لندن اجلاس کا بنیادی ایجنڈا الیکشن نہیں بلکہ معیشت ہے

حکومتی ذرائع نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا ہے کہ لندن میں میاں نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس کا ایجنڈا ملک میں جلد انتخابات کا انعقاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجلاس کا اصل ایجنڈا اس گہری معاشی دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے جو عمران خان کھود کر گئے ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اکتوبر یا نومبر میں نئے الیکشن کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے حکومتی ذرائع نے کہا کہ انہیں غیر ضروری گفتگو کرنے کا شوق ہے حالانکہ وزارت دفاع کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت نئی حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان کی تباہ حال معیشت کی بحالی ہے جس پر فوری نیا الیکشن کروا کر 50 ارب روپے کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی نیا الیکشن کروانے کے بعد بھی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بد حال معیشت ہی ہو گی، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ موجودہ حکومت پاکستان کی معاشی بحالی کے ایجنڈے پر تیزی کے ساتھ عمل پیرا ہو۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے ایسی اطلاعات آ رہی تھیں کہ شاید نواز شریف بھی تباہ حال معیشت سے خوفزدہ ہوکر فوری الیکشن کا موڈ بنا چکے ہیں۔ اس سے پہلے سابق وزیر خزانہ اور نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار نے بھی جلد الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔ لیکن باخبر مسلم لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا بنیادی ایجنڈا پاکستان میں جلد الیکشن کا انعقاد اس لیے بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عمران خان کا مطالبہ ہے۔ یاد رہے کہ جہاں نئی حکومت کو پنجاب میں جاری آئینی بحران سے لے کر بڑھتی مہنگائی، آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات اور عمران خان کے فوری الیکشن جیسے مطالبات کا سامنا ہے، وہیں مسلم لیگ کی 10 رکنی کابینہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے لندن پہنچ چکی ہے۔ لندن جانے والی اس 10 رکنی کابینہ میں وزیرِاعظم شہباز شریف کے علاوہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اور عطا اللہ تارڑ بھی شامل ہیں۔
جہاں ٹیکنالوجی کے اس دور میں دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے سربراہان اور کمپنیوں کی بڑی چھوٹی میٹنگ سے لے کر لیکچرز اور شادیوں میں شرکت تک، سب کچھ ویڈیو لنک پر ہو رہا ہے حتیٰ کے عدالتوں کے فیصلوں سے لے کر جلسے تک آن لائن ہو رہے ہیں، وہیں پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے ٹیکنالوجی کے اس دور میں ویڈیو لنک پر ملاقات کی تجویز مسترد کر دی ہے، اور پارٹی کی سینئر قیادت کو مشاورت کے لیے لندن بلایا ہے۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے رہنما ایک ذاتی دورے پر نواز شریف سے ملنے لندن گئے ہیں اور یہ ملاقات سیاسی مشاورت کے لیے ہو گی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ پارٹی کا وفد ہے اور مسلم لیگ ن میں مشاورتی عمل جاری رہتا ہے۔ بلاوجہ تنقید جاری رکھیں ہم پاکستانی عوام کے لیے جو بہتر ہو گا وہ جاری رکھیں گے۔‘
بیشتر افراد موجودہ حکومت کی فیصلہ سازی میں نواز شریف کے کردار کے حوالے سے سوال پوچھ رہے ہیں اور یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر اہم فیصلے پر مشاورت کے لیے بار بار لندن جانے سے اس حکومت کی شبیہ پر کیا فرق پڑے گا؟
