فیروز خان اور علیزے سلطان کے مابین قانونی جنگ تیز تر

معروف اداکار فیروز خان اور ان کی اہلیہ علیزے سلطان کے مابین طلاق کے بعد بچوں کی حوالگی کے معاملے پر قانونی جنگ میں تیزی آگئی ہے اور فیروز نے اپنی سابق اہلیہ کے خلاف عدالت کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی درخواست دائر کردی ہے جس پر عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے۔

علیزے سلطان اور فیروز خان کے درمیان بچوں کی حوالگی اور انکے اخراجات بارے دو الگ الگ کیسز فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، جن کی یکم نومبر کو ہونے والی سماعت پر فیروز خان نے ایک نئی درخواست دائر کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیروز کے وکیل فائق جاگیرانی نے بتایا کہ انہوں نے عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کردی، جس پر انہیں آئندہ سماعت پر دلائل دینے کے لیے طلب کرلیا گیا۔سماعت کے بعد علیزے سلطان کے وکیل قائم شاہ نے بتایا کہ فیروز خان کی درخواست پر عدالت نے اعتراض کرتے ہوئے ان کی وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل کے لیے طلب کرلیا ہے، اب اداکار کے وکیل عدالت میں ثابت کریں گے کہ علیزے سلطان نے کس طرح عدالت کو گمراہ کیا؟ میڈیا سے بات کرتے ہوئے دونوں وکلا نے بتایا کہ بچوں کی حوالگی اور ان کے اخراجات سے متعلق چلنے والے دونون کیسز میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ اب بچوں کے اخراجات کے حوالے سے کیس کی سماعت 5 نومبر جب کہ حوالگی کے کیس کی سماعت 27 نومبر کو ہو گی۔ بچوں کے اخراجات کا کیس علیزے نے دائر کر رکھا ہے جب کہ بچوں کی حوالگی کا کیس فیروز نے دائر کیا ہے اور دونوں کا کیس ایک ہی عدالت میں ہے اور دونوں کیسز کی سماعت کے دوران ہی فیروز کے وکیل نے تیسری درخواست دائر کی ہے، جس پر عدالت نے دلائل کے لیے وکلا کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران علیزے سلطان نے عدالت میں خود پر تشدد کی پولیس اور میڈیکل رپورٹس جمع کروانے سمیت تشدد کی تصاویر بھی جمع کروائی تھیں، جس کے بعد ان پر تشدد کی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں اور شوبز شخصیات نے فیروز خان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔فیروز نے شوبز شخصیات کی تنقید کے بعد خود پر لگے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اب انہوں نے کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ علیزے سلطان نے عدالت کو بھی غلط رپورٹس جمع کرواکر کورٹ کو گمراہ کیا۔

تاہم اسی حوالےسے علیزے سلطان کے وکیل نے بتایا کہ جن لوگوں کو ان کی موکل کی رپورٹس پر شک ہے وہ خود تھانے اور ہسپتال جا کر رپورٹس چیک کریں، سماعت کے بعد علیزے سلطان کے بھائی نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس تشدد کی بہت ساری تصاویر ہیں مگر وہ اپنی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے انہیں شیئر نہیں کر رہے، انہوں نے سوشل میڈیا پر کچھ شیئر نہیں کیا جو لوگوں نے تصاویر شیئر کی تھیں وہ کورٹ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ علیزے سلطان اور فیروز خان کے درمیان ستمبر کے آغاز میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں نے 21 ستمبر کو سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا تھا کہ ان کے درمیان 3 ستمبر کو طلاق ہوگئی۔ دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی اور ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش 2019 جب کہ رواں برس کے آغاز میں جوڑے کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان گزشتہ دو سال سے اختلافات کی خبریں تھیں مگر پھر ان کے ہاں رواں برس دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد خیال کیا گیا کہ ان کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے لیکن پھر ستمبر میں دونوں نے طلاق کی تصدیق کی۔

Back to top button