگیز تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ایک جنرل ان سے ملنے کے لئے لندن آئے اور انہیں یہ پیشکش کی کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کر لیں اور وہ ساری معلومات شیئر کریں جو نواز شریف خاندان کے حوالے سے انکے پاس موجود ہیں۔ جب ندیم ملک نے ان سے پوچھا کہ یہ جنرل کون تھے، تو موساوی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کیوں کہ وہ اپنا نام بتانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے کال کی اور کہا کہ ایک وفد ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے، میں ملنے کے لئے راضی ہو گیا۔ تاہم، اس ملاقات میں اس جنرل کے ساتھ ان کی کیا بات ہوئی، اس پر انہوں نے پروگرام کے دوران زیادہ تفصیلاً بات نہیں کی۔ مگر اس کا احوال اب مارچ 2019 میں امریکہ سے لکھے گئے ایک خط میں واضح طور پر سامنے آ چکا ہے۔ اس خط کی کاپی سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے ٹوئٹر پر اپلوڈ کی ہے۔ اس خط میں صرف اسی ملاقات کا نہیں بلکہ بہت سی ملاقاتوں، ٹیلی فون کالوں اور برقی پیغامات کا ذکر ہے۔ اور ان پیغامات میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے افراد کے نام بھی سامنے آتے ہیں جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شامل ہیں۔

اس خط میں ایسے واقعات کا ذکر ہے کہ جب موساوی کو پاکستانی اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے رشوت کی پیشکش کی گئی یا ان سے ریکوری میں سے اپنا حصہ مانگا گیا۔ موساوی کے مطابق برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد وکیل بیرسٹر ظفر علی، کیو سی ان سے رابطے میں رہے اور وہ متعدد پیغامات کے ذریعے اپنی وزیر اعظم عمران خان، مشیر احتساب شہزاد اکبر، اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ISI اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ISI فیض حمید سے ملاقاتوں کا احوال بیان کرتے رہے۔ جس ملاقات کا ذکر موساوی نے ندیم ملک کے پروگرام میں کیا، اس میں بھی ان سے اسی قسم کی گفتگو کی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ آپ کو ہم نیا کانٹریکٹ دیتے ہیں، آپ شریف خاندان کے خلاف تمام معلومات ہمیں فراہم کر دیں۔ اس ’جنرل‘ کے بقول بھی وہ ISI سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ISI پانامہ پیپرز پر پاکستان میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لئے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی JIT میں بھی ملوث ہے اور اس معاملے کو براہِ راست دیکھ رہی ہے۔ موساوی کا دعویٰ ہے کہ وہ اس رشوت کی پیشکش کو اسی وقت ٹھکرا کر یہاں سے نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے ان صاحب کی کافی کا بل تک ادا نہیں کیا کیونکہ وہ ان کے ساتھ کسی قسم کے مراسم نہیں رکھنا چاہتے تھے۔  موساوی کے وکلا کی جانب سے اس خط میں کہا گیا ہے کہ یہ شخص جو خود کو جنرل ملک کہتا تھا، اس نے موساوی سے پوچھا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کو 25 ارب ڈالر اس معاملے میں کیوں ملنے چاہئیں؟ موساوی نے جواب دیا کہ کون سے 25 ارب ڈالر؟ تو جنرل ملک نامی شخص نے جواب دیا کہ پاکستانی حکومت کے مطابق 100 ارب ڈالر ملک سے باہر لوٹ کر باہر لے جائے گے۔ آپ اس دولت کو پاکستان واپس لانے میں مدد دیں گے تو اس میں سے 25 ارب ڈالر آپ کو کیوں ملیں؟ اگر آپ اس میں میرا حصہ دینے کو تیار ہوں تو میں آپ کو ایک نیا کانٹریکٹ دلوا سکتا ہوں۔ موساوی کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ بات سن کر غصے میں فوراً وہاں سے اٹھ کر چلے گے اور اس واقعے کو تحریری طور پر حکومت پاکستان کے نوٹس میں لائے لیکن کسی قسم کا کوئی ایکشن نہ ہوا۔

ایک تازہ انٹرویو میں موساوی نے اپنی توپوں کا رخ کپتان حکومت کی جانب موڑتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے برطانوی عدالت کے ثالثی کے حکمنامے کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی خزانے کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز بطور جرمانہ براڈ شیٹ کو ادا کرنا پڑے ۔ موساوی نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان برطانوی عدالت کے سر انتھونی ایونز کے دسمبر 2020 کے فیصلے کو پبلک کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بدعنوانی کے خلاف جنگ میں عمران خان کی ساکھ کے دعوے کی کوئی اہمیت ہے تو وہ اس فیصلے کو شائع کریں تاکہ پاکستانی عوام اسے پڑھ سکیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں یہ سوچنا شروع کردوں گا کہ وہ قابل اعتبار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button