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ خیرسگالی دورہ ہے یا مسلم لیگ کا وفد سیاسی مشاورت کے لیے لندن پہنچا ہے، لندن سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے اسے سیاسی مشاورت ماننے سے ہی انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’قائد سے ملے بہت عرصے ہو گیا تھا اور ہم اپنے قائد سے ملنے آئے ہیں۔‘ عطا اللہ تارڑ نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ کیا وزیراعظم شہباز شریف کو ہر اہم فیصلے سے پہلے نواز شریف سے مشاورت کرنی پڑے گی، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں اور تمام فیصلے ان کے مشورے سے ہی لیے جاتے ہیں اور نواز شریف سے پوچھے بغیر کوئی فیصلے نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیشہ سے ایسے ہی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کا وفد مشاورت کے لیے ہی لندن گیا ہے اور وہاں جانے کا کوئی مقصد نہیں بنتا۔ شاہ محمود قریشی کا ماننا ہے کہ ’حکومت چل نہیں رہی، نظام رک چکا ہے، شاہ محمود کا ماننا ہے کہ ان حالات میں اتحادیوں میں بھی کوئی ربط نہیں نظر آ رہا کیونکہ ’اتحادیوں کے لانگ ٹرم مفادات بھی ایک نہیں ہیں۔‘ وہ پیپلز پارٹی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پی پی پی اتحادی حکومت کا حصہ ضرور ہے لیکن ان کے مفادات مسلم لیگ ن سے منسلک نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول کے کابینہ کا حصہ بننے کے معاملے پر پیپلز پارٹی میں بھی انتشار ہے اور پارٹی بٹی ہوئی ہے۔ شاہ محمود نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن میں بھی دو دھڑے بن چکے ہیں: ایک دھڑا فوری انتخابات چاہتا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جو مشکل فیصلے انھیں کرنے پڑ رہے ہیں ان سے ان کی مقبولیت متاثر ہو گی۔۔۔۔ جبکہ دوسرا دھڑا مدت پوری کرنے کے حق میں ہے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گومگو کی صورتحال ہے۔‘
دوسری جانب وزیراعظم سمیت آدھی کیبنٹ کے لندن جانے کو ناقدین ایک ’بہت بری مثال‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے زیادہ سے زیادہ فون، واٹس ایپ، ای میل پر مشورہ کیا جا سکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے بہت برا تاثر مل رہا ہے کہ ’ملک کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے آپ خود فیصلہ نہیں کر پا رہے اور اپنی کیبنٹ کو لے کر لندن جا رہے ہیں، یہ کس طرح کی فیصلہ سازی ہے؟‘ ناقدین کا ماننا ہے کی شہباز کا دورہ لندن کمزور اور غیر عملی قسم کی فیصلہ سازی کو ظاہر کر رہا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہر بار جب شہباز کو کوئی اہم فیصلہ کرنا پڑے گا وہ اسی طرح لندن جا کر مشاورت کریں گے؟
سینئر صحافی سرل المیڈا نے اس دورے کے حوالے سے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لندن دورے سے بہت برا تاثر مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ ملک کو خاندانی جاگیر کی طرح چلا رہی ہے اور اس میں بھی کوئی خاص کامیاب نہیں نظر آ رہی۔ صحافی غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کیا کہ ’خبر کے مطابق نوازشریف نے ن لیگ کی سینئر قیادت کو لندن طلب کر لیا ہے۔ حکومتی، معاشی، سیاسی اُمور پرغور ہو گا۔ اگرایسا ہوا تو حکومتی ناقدین مخالفین کو تنقید کا ایک اور موقع ملے گا کہ اب حکومت لندن سے بیٹھ کر چلائی جا رہی ہے۔‘ اور غریدہ فاروقی کی بات تب سچ ثابت ہو گئی جب سابق وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن آن سوشل میڈیا ارسلان خالد نے دورے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’مطلب پوری حکومت لندن جا رہی ہے یہ فیصلہ کرنے کہ آگے حکومت کیسے چلانی ہے۔ ایسے تو نہیں لوگ اسے امپورٹڈ حکومت کہہ رہے۔ اس کے تسلط کی طرح تمام فیصلے بھی امپورٹڈ ہیں۔ جناب ایسے تو ایک ضلعی حکومت بھی نہیں چلتی جیسے یہ 22 کروڑ کا ملک چلا رہے۔‘
