ریاستی اداروں پر تنقید، جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج

پولیس نے ریاستی اداروں پر تنقید کے الزام میں سینئر سیاستدان اور مسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ پولیس نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیم تشکیل دے دی ہے.
جاوید ہاشمی کے خلاف ملتان کے علاقے تھانہ کینٹ میں 647 نمبر مقدمہ درج کرکے ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ایس ایچ تھانہ کینٹ سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس حوالے سے مؤقف دینے سے انکار کردیا ہے جبکہ جاوید ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی ، پانچ بار ملکی آئین کس نے توڑا ؟ آئین توڑنے والوں کے خلاف بات کرتا رہوں گا، مجھے جیلوں میں ڈال دیں لیکن ضمانت نہیں کرواؤں گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ ہمیشہ حق کی بات کرتے رہیں گے۔ میں وہ آدمی ہو جس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔اگر مجھے جیل میں ڈالیں گے تو اور مزا آئے گا،میں جیل میں کتابیں لکھتا رہوں گا۔اپنے خاندان والوں، قوم کو اور تمام نوجوانوں کو کہوں گا کہ کوئی بھی میری ضمانت کے لیے درخواست دائر مت کرے۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کر ادی ہے۔ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی مسرت جمشید چیمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس ملک دشمنی اور قومی اداروں کے کردار کی اہمیت کے منافی ہے۔اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے ذریعے جاوید ہاشمی غداری کے مرتکب ہوئے،باغی کی شکل میں جاوید ہاشمی حقیقتاً داغی ہے اور ان کے عزائم کسی خاص جماعت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مطالبہ ہے کہ جاوید ہاشمی کیخلاف ملک دشمنی پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشیدچیمہ نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی ،ریاستی اداروں کیخلاف شر انگیز پریس کانفرنس پر جاوید ہاشمی کیخلاف غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے ، جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہیں، شہبازشریف اورمریم صفدر کی پر اسرار خاموشی سے سوالات جنم لے رہے ہیں، اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت سیاست کے ’’داغی ‘‘کی پریس کانفرنس کے پیچھے نہیں تو انہیں اپنی وضاحت دینی چاہیے ،عوام کو سیاست کے نام پر اپنے درمیان چھپی کالی بھیڑوں کو تلاش کرنا چاہیے اور ان کا ناطقہ بند کرنا چاہیے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ پریس کانفرنس میں اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں انتہائی نا مناسب الفاظ ادا کئے گئے ، سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کا مورال نیچے لانے کی کوشش کی گئی ،قوم کا مطالبہ ہے اعلیٰ عدلیہ جاوید ہاشمی کی شر انگیز پریس کانفرنس کا نوٹس لے، پس پردہ حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ ا نہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ،یہ ان کا ملکی سالمیت کے اداروں پر بھی پہلا حملہ نہیں بلکہ تسلسل ہے ،ریاست کے ستونوں اور ملک کی سلامتی کے دفاع کے ادارے کے خلاف پریس کانفرنس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ عوام جان چکے ہیں کون سا میڈیا سیل اور گروپ جاوید ہاشمی کی صورت میں اس طرح کے ’’آئیڈیاز‘ ‘سامنے لاتا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے (ن) لیگ نے پاکستان کی مخالفوں سے اتحاد کر رکھا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button