فیس ماسک پہنے ہوئے ڈکیت پولیس کے لئے چیلنج بن گئے


کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کےلیے جاری کردہ ضابطہ کار کے تحت ماسک پہننا لازمی ہے تاہم اب ماسک کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والوں کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے کیوں کہ بیشتر بری وارداتوں میں ڈاکوؤں نے فیس ماسک پہنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انکی شناخت میں پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔
معلوم ہوا کہ حالیہ مہینوں میں لاہور شہر میں 400 سے زائد ایسی وارداتیں ہوئی ہیں جن میں ڈاکوؤں نے واردات کے وقت فیس ماسک پہن رکھے تھے لہذا پولیس ان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے اور وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کم از کم کم از کم 22 افراد قتل بھی ہو چکے ہیں۔ پولیس کے لیے بڑا مسلہ یہ یے کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے فیس ماسک پہنے ہوئے ڈاکوؤں کی شناخت نہیں کر پارہے جس کا فائدہ ڈاکوؤں کو براہ راست پہنچ رہا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یکم مارچ سے یکم جون تک تین ماہ کے دوران لاہور شہر میں ڈکیتی کی 630 وارداتیں ہوئیں جس میں 400 سے زائد وارداتوں میں ڈاکوؤں نے فیس ماسک کا استعمال کیا اور صاف بچ نکلے۔ ریکارڈ کے مطابق ڈاکوؤں نے اپنی شناخت چھپانے کےلیے فیس ماسک کا استعمال کیا اور ڈکیتی کے دوران سی سی ٹی وی کیمرے کی پروہ کیے بغیر دیدہ دلیری سے واردات کو سر انجام دیا۔
اس تمام تر صورت حال میں ڈی آئی جی آپریشن پنجاب سہیل سکھیرا کہتے ہیں کہ ڈکیتی کی وارداتوں کے طریقہ کار میں تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ڈاکو اب اکثر وارداتوں میں فیس ماسک استعمال کررہے ہیں۔ چونکہ جگہ جگہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوتے ہیں اس لیے بھی ان کی واردات کے طریقوں میں فرق آ گیا ہے اور وہ شناخت چھپانے کے لیے فیس ماسک اور ہیلمٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس سے پولیس کے لیے ڈاکوؤں کو شناخت کرنے کے حوالے سے مشکل پیدا ہورہی ہے؟ سہیل سکھیرا کا کہنا تھا ایک حد تک تو فرق پڑا ہے لیکن پولیس کے پاس ایسے روایتی طریقے بھی موجود ہیں، جن کی مدد سے ایسے ڈکیتوں کے گروہ پکڑے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس کا جاسوسی کا نظام بہت اچھا ہے اور جب بھی بھی کوئی نیا گروپ متحرک ہوتا ہے تو پولیس کے مخبر بھی ایکٹیو ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پولیس نے ڈکیتون کا ایک گینگ پکڑا ہے جس نے پنجاب میں دس ڈکیتیوں کا اعتراف کیا ہے جن میں سے بیشتر وارداتیں انہوں نے ماسک پہن کر ہی کی تھیں۔ تاہم سہیل سکھیرا کا کہنا ہے کہ اگر اعداد وشمار دیکھے جائیں تو رواں سال پچھلے سال کی نسبت ڈکیتی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پورے پنجاب میں پہلے دو مہنیوں میں 700 وارداتیں کم ہوئی ہیں۔
انہون نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑی ڈکیتی کی وارداتیں جن میں پانچ سے زائد مسلح افراد شامل ہوں، ایسی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈکیتی کی چھوٹی وارداتوں میں قدرے اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن ملزمان کو پکڑنے کا تناسب بھی نیچے نہیں آیا، ماسک کا وقتی طور پر ڈاکوؤں کو فائدہ ہوتا ہے لیکن بہرحال پکڑے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ بزدار کے دور میں لاہور میں چوری، ڈکیتی، رہزانی اور زیادتی جیسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور وہ خود کو سڑکوں کے علاوہ گھروں میں بھی غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں جس تیز رفتار سے پولیس افسران کے تبادلے ہوتے ہیں اور صوبے کا آئی جی بدلا جاتا ہے، اسکا فائزہ ڈکیتوں کو ہوتا ہے کیونکہ پولیس کی چین آف کمانڈ میں بار بار تبدیلی آنے سے افسران کا مورال ڈاون ہوتا ہے اور ان کی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button