وینا ملک کی شوہر سے لڑائی میں ISI کہاں سے آئی؟

طلاق کے بعد دو بچوں کی حوالگی کے معاملے پر اداکارہ وینا ملک اور ان کے شوہر اسد خٹک کے مابین جاری جنگ میں اب آئی ایس آئی کا نام بھی آ گیا یے اور اسد خٹک نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد سے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کو وینا کی مدد کرنے سے روکا جائے۔ اسد خٹک نے دعویٰ کیا کہ وینا ملک بچوں کی حوالگی کے معاملے میں انہیں فوج، آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کے نام لے کر ڈرا اور دھمکا رہی ہیں، لہذا آرمی چیف کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ ان کے نجی معاملہ میں دخل اندازی نہ کرے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اداکارہ وینا ملک کے سابق شوہر کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر وزارت خارجہ کو عدالت میں جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دے دی ہے۔ اسد خٹک نے الزام لگایا تھا کہ وینا نے دبئی میں پاکستانی قونصل خانے میں تعینات خفیہ ایجنسی کے ایک طاقتور اہلکار کی مدد سے غیر قانونی طور پر ان کے دونوں بچوں کو دبئی سے پاکستان سمگل کیا اور اس سلسلے میں اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا۔ اسد خٹک کی دائر کردہ درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی اور وزارت خارجہ کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت دے دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ دفتر خارجہ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بچوں کو پاکستان سمگل کروانے کے الزام پر اپنا جواب جمع کروائے۔ اس سے پہلے اسد خٹک کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسد 5 سالہ امل اور 6 سالہ ابراہم کے والد ہیں اور دونوں بچے امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اسد اور ان کی سابق اہلیہ زاہدہ ملک المعروف وینا ملک کے درمیان متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی کی ایک عدالت میں ازدواجی مسائل سے متعلق ایک کیس تاحال زیر سماعت ہے۔ اس دوران دبئی کی عدالت نے 4 اپریل 2018 کو احکامات جاری کیے تھے کہ ان کے بچوں کو دبئی کی حدود سے باہر نہیں لے جایا جا سکتا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ وینا ملک نے دبئی میں موجود پاکستانی قونصل خانے کے ایک سینئیر افسر کے تعاون سے غیر قانونی طور پر ان کے دونوں معصوم بچوں کو پاکستان منتقل کیا اور اب ان کو غائب کر دیا گیا ہے اور انہیں ان سے باپ ہونے کے باوجود ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کے متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ تاہم عدالتی ہدایت کے باجود وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں جمع کرایا گیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وینا ملک کا ساتھ دینے والا طاقتور شخص خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے۔
دوسری جانب وینا ملک کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی عدالت نے بچوں کی تحویل ان کے سپرد کر رکھی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے پر ایک دوسرے کو ہرجانے کے نوٹس بھی بھجوا رکھے ہیں جب کہ وینا ملک نے لاہور کی عدالت میں سابق شوہر کے خلاف ایک ارب ہرجانے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ وینا ملک کا دعویٰ ہے کہ 25 ستمبر 2019 کو راولپنڈی کے فیملی جج افضال احمد ثاقب نے بچوں کی تحویل ان کے سپرد کی تھی، تاہم اسد خٹک کا دعویٰ ہے کہ دبئی کی عدالت نے بچوں کو دبئی میں ہی رکھنے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ اسد خٹک نے اپنی سابقہ اہلیہ اور متحدہ عرب امارات میں تعینات قونصل جنرل اور دیگر افسران پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد سے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دبئی کی عدالت نے بچوں کی حوالگی کا فیصلہ ان کے حق میں دیتے ہوئے دبئی حکومت کو ہدایات دی تھیں کہ اسد کے بچے دبئی سے باہر نہیں جانے چاہئیں اور ابھی تک تکنیکی اعتبار سے ان کے بچے وہاں سے باہر نہیں گئے، لیکن وینا ملک نے وہاں تعینات پاکستانی قونصل جنرل کی مدد سے ان کے بچوں کو اغوا کر لیا اور پاکستان پہنچا دیا۔
اسد نے دعویٰ کیا کہ دبئی میں مقیم قونصل جنرل امجد علی نے وینا ملک کے کہنے پر ان کے بچوں کے آؤٹ پاس دستاویزات بنائیں جو صرف ایمرجنسی میں ہی بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوں کہ ان کے بچوں کے پاسپورٹ دبئی حکومت نے تحویل میں لے رکھے تھے، اس لیے وینا ملک کے کہنے پر دبئی میں مقیم پاکستانی قونصل جنرل نے آؤٹ پاس بنا کر ان کے بچوں کو دبئی سے پاکستان منتقل کروایا جو ایک غیر قانونی کام ہے۔ اسد خٹک نے اپنے بچوں کو غیر قانونی طریقے سے پاکستان منتقل کیے جانے کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ معاملے کی تفتیش کروائیں اور انہیں انصاف دلوائیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ وینا ملک انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سنگین قسم کی دھمکیاں دیتے ہوئے فوج اور آئی ایس آئی کا نام بھی استعمال کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اسد خٹک اور وینا ملک نے 25 دسمبر 2013 کو شادی کی تھی اور دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔ تاہم تعلقات خراب ہونے پر محض 4 سال بعد 2017 میں دونوں میں طلاق ہو گئی تھی۔
