فوج پر حملوں میں تیزی کے بعد TTP کمانڈرز کی رہائی کا فیصلہ


ایک جانب تحریک طالبان نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد حملے تیز کر دیئے ہیں تو دوسری جانب پاکستانی حکام نے طالبان کے ساتھ ٹوٹے ہوئے مذاکراتی عمل کو دوبارہ جوڑنے کے لیے دو سینئر ٹی ٹی پی کمانڈرز کو خیر سگالی کے اظہار کے طور پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے دو سینئر کمانڈرز کو حکومت اور تحریک طالبان میں ثالثی کاکردار ادا کرنے والوں کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں رہا کر کے تحریک طالبان کی شرط کو پورا کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ امن مذاکرات گزشتہ برس فروری میں شروع ہوئے تھے، جس میں افغان طالبان نے ضامن کا کردار ادا کیا تھا۔ اس حوالے سے افغانستان کے دو علاقوں میں ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی کی شرائط کے تحت 102 قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔ پاکستان نے گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں ٹی ٹی پی کے دو اہم کمانڈروں محمود خان اور مسلم خان کو رہا کرنا تھا، مگر بعد میں یہ رہائی ممکن نہیں ہوئی لیکن طالبان کے قریب کچھ صحافیوں نے تصدیق کی تھی کہ مسلم خان اور محمود خان سمیت کئی قیدیوں کو افغانستان منتقل کیا گیا تھا مگر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

اب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے وابستہ صحافی احسان ٹیپو محسود نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی حکومت نے ٹی ٹی پی کے دو اہم کمانڈرز مسلم خان اور محمود خان کو ثالث کا کردار ادا کرنے والوں کے حوالے کیا ہے تاہم وہ تاحال پاکستان میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں کو ابھی افغانستان منتقل نہیں کیا گیا اور مذاکرات میں کوئی پیش رفت آنے کے بعد ہی ان کو حوالے کیا جائے گا۔

تاہم یاد رہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے تحریک طالبان کے کمانڈرز کو رہا کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک طالبان نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اپریل 2022 کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ اپریل میں عسکریت پسندوں نے 34 حملے کئے جن میں 34 سکیورٹی فورسز کے اہلکار، 13 عام شہری اور 8 دہشت گردوں سمیت 55 افراد ہلاک اور 25 افراد زخمی ہوئے۔ عسکریت پسندوں نے مارچ 2022 میں ملک بھر میں 26 حملے کئے، جس میں 115 افراد ہلاک اور 288 زخمی ہوئے۔ گزشتہ ماہ زیادہ تر حملے سابق فاٹا کے علاقے میں ہوئے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں عسکریت پسندوں نے دس حملے کئے جن میں 12 سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 5 عام شہریوں سمیت 17 افراد ہلاک جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 3 عام شہری اور 3 سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔

بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے چار حملے دیکھنے میں آئے جن میں ایک سکیورٹی فورسز کا اہلکار اور ایک شہری ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار اور چار شہری شامل ہیں۔

سندھ میں عسکریت پسندوں کے چار حملے ہوئے جن میں چار شہری اور ایک عسکریت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے جن میں تین عام شہری اور ایک سکیورٹی فورسز کا اہلکار تھا۔ کراچی میں ہونے والے حملوں میں جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کی وین پر خود کش حملہ بھی شامل ہے۔ پنجاب میں اس ماہ کے دوران کوئی عسکریت پسند حملہ نہیں ہوا۔

Back to top button