فہد حسین کا حکومت میں شامل ہونا جائز ہے یا ناجائز؟

وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں معاون خصوصی کا عہدہ حاصل کرنے والے سینئر صحافی فہد حسین سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ کسی صحافی کو سرکاری عہدہ قبول کرنا زیب نہیں دیتا۔ انکا کہنا ہے کہ اب جبکہ فہد حسین نے ڈان جیسا بڑا اخبار چھوڑ کر ایک حکومتی عہدہ حاصل کر لیا ہے تو ان کا دوبارہ صحافت کے میدان میں واپس آنا نہیں بنتا۔ لیکن ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور ماضی میں نجم سیٹھی، ملیحہ لودھی، شیری رحمان، عارف نظامی، مشاہد حسین اور ارشاد حقانی جیسے سینئر صحافی بھی حکومتی عہدے قبول کرتے رہے ہیں۔
نیا دور میں علی وارثی کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی اور ڈان کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر فہد حسین کو وزیر اعظم کا معاونِ خصوصی کیا تعینات کیا گیا، یوں لگا جیسے کوئی آسمان گر پڑا ہو۔ ہر طرف سے مذمت کے بازار گرم ہونے لگے۔ انصار عباسی نے ایک سیاق و سباق سے ہٹ کر تصویر پوسٹ کی جس میں فہد حسین کی تصویر پر دائرہ بھی لگایا گیا۔ اس تصویر میں فہد حسین اپنے نئے باس شہباز شریف کے سامنے ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے بھائی بضد ہیں کہ اب فہد حسین کے خلاف ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جائے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جن کو فہد حسین سے کوئی تکلیف نہیں، جن سے فہد حسین کی کوئی دشمنی نہیں، جن کی فہد حسین کی رپورٹنگ سے کبھی دل شکنی نہیں ہوئی، جنہوں نے کبھی فہد حسین سے یہ امید نہیں رکھی کہ وہ ساری زندگی ایک ہی نوکری پر رہیں گے، یہیں جئیں گے، یہیں مریں گے۔ اور یہ سب ہم کیوں کریں؟ کیونکہ ہماری پیاری، لاڈلی، راج دلاری قومِ یوتھ چاہتی ہے کہ ہم سب مل کر باجماعت فہد حسین کو مطعون کریں اور ان کی سیاست کو دوام بخشیں۔
نیا دور کی رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا فہد حسین پاکستان یا دنیا کے پہلے، آخری یا انوکھے صحافی ہیں جنہوں نے سرکاری عہدہ لیا ہو؟ کیا دنیا بھر میں صحافی سیاسی جماعتوں کے ترجمان، پی آر کمپنیز کے مالک، پینٹاگون تک کے سرکاری ترجمان نہیں بنتے رہے؟ کیا پاکستان میں یہ پہلا واقعہ ہے؟ کیا تحریکِ انصاف اس قسم کی تمام ‘علتوں’ سے پاک ہے جو آج تحریکِ انصاف کے خیال میں یکایک علتیں بن گئی ہیں؟ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے اٹی پڑی ہے۔ نجم سیٹھی وزیرِ اعلیٰ پنجاب رہے، فاروق لغاری کابینہ کا حصہ رہے، پی سی بی چیئرمین رہے۔ ایاز امیر مسلم لیگ ن کے ایم این اے بھی تھے اور ڈان میں کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ ملیحہ لودھی، شیری رحمان، مشاہد حسین سید، غلام مرتضیٰ پویا اور ایسے درجنوں صحافی ہیں جنہوں نے سیاسی عہدے بھی لیے اور مستقل طور پر صحافت کو خیرباد کہہ دیا، یا بعد میں دوبارہ صحافت میں واپس آ گئے، یا پھر دونوں کام ایک ساتھ جاری رکھے۔ جن لوگوں کو اس تعیناتی سے مسئلہ ہے، ان ناقدین کی فہرست مرتب کرنا درست نہیں کیونکہ دلوں کے حال اللہ ہی جانتا ہے لیکن دوسرے نمبر پر تحریکِ انصاف کو سب سے زیادہ مرچیں لگی ہیں تو ان کی خدمت میں ان کی اپنی پارٹی کے صحافیوں کی ایک چھوٹی سی فہرست حاضر ہے۔ یاد رہے ان میں وہ صحافی شامل نہیں جو پارٹی میں عہدہ لیے بغیر پارٹی کے لئے صحافت کر رہے ہیں۔
نیا دور کے مطابق شیریں مزاری بھی کبھی صحافی ہوتی تھیں۔ صحافت میں سب سے اعلیٰ عہدہ ایڈیٹر کا ہوتا ہے اور یہ ملک کے ایک مؤقر ترین انگریزی روزنامے دی نیشن کی ایڈیٹر تھیں جب انہوں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ عمران کی ناکام حکومت میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق رہیں۔ اسی طرح فواد چودھری نے کیریئر کا آغاز دی فرائیڈے ٹائمز اور ڈیلی ٹائمز جیسے اداروں میں کالم لکھنے سے کیا۔ اس سے پہلے موصوف وکیل بھی تھے مگر ‘ہرچند کہیں ہے کہ نہیں’ والا معاملہ تھا۔ اس کے بعد موصوف مشرف کے ترجمان بنے۔ پھر یوسف رضا گیلانی کے ترجمان ہوئے۔ اس کے بعد صحافت میں واپس قدمِ رنجا فرمایا اور ایکسپریس، اے آر وائے، نیو سمیت متعدد چینلز کی رونق بڑھانے کے بعد پی ٹی آئی کو پیارے ہوئے اور وزیرِ اطلاعات اور وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی لگے۔
سابق وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود صحافت اور سیاست لگاتار گذشتہ قریب دو دہائیوں سے کرتے آ رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں یہ صاحب وزیر تعلیم کے اعلیٰ عہدے پر رہے اور آج کل اقتصادی امور پر پارٹی کے ترجمان ہیں۔ ماضی میں یہ عمران کی پارٹی کے حق میں بلاگ وغیرہ لکھا کرتے تھے۔ معیشت پر ان کے بلاگز اب بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔
کچھ ایسا ہی معاملہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بھی ہے۔ موصوف اینکر بھی تھے، عالم آن لائن بھی، وفاقی وزیر بھی۔ پھر صرف عالم آن لائن بن گئے۔ پھر ساتھ نیلام گھر ٹائپ کے ایک شو کے میزبان بھی بن گئے۔ پھر دوبارہ ایم این اے بھی بن گئے اور بدستور پروگرام بھی جاری رکھا۔ اسی طرح رؤف حسن نجانے کب سے عمران خان کے حق میں کالم پر کالم لکھتے چلے آ رہے تھے۔ اللہ نے ان کی بھی سنی۔ عمران خان دور میں عین اسی عہدے پر فائز ہوئے جس پر آج فہد حسین کو فائز کیا گیا ہے۔ مجال ہے جو کسی انصافی کی چوں بھی نکلی ہو۔ نکلے بھی کیوں؟ مگر فہد حسین ہی کے لئے یہ نئے قوانین کس لئے؟
ان کی شان میں بس اتنا ہی لکھا جانا کافی ہے کہ 2018 کے جو تاریخی انتخابات ہوئے تھے، جن کے صدقے میں ہمیں عثمان بزدار جیسا نیک سیرت وزیر اعلیٰ پنجاب ملا، یہ حسن عسکری رضوی کی ہی نگران وزارتِ اعلیٰ کے تحت ہوئے تھے۔ آج کل دنیا نیوز پر پروگرام تھنک ٹینک کے مستقل تجزیہ کار ہیں۔ یوسف بیگ مرزا بھی عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا کے عہدے پر رہے۔ یہ اب ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں۔ ماضی میں متعدد ٹی وی چینلز سے منسلک رہے ہیں۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی تک رہ چکے ہیں۔
طاہر خان نیوز ون کے مالک تھے۔ عمران خان کے مشیر تھے۔ پھر ان کے چینل سے ہی نیب چیئرمین کی وہ مشہورِ زمانہ مبینہ آڈیو ٹیپس لیک ہوئیں اور عہدے سے ہٹا دیئے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے چینل کی اسی مہربانی کا صدقہ تھا کہ عمران خان جب تک وزیر اعظم رہے، ان کے ارکانِ اسمبلی نیب کی ہر طرح کی دست درازیوں سے محفوظ رہے۔ ایسا ہی معاملہ علیم خان کا بھی ہے جو ماضی میں پی ٹی آئی کے پنجاب میں سینئر وزیر تھے اور اب سماء ٹی وی کے مالک بن چکے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ فہد حسین نے ڈان جیسا بڑا اخبار چھوڑ کر ایک حکومتی عہدہ حاصل کر لیا ہے تو ان کا دوبارہ صحافت کے میدان میں واپس آنا نہیں بنتا۔